?️
سچ خبریں:امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد کانگریس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے خلاف پانچ اہم معاملات پر تحقیقات شروع ہونے کا امکان ہے، جن میں ٹرمپ خاندان کے مالی مفادات، جیفری ایپسٹین کیس، ایران کے خلاف جنگ، محکمہ انصاف کے اقدامات اور امریکی وفاقی قرضہ شامل ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس ٹرمپ کے ساتھ ایک نئے سیاسی محاذ آرائی کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ یہ کشمکش صرف صدر کی پالیسیوں کو روکنے تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ ان کے اور ان کے خاندان کے کاروباری معاملات، امیگریشن پالیسی، ایران کے خلاف جنگ اور حکومتی کارکردگی کی وسیع تحقیقات تک پھیل سکتی ہے۔
ڈیموکریٹس نے انتخابی مہم کے دوران زیادہ تر مہنگائی اور علاج معالجے کے اخراجات کو موضوع بنایا تھا، تاہم پارٹی کے سینئر ارکان کانگریس کی کمیٹیوں میں کئی ماہ سے تحقیقاتی دستاویزات اور ممکنہ گواہوں کی فہرستیں تیار کر رہے تھے۔ ان کا بنیادی منصوبہ کانگریس کے نگرانی اور تحقیقاتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے یہ جانچنا ہے کہ آیا ٹرمپ نے اپنے عہدے کو ذاتی، خاندانی یا سیاسی اتحادیوں کے مالی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ فی الحال ڈیموکریٹس کی قیادت فوری طور پر مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے بجائے تحقیقات کو ترجیح دیتی دکھائی دیتی ہے۔
1۔ ٹرمپ اور ان کے خاندان کی دولت، کاروبار اور امیگریشن پالیسی
ٹرمپ خاندان کی کاروباری سرگرمیاں ڈیموکریٹس کی تحقیقاتی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ ڈیموکریٹ رکن کانگریس رابرٹ گارسیا نے اسے نگرانی اور حکومتی اصلاحات سے متعلق کمیٹی کی اہم ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
اسی طرح جیمی راسکن، جنہیں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ایوانِ نمائندگان کی عدالتی کمیٹی کا سربراہ بنائے جانے کی توقع ہے، رشوت ستانی، مفادات کے ٹکراؤ اور ذاتی فائدے کے لیے سرکاری عہدے کے مبینہ استعمال کے الزامات کی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں۔
ان تحقیقات میں ٹرمپ خاندان کی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ کاری، خاندان سے وابستہ کمپنیوں کو ملنے والے سرکاری معاہدے، صدر کے منصوبوں کے لیے مالی معاونت اور ٹرمپ کی جانب سے دی گئی معافیوں کے معاملات شامل ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر یہ دیکھا جائے گا کہ آیا بعض معافیاں مالی یا سیاسی مفادات کے تحت دی گئیں۔
اس سلسلے میں ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ کے معاملات میں خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر کا نام بھی نمایاں ہے۔ وہ سرمایہ کاری کمپنی ’’افینٹی پارٹنرز‘‘ کے سربراہ ہیں۔ راسکن نے گزشتہ اگست میں کشنر سے ان کی سفارتی ذمہ داریوں اور ذاتی سرمایہ کاری کے درمیان تعلق سے متعلق دستاویزات طلب کی تھیں۔ اس معاملے میں البانیہ میں 12 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کے ایک رئیل اسٹیٹ معاہدے کا بھی جائزہ لیا گیا۔
راسکن نے اکتوبر کے اواخر میں دوبارہ مطالبہ کیا کہ کشنر اپنے مالی مفادات کی تفصیلات واضح ہونے تک مذاکرات کی ذمہ داریوں سے الگ ہو جائیں۔ ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ان کمپنیوں کے ساتھ مالی روابط بھی تحقیقات کا موضوع بن سکتے ہیں جنہیں سرکاری معاہدے یا مالی وسائل ملے ہیں۔
امیگریشن کے شعبے میں ڈیموکریٹس امریکی ادارہ برائے امیگریشن و کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی کارروائیوں کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ تحقیقات میں طاقت کے مبینہ غیر ضروری استعمال، حراستی مراکز کے نامناسب حالات اور امیگریشن قوانین کے نفاذ کے دوران امریکی شہریوں کی ہلاکتوں جیسے معاملات شامل ہوں گے۔
نجی کمپنیوں کو تارکین وطن کے حراستی مراکز چلانے کے لیے دیے گئے معاہدوں اور ملک بدری کی استعداد بڑھانے سے متعلق حکومتی سمجھوتوں کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ راسکن اور ڈیموکریٹ سینیٹر الزبتھ وارن سمیت کانگریس کے متعدد ارکان پہلے ہی چھ کمپنیوں سے ان کے متوقع منافع، سیاسی دباؤ اور انتخابی عطیات سے متعلق معلومات طلب کر چکے ہیں۔
2۔ جیفری ایپسٹین کا معاملہ
امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کا معاملہ ڈیموکریٹس کے لیے حساس اور متنازع ترین تحقیقاتی موضوعات میں شامل ہے۔ اس کیس سے متعلق لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری ہونے کے باوجود امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے بعض ریکارڈ سامنے نہ لانے پر اختلافات برقرار ہیں۔
ایوانِ نمائندگان کی عدالتی کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے 26 اکتوبر کو ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس میں ٹرمپ کے ایپسٹین سے تعلقات اور محکمہ انصاف کی جانب سے شواہد اور متاثرین کی گواہیوں سے نمٹنے کے طریقے پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد خصوصی تفتیش کار مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ ٹرمپ اپنے خلاف عائد الزامات مسترد کرتے ہیں۔
ڈیموکریٹس اب مزید دستاویزات کے اجرا کا مطالبہ کر سکتے ہیں، محکمہ انصاف کے عہدیداروں اور ایپسٹین کے ساتھ مالی لین دین کرنے والے اداروں کو وضاحت کے لیے طلب کر سکتے ہیں اور ٹرمپ سے پوچھ گچھ کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔
3۔ ایران کے خلاف جنگ اور پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش
ایران کے خلاف جنگ بھی ڈیموکریٹس کی تحقیقاتی ترجیحات میں اہم مقام رکھتی ہے۔ وہ خاص طور پر اس بات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں کہ امریکی صدر کو جنگ شروع کرنے کے کیا اختیارات حاصل تھے، فوجی کارروائیوں پر کتنا خرچ ہوا، کتنے جانی نقصانات ہوئے اور حملوں سے پہلے کیا منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی میں ڈیموکریٹس کے سینئر رکن گریگوری میکس نے اس سے قبل مارچ میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ جنگ سے قبل ہونے والے مذاکرات اور فوجی و سفارتی منصوبہ بندی کے بارے میں وضاحت لی جا سکے۔
میکس نے جون میں ایران کے ساتھ مفاہمت کی دستاویزات کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔ انہوں نے جوہری ضمانتوں، پابندیوں، سکیورٹی انتظامات اور مستقبل کے مذاکرات سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔
ڈیموکریٹس پینٹاگون میں ہیگسیتھ کی کارکردگی کی الگ تحقیقات بھی شروع کر سکتے ہیں۔ ان میں فوجی اخراجات، اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر، شہری ہلاکتوں اور دفاعی معاہدوں کا جائزہ شامل ہو سکتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق، ان کوششوں کا حتمی مقصد ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹانا بھی ہو سکتا ہے۔
تحقیقات کا دائرہ بحیرہ کیریبین میں امریکی فوجی کارروائیوں اور وینزویلا کے بارے میں واشنگٹن کی پالیسی تک بھی پھیل سکتا ہے۔ بالخصوص ان کشتیوں پر حملوں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے جن کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ وینزویلا کے تیل سے متعلق معاہدے بھی زیرِ تفتیش آ سکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشنر کی سفارتی ذمہ داریوں اور ان کے ذاتی سرمایہ کاری مفادات کے درمیان تعلق بھی ایران، اسرائیل اور غزہ سے متعلق مذاکرات کی تحقیقات کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ ڈیموکریٹس اسرائیل کے بارے میں امریکی پالیسی تبدیل کرنے پر متفق ہیں۔
4۔ محکمہ انصاف اور وفاقی اداروں کو کمزور کرنے کے الزامات
ڈیموکریٹس امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ٹرمپ کے سیاسی مخالفین کے خلاف اختیارات کے مبینہ استعمال کی بھی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں۔ جامعات، میڈیا اداروں اور قانونی کمپنیوں کے معاملات میں حکومتی مداخلت بھی اس جائزے کا حصہ ہو سکتی ہے۔
یہ معاملہ سابق ایف بی آئی سربراہ جیمز کومی سمیت ٹرمپ کے بعض ناقدین کے خلاف حالیہ قانونی کارروائیوں کے بعد مزید اہم ہو گیا ہے۔ حکومت کے ناقدین ان مقدمات کو سیاسی محرکات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، جبکہ محکمہ انصاف کا مؤقف ہے کہ وہ سیاسی مداخلت کے بغیر قانون کے مطابق کام کرتا ہے۔
بعض ڈیموکریٹس سرکاری ملازمین کی برطرفیوں، وفاقی پروگراموں کی بندش، امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی سرگرمیوں میں کمی اور ’’حکومتی کارکردگی‘‘ کے نام سے شروع کیے گئے اقدامات کی بھی تحقیقات چاہتے ہیں۔ اس اقدام کی قیادت ایلون مسک نے کی تھی اور اس کا اعلان کردہ مقصد وفاقی حکومت کے ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل تھا۔
تحقیقات کا ایک اہم سوال یہ ہو گا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ کانگریس کی منظور کردہ بجٹ رقوم کے مطابق عمل کر رہی تھی یا اس نے قانون ساز ادارے کی منظوری کے بغیر مخصوص پروگراموں کے لیے منظور شدہ فنڈز کی فراہمی یا اخراجات روک دیے تھے۔
5۔ وفاقی قرضہ اور بجٹ خسارہ
امریکہ کا بڑھتا ہوا وفاقی قرضہ بھی ڈیموکریٹس کی ممکنہ تحقیقات میں شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی وفاقی حکومت کا مجموعی قرض گزشتہ اگست میں پہلی مرتبہ 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا اور 29 اکتوبر کو تقریباً 40.59 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس طرح ایک سال کے دوران امریکی قرضے میں تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا۔
کانگریس کے بجٹ دفتر کے اندازوں کے مطابق، مالی سال 2026 میں وفاقی بجٹ خسارہ تقریباً 1.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کے مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں عوامی قرضے کا تناسب موجودہ 101 فیصد سے بڑھ کر 2036 میں 120 فیصد ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اس ادارے کا اندازہ ہے کہ 2025 کے آغاز سے منظور ہونے والی قانونی تبدیلیاں آئندہ دس برسوں میں امریکہ کے متوقع بجٹ خسارے میں تقریباً 3.4 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کر سکتی ہیں۔
ڈیموکریٹس بجٹ اور نگرانی سے متعلق کمیٹیوں کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کے عہدیداروں اور حکومتی مالیاتی ذمہ داروں کو طلب کر سکتے ہیں تاکہ ٹیکسوں میں کمی، فوجی اخراجات میں اضافے اور ٹرمپ کی محصولات کی پالیسیوں کے قرضے پر اثرات کی وضاحت لی جا سکے۔
تاہم امریکی قرضے میں اضافہ ماضی کی ڈیموکریٹ اور ریپبلکن حکومتوں کی پالیسیوں کا مجموعی نتیجہ ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری صرف ایک جماعت پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ مزید یہ کہ ڈیموکریٹس نے اب تک قرضے میں کمی کے لیے کوئی متفقہ منصوبہ پیش نہیں کیا۔
امریکی قرضہ 41.1 ٹریلین ڈالر کی قانونی حد کے قریب پہنچ رہا ہے۔ کانگریس کے بجٹ دفتر نے پیش گوئی کی ہے کہ حکومت 2027 میں اس حد تک پہنچ سکتی ہے، جس کے باعث نئی کانگریس کو ابتدائی مہینوں ہی میں قرض کی حد بڑھانے اور سرکاری اخراجات کی شرائط پر وائٹ ہاؤس سے اختلاف کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کیا ٹرمپ کا مواخذہ ہو سکتا ہے؟
ٹرمپ کا مواخذہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اب بھی زیرِ بحث امکانات میں شامل ہے، تاہم پارٹی قیادت نے اسے اپنی فوری ترجیحات میں شامل نہیں کیا۔
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے رہنما حکیم جیفریز نے کہا ہے کہ پارٹی کانگریس کے نگرانی اور قانونی اختیارات میں سے کسی کو بھی ترک نہیں کر رہی، لیکن انہوں نے صدر کے مواخذے کی نئی کارروائی شروع کرنے کا وعدہ نہیں کیا۔
صدر یا دیگر سرکاری عہدیداروں کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے ایوانِ نمائندگان میں سادہ اکثریت کافی ہے، تاہم صدر کو مجرم قرار دینے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں موجود ارکان کے دو تہائی ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ کانگریس میں جماعتی اختلافات کے باعث اس مرحلے تک پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس صرف ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرتے تو وہ کمیٹیوں کی سربراہی سنبھال کر تحقیقات شروع کر سکتے تھے اور ریپبلکنز کے قانون سازی کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈال سکتے تھے۔ لیکن سینیٹ کا کنٹرول بھی حاصل ہونے سے انہیں ٹرمپ کی عدالتی اور انتظامی تقرریوں کو روکنے یا ان میں رکاوٹ پیدا کرنے کا اختیار مل جائے گا۔
اس کے باوجود دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنا ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کی پالیسیوں میں مکمل تبدیلی کا اختیار نہیں دے گا۔ صدر کے پاس ویٹو کا اختیار برقرار رہے گا، جبکہ سینیٹ میں کئی عام قوانین کی منظوری کے لیے 60 ووٹ درکار ہوتے ہیں تاکہ ’’فلی بسٹر‘‘ یعنی طویل بحث کے ذریعے ووٹنگ روکنے کی پارلیمانی رکاوٹ ختم کی جا سکے۔
ٹرمپ نے اتوار کو جاری ہونے والے ایک انٹرویو کے اقتباسات میں کہا تھا کہ اگر ریپبلکنز کانگریس کا کنٹرول کھو دیتے ہیں تو وہ ’’مسٹر ویٹو‘‘ بن سکتے ہیں، تاہم آخرکار دونوں جماعتوں کو سمجھوتے کرنا ہوں گے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس پہلے ہی ایسے منصوبے تیار کر رہا ہے جن کے ذریعے ٹرمپ کی پالیسیوں کو انتظامی اختیارات کے تحت جاری رکھا جا سکے اور کانگریس کی جانب سے دستاویزات طلب کرنے یا سرکاری عہدیداروں کو پیش ہونے کے احکامات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اس طرح وسط مدتی انتخابات کانگریس کے نگرانی کے کردار کو دوبارہ فعال کر سکتے ہیں، جو ریپبلکنز کے دونوں ایوانوں پر غلبے کے دوران کمزور پڑ گیا تھا۔ تاہم ڈیموکریٹس کی کامیابی انہیں ٹرمپ کی پالیسیوں کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا اختیار نہیں دیتی۔
ڈیموکریٹس کے لیے اصل امتحان یہ ہو گا کہ وہ اپنی تحقیقات کو سیاسی محاذ آرائی سے آگے بڑھا کر مستند شواہد اور دستاویزات کی بنیاد پر کس حد تک آگے لے جا سکتے ہیں۔ انہیں ان تحقیقات کو مہنگائی، علاج معالجے اور عوامی اخراجات جیسے مسائل سے بھی جوڑنا ہو گا، جو ووٹروں کی بنیادی تشویش ہیں۔ اس کے بعد سیاسی توجہ 2028 کے صدارتی انتخابات کی طرف منتقل ہو جائے گی۔


مشہور خبریں۔
مصر کی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان مصالحت کی کوشش:صہیونی میڈیا کا دعویٰ
?️ 4 دسمبر 2025 مصر کی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان مصالحت کی کوشش:صہیونی
دسمبر
جو کورم پورا کرنے کے قابل نہیں انہیں پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں دے دی گئیں، عمر ایوب
?️ 20 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان
جولائی
غزہ میں غذائی تحفظ کی صورتحال تشویشناک
?️ 9 اپریل 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے
اپریل
غزہ کے حامی طلباء کے خلاف امریکی کانگریس نے کیا کہا؟
?️ 5 مئی 2024سچ خبریں: ایک طرف امریکی پولیس کے ہاتھوں طلباء پر جبر تشدد
مئی
ہارورڈ یونیورسٹی میں غیرملکی طلباء کا داخلہ ممنوع
?️ 7 جون 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کر
جون
ترامپ: ایران کے جواب کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا
?️ 9 مئی 2026سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اس
مئی
پی پی پی محنت کشوں کے مفادات کے تحفظ اور انہیں ریلیف دلوانے کے لئے میدان میں کھڑی ہے
?️ 1 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں) پیپلزپارٹی کے چیئرمین و وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری
مئی
غزہ میں صیہونی درندگی کی ایک اور مثال؛معذور افراد شہید
?️ 6 اکتوبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملوں کے نتیجہ میں غزہ کے
اکتوبر