?️
سچ خبریں:ترک ماہر حسن آکاراس کے مطابق ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود عوامی مزاحمت اور نئے رہبر کے انتخاب نے امپریالزم اور صہیونیت کو سخت دھچکا دیا اور جنگی حکمت عملی "شاک اینڈ آو” کو ناکام بنا دیا۔
امپریالزم اور صہیونی منصوبوں کے خلاف ایران کی مزاحمت اور استقامت پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ترک ماہر نے کہا ہے کہ عوام کی میدان میں موجودگی اور تیسرے رہبر کے انتخاب نے امپریالزم اور صہیونیت کو سخت جواب دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صہیونی میڈیا: ایران کی جانب سے اب تک کم از کم 200 میزائل داغے جا چکے ہیں
شہید رہبر آیت اللہ خامنہ ای کا امریکہ اور صہیونی حکومت کے نام وہ مشہور جملہ کہ "تم بے چارہ ہو جاؤ گے” آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ امریکہ اور صہیونی حکومت اس امید کے ساتھ جنگ میں داخل ہوئے تھے کہ ایران کا نظام کمزور ہو جائے گا، مگر جنگ کے آغاز کے گیارہ دن گزرنے کے باوجود وہ اپنے کسی اعلان کردہ مقصد تک نہیں پہنچ سکے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دشمنوں کو توقع تھی کہ رہبر انقلاب کی شہادت کے بعد ایران دفاعی لحاظ سے کمزور ہو جائے گا، لیکن گزشتہ روز ایک اہم سیاسی پیش رفت میں شہید رہبر کے فرزند آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا تیسرا رہبر منتخب کر لیا گیا۔
اس اہم سیاسی تبدیلی کے بعد ایران کے عوام سڑکوں پر نکل آئے اور آیت اللہ خامنہ ای سے بیعت کرتے ہوئے نئی قیادت کی حمایت کا اظہار کیا۔ عوام نے اس موقع کو دشمنوں کی ناکامی کے جشن کے طور پر بھی منایا۔
اسی سلسلے میں خبر رساں ادارے مہر نے ترک ماہرِ مزاحمت حسن آکاراس سے گفتگو کی جس میں انہوں نے موجودہ جنگ اور اس کے نتائج پر تفصیلی تبصرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تیز رفتار فتح کے خواب کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ شروع کی، لیکن دس دن گزرنے کے بعد بھی اسے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کا اصل مقصد ایران میں نظام کی تبدیلی اور اسے امریکہ۔اسرائیل محور کے مطابق ڈھالنا تھا۔
۲۸ فروری ۲۰۲۶ کی صبح دنیا اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کی خبر سے بیدار ہوئی۔ ان حملوں میں مذہبی، فوجی اور سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ صوبہ میناب کے ایک اسکول پر حملہ بھی شامل تھا جس کا مقصد خوف و ہراس پیدا کرنا تھا تاکہ ایران کو ایک مسلط شدہ معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح طور پر کہا تھا کہ اس کارروائی کا اسٹریٹجک ہدف ایران میں نظام کی تبدیلی ہے۔
یہ حملے امریکی کلاسیکی فوجی نظریے "شاک اینڈ آو” کے تحت ترتیب دیے گئے تھے۔ تل ابیب اور واشنگٹن کے پالیسی سازوں کا خیال تھا کہ جدید فضائی طاقت اور سائبر حملوں کے ذریعے وہ ۴۸ گھنٹوں کے اندر ایران کی دفاعی لائن کو توڑ دیں گے اور چند دنوں میں سیاسی مفلوجی پیدا کر دیں گے۔
لیکن جنگ کے دسویں دن میدان کی حقیقت نے ثابت کیا کہ یہ تصور حقیقت سے دور تھا۔ ایران کے زیر زمین میزائل شہر، غیر متقارن کمانڈ ڈھانچہ اور مسلسل جوابی حملوں نے امریکی برتری کے دعوے کو شدید چیلنج کر دیا۔ جو حملہ ایران کو مفلوج کرنے کے لیے کیا گیا تھا وہ ایران کی دہائیوں پر محیط دفاعی تیاریوں کے سامنے ایک اسٹریٹجک بن بست میں تبدیل ہو گیا۔
اسرائیل کے لیے بھی یہ جنگ اپنی علاقائی بالادستی کو مستحکم کرنے کی کوشش تھی۔ اسرائیل ایران کو اپنے منصوبوں کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا تھا، اسی لیے وہ ٹرمپ کی صدارت کے اختتام سے پہلے اس جنگ کو ناگزیر سمجھتا تھا۔ لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور تل ابیب اور حیفا کے اوپر موجود سکیورٹی ڈھال میں دراڑیں پڑ گئیں جبکہ مختلف محاذوں سے جوابی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اس جنگ کے دوران خلیج فارس میں امریکی سکیورٹی چھتری کی حقیقت بھی بے نقاب ہو گئی۔ وہ ممالک جنہوں نے برسوں تک امریکی اسلحہ کمپنیوں کو کھربوں ڈالر ادا کیے اور واشنگٹن کو فوجی اڈے فراہم کیے، انہیں اندازہ ہوا کہ انہیں حقیقی سکیورٹی ضمانت حاصل نہیں ہوئی۔
ایران کے دفاعی نظریے کے مطابق ہر وہ مقام جو امریکی یا اسرائیلی حملوں کی سہولت فراہم کرے گا ایک جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔ ایران کے جوابی حملوں کو اگرچہ سیاسی حلقوں میں مختلف انداز سے دیکھا گیا، لیکن دنیا کے کئی ممالک کے عوامی حلقوں میں انہیں وسیع حمایت حاصل ہوئی۔
بہت سے مسلم معاشروں میں، حکومتی خاموشی کے باوجود عوامی سطح پر ایران کو وہ طاقت سمجھا گیا جس نے اسرائیل اور امریکہ کو حقیقی چیلنج دیا۔
رہبر انقلاب کی شہادت کے بعد بہت سے مبصرین نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ایران کا نظام کمزور ہو جائے گا، لیکن نئے رہبر کے انتخاب نے ان تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔
حسن آکاراس کے مطابق یہ واقعہ ان حلقوں کے لیے ایک بڑا سبق تھا جو ایران کے اسلامی نظام کو ایک فرد پر مبنی حکومت سمجھتے تھے۔ مغربی تجزیوں میں ہمیشہ یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ یہ نظام ایک کرشماتی شخصیت پر منحصر ہے اور اس کے بعد نظام ٹوٹ جائے گا۔
لیکن رہبر کی شہادت کے بعد جس انتشار کی توقع کی جا رہی تھی وہ ایران کے آئینی اور ادارہ جاتی نظام کے سامنے ناکام ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ ولایت فقیہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ اور فکری نظام ہے۔ دشمن انقلاب اسلامی کو ایک ایسی عمارت سمجھ رہا تھا جس پر اگر بم گرایا جائے تو وہ گر جائے گی، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسے درخت کی طرح ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔
۱۹۸۹ میں پہلی بڑی انتقالِ اقتدار کی طرح اس بار بھی اسلامی جمہوریہ نے مشکل حالات میں سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا۔ مجلس خبرگان کی جانب سے نئے رہبر کا فوری انتخاب دشمن کی نفسیاتی جنگ کے لیے بڑا دھچکا تھا۔
مغربی اور صہیونی حلقے امید کر رہے تھے کہ نیا رہبر زیادہ معتدل یا مذاکرات کی طرف مائل ہوگا، لیکن سید مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب نے ان تمام توقعات کو ختم کر دیا۔
ان کے انتخاب نے مزاحمتی محور کی عملی صلاحیت، نظریاتی وضاحت اور امپریالزم و صہیونیت کے خلاف غیر مصالحتی موقف کو مزید مضبوط کیا۔
سید مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب لبنان، یمن، عراق اور فلسطین میں مزاحمتی قوتوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام تھا کہ حمایت جاری رہے گی اور وہ تنہا نہیں ہوں گے۔
ماہر کے مطابق دشمن کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ سمجھتا تھا کہ ایرانی عوام حکومت اور قیادت سے الگ ہو جائیں گے۔ لیکن جنگ کے دسویں دن لاکھوں افراد کی سڑکوں پر موجودگی نے ثابت کر دیا کہ اسلامی نظام کو مضبوط عوامی حمایت حاصل ہے۔
اس کے برعکس اسرائیل میں ایرانی میزائل حملوں کے باعث معاشرہ خوف اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے جبکہ ایران میں عوامی اجتماعات نے دشمن کی نفسیاتی جنگ کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن میزائلوں سے عمارتیں تباہ کر سکتا ہے اور رہنماؤں کو شہید کر سکتا ہے، لیکن وہ ایسے لوگوں کے ایمان کو ختم نہیں کر سکتا جو شہادت کو کامیابی سمجھتے ہیں۔
ان کے مطابق میدانوں میں عوام کی موجودگی نے ثابت کر دیا کہ نظام کی تبدیلی کے دشمن منصوبے محض ایک خام خیال ہیں۔
جنگ کے دسویں دن کی مجموعی تصویر واضح ہے۔ اگر جنگی طیاروں اور بموں کی آواز عوام کی آواز کو خاموش نہ کر سکے تو سیاسی طور پر وہ جنگ ہار چکی ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں:خارجہ پالیسی کا جائزہ: تہران کی مساوات میں ہتھیار ڈالنے کی کوئی جگہ کیوں نہیں؟
آج امریکہ اور اسرائیل ایک اسٹریٹجک بن بست میں پھنسے ہوئے ہیں اور اس جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں جبکہ ایران نئی قیادت، مضبوط عوامی حمایت اور خطے میں امریکی و اسرائیلی فوجی موجودگی کے خلاف جوابی کارروائیوں کے ساتھ پہلے سے زیادہ مستحکم پوزیشن میں کھڑا ہے۔


مشہور خبریں۔
فلسطینی بچوں کے خلاف ہولناک صیہونی جرائم؛ بین الاقوامی تنظیم کی رپورٹ
?️ 20 دسمبر 2025سچ خبریں:بین الاقوامی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی فوجیوں اور آبادکاروں
دسمبر
کراچی میں دستی بم حملہ
?️ 15 اگست 2021کراچی(سچ خبریں) کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ہفتے کی رات ٹرک
اگست
سعودی عرب کا الحدیدہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری
?️ 16 اگست 2021سچ خبریں:یمنی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب الحدیدہ صوبے
اگست
صہیونی آبادکاروں میں جنسی حملوں کی تعداد میں اضافہ؛صیہونی اخبار کی زبانی
?️ 12 فروری 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے ایک اخبار نے صہیونی آبادکاروں میں عصمت
فروری
سندھ حکومت نے کراچی میں مزید سختی کرنے کا فیصلہ کیا
?️ 23 مئی 2021کراچی(سچ خبریں) کراچی پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
مئی
امریکہ نے کئی ممالک پر شام کی مدد نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے:بشار الاسد
?️ 9 فروری 2023سچ خبریں:شام کے صدر بشار اسد نے دمشق کا سفر کرنے والے
فروری
غزہ میں صیہونی حکومت کی 630ویں بٹالین کے دو کمانڈر موت
?️ 13 فروری 2024سچ خبریں:اسرائیلی حکومت کی فوج کے ترجمان نے آج منگل کی صبح
فروری
والد نے ہمیں خاموش رہنے کو کہا لیکن اب ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں، عمران خان کے بیٹوں کا پہلا انٹرویو
?️ 13 مئی 2025لندن: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے
مئی