?️
سچ خبریں: "ولید صافی”، استاد جامعہ اور عرب تجزیہ کار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اندرون اور بیرونِ ملک درپیش دباؤ کے باعث ایران کے ساتھ جنگ کے دلدل سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
"ارم نیوز” کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق، لبنانی جامعہ کے پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر "ولید صافی” نے کہا: ٹرمپ مختلف پہلوؤں سے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے وہ سنجیدگی سے موجودہ جنگ سے نکلنے کا کوئی حل تلاش کر رہے ہیں۔
اس لبنانی استاد نے مزید کہا: ٹرمپ ایک طرف اندرونِ ملک اسٹاک کی قدر میں کمی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے دباؤ میں ہیں، تو دوسری طرف بیرونی سطح پر بھی ان پر اس جنگ کو ختم کرنے کا دباؤ ہے۔
صافی نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے پاس ان حملوں کو جاری رکھنے کے لیے مزید دو ماہ کا وقت ہے، کیونکہ اگر یہ مدت اس سے زیادہ ہو گئی تو انہیں کانگریس سے منظوری لینا ہو گی، جو موجودہ صورتِ حال میں ایک مشکل کام ہے۔ اسی وجہ سے وہ کسی نہ کسی طریقے سے اس جنگ کو ختم کرنے اور ساتھ ہی فتح کا اعلان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس عرب تجزیہ کار نے اس جارحیت کو ختم کرنے میں امریکی صدر کے سامنے درپیش چیلنجز کے بارے میں کہا: ٹرمپ اس وقت آبنائے ہرمز کی بندش کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ اگر وہ طاقت اور فوجی قوت کے ذریعے اسے کھولنا چاہتے ہیں تو اس کے نتیجے میں امریکہ کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، اور دوسری طرف جنگ ختم کرنے کے لیے انہیں اس آبنائے کے کھلنے کی ضرورت ہے۔
واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ سے ہونے والے نقصانات کو روکنے کی کوشش میں
"نسرین میتا”، سیاسی مواصلات کی محقق نے بھی ارم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: امریکہ کا موجودہ موقف یہ ہے کہ اس جنگ سے نکلنا ہی کامیابی ہے، کیونکہ واشنگٹن زیادہ نقصان اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
میتا نے مزید کہا: امریکہ کو عراق اور افغانستان میں دردناک تجربہ ہو چکا ہے، اور اب وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ایران کے ساتھ طویل جنگ فرسودہ کن ہو گی، اس لیے اس سے بچنا چاہیے۔
اس عرب محقق نے مزید کہا: پینٹاگون، خاص طور پر افغانستان اور عراق کی جنگوں کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ امریکی عوام طویل جنگوں کو جو جانی نقصان کا باعث بنتی ہیں، قبول نہیں کرتی۔ اسی وجہ سے امریکہ دور سے حملہ کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔
میتا نے نشاندہی کی کہ جانی نقصان کا خوف مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی حکمتِ عملی کا ایک تعین کن عنصر ہے، اور اسی وجہ سے امریکہ کوشش کرتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، کم سے کم جانی نقصان اٹھائے۔
امریکہ اور صیہونی حکومت کی مشترکہ فوجی جارحیت جمہوریہ اسلامی ایران کے خلاف ۹ اسفند ۱۴۰۴ (۲۸ فروری ۲۰۲۶) کی صبح شروع ہوئی۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب ایران اور امریکہ کے درمیان بعض علاقائی ممالک کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات جاری تھے۔
جمہوریہ اسلامی ایران نے امریکہ اور صیہونی حکومت کے مشترکہ فوجی حملے کے آغاز کے بعد اس اقدام کا فیصلہ کن، ہدفی اور متناسب جواب دیا۔ اس جائز جوابی کارروائی کے تحت، مقبوضہ فلسطین کے مختلف شہروں میں صیہونی حکومت کے فوجی اور سلامتی ٹھکانوں کے علاوہ خطے میں امریکی افواج کی تعیناتی کے اڈوں اور مراکز کو میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔


مشہور خبریں۔
بائیڈن کی حماقت یوکرین میں جنگ کا سبب بنی: ٹرمپ
?️ 16 اگست 2024سچ خبریں: امریکی صدارتی انتخابات کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملک
اگست
امریکی ریاستی نظام؛ صدرِ کے اختیارات اور فرائض
?️ 27 اکتوبر 2024سچ خبریں:ریاستی طرز پر قائم امریکہ کے سیاسی نظام میں صدرِ مملکت
اکتوبر
متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ عناصر یمن سے نکل گئے
?️ 31 دسمبر 2025سچ خبریں: سعودی عرب کے دباؤ کے بعد، متحدہ عرب امارات کے
دسمبر
فوجی آپریشن سے امن قائم نہیں ہوگا، فیصلہ ساز قوتیں ماضی سے سبق سیکھیں
?️ 31 جولائی 2025پشاور: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا ہے کہ فوجی
جولائی
صیہونیوں کی انصار اللہ کا مقابلہ کرنے لیے امریکہ سے مدد کی بھیک
?️ 26 دسمبر 2024سچ خبریں:صیہونی اخبار نے اپنی تازہ رپورٹ میں انصار اللہ یمن کے
دسمبر
ماسکو پر 300 ڈرونز کا حملہ ناکام
?️ 13 جولائی 2026سچ خبریں: سرکاری رپورٹس کے مطابق، یوکرین کی جانب سے گزشتہ 24 گھنٹوں
جولائی
کیا صیہونی حکام کا قیدیوں کی رہائی کا دعویٰ سچ ہے؟صیہونی اخبار کی زبانی
?️ 11 جون 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے اخبار نے زور دے کر کہا ہے
جون
ٹرمپ کا زیلنسکی کو یورپ سے پیٹریاٹ پہنچانے کا وعدہ
?️ 21 مارچ 2025سچ خبریں: این ٹی وی کے مطابق روس کے ساتھ جنگ کے
مارچ