?️
سچ خبریں:ہم سید حسن نصراللہ کی بیان کردہ مساوات کا لازمی جزو ہیں،قدس کو خطرہ ، یعنی علاقائی جنگ اور مزاحمت کا محور ، اس کا مقابلہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا،یمن کی انصاراللہ کے رہنما عبد المالک الحوثی کے یہ الفاظ اس دن کے ہیں جسے یمن کے باشندوں نے "سامراج کے خلاف آواز” نام دیا،اس بیان میں بڑی گہری باتیں موجود ہیں۔
یمن قدس کی مساوات اور فلسطین کے مسئلے کو با اثر وزن کی حیثیت سے کس طرح داخل ہوا جبکہ اب بھی وہ سعودی اتحاد کی جارحیت کو پسپا کرتا ہے؟آئیے کچھ ہفتوں پیچھے چلتے ہیں، یمن کے شہروں میں یوم القدس کا عالمی دن منانے کے لئے فلسطین اور یمن کے جھنڈے ایک ساتھ لہرائے گئے اور یہ نعرےلگے کہ صہیونیوں کو گلے لگانے والوں سے کہہ دو کہ ہمارا مسئلہ تباہ نہیں ہوگا،سمجھوتہ کار غاصبوں کے اتحادی ہیں، "اسرائیل کینسر ہے اور امریکہ شیطان ہے، فلسطینی عوام کا قاتل یمنیوں کا قاتل ہے ، یمن میں جارحیت پسند ، القدس اور غزہ کے دشمن ہیں، سمجھوتہ کرنے والوں کو بتادو کہ ہماری مسجد اقصی بکاؤ نہیں ہے۔ "سمجھوتہ مخالف ادب ان نعروں سے عیاں ہے،یہی وجہ سے کہ سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمن کے صوبہ مأرب میں یوم القدس کے جلوس پر حملہ کیا، ایک ایسا حملہ جس میں درجنوں شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔
یہی وجہ ہے کہ الحوثی نے واضح طور پر کہا ہے کہ سعودی اور اماراتی میڈیا نے سیف القدس کی لڑائی میں مزاحمتی تحریک کی فتوحات کو کم کرنے کے لئے جدوجہد کرنا شروع کی اور وہ فلسطین مخالف کی شکل میں نمودار ہوئے گویایہ اسرائیلی دشمن کے ماتحت ہیں،ذرا اس سے بھی پیچھے چلتے ہیں جہاں قدس میں شیخ جراح کے محلہ کے زخموں کا درد سعودی اتحاد کی جارحیت کے نتیجہ میں میں محصور اور بے گھر ہونےوالے یمنیوں کو سب سے زیادہ محسوس ہوا ۔
اسی دوران عبدالمالک الحوثی نے اعلان کیا کہ یمن فلسطینی مزاحمت کو "فوجی امداد” فراہم کرنے کے لئے تیار ہےجس کے بعد یمنی تجزیہ کار طالب الحسنی نے عبدالمالک الحوثی کے الفاظ میں بیان ہونے والے یمنی مؤقف کو نئی علاقائی تبدیلی قرار دیا جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور فوج میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں نیز سیاسی اور معاشرتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے ،الحسنی اس مؤقف کو شیخ جراح کے گزرکر قدس کو آزاد کرنے کے لئے یمن کے لئے ایک نقطہ نظر قرار دیتے ہیں لیکن پوری کہانی یہ نہیں ہے۔
آئیے ایک بار پھر اس سال کے ابتدائی مہینوں میں واپس چلتے ہیں جب (9 مارچ2021) کویمن میں کمانڈر حسین بدرالدین الحوثی شہید نمائش لگی جس میں یمنی 2000 کلومیٹر کی حدودتک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور خاص طور پر ” قدس 2 "میزائل اور کئی ڈرون جن میں 2500 کلومیٹر کی حدود تک مار کرنے والا والا پرندہ بھی شامل تھا ، کی رونمائی کی گئی، یمنی مسلح افواج نے اس وقت ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے پاس جدید نظام موجود ہے جس کا مطلب ہے کہ فوجی طور پر یمنی صیہونی حکومت تک پہنچ سکتے ہیں، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یمنیوں کو عملی طور پر ان نتائج کی ضرورت تھی کیونکہ اسرائیل میں شروع ہونے والی جنگ کا سعودی اتحاد کے ساتھ جنگ پر گہرا اثر پڑا تھا یہاں تک کہ سعودیوں کو یمن کے خلاف جارحیت روکنے پر مجبور کیا جاسکتا تھا، مبصرین جانتے ہیں کہ یمن کے اندر سے سعودی عرب اور دوسری جگہوں پر بھی جنگ کی منتقلی نے یمنی مزاحمتی قوتوں کی یمن کی عوامی حمایت کو تقویت بخشی کیوں کہ اس سے انصاراللہ فوج اورعوامی کمیٹیوں کو بنیادی طور پر صنعاکو ایک بہت بڑی ساکھ ملی۔
اب یہ بات لوگوں پر واضح ہوگئی ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کی حمایت سے غیر ملکی مداخلت کے خلاف یمن کی قومی مزاحمتی قوتیں واحد قابل اعتماد قوت ہیں، اس سے قبل عبدالمالک الحوثی نے سعودیوں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی کوشش کی جس میں ایک اہم نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ انھوں نے فلسطینیوں اور خاص طور پر غزہ میں حماس پر توجہ دی جس نے یمن کی اسٹریٹجک گہرائی ، یعنی فلسطین کے بارے میں الہوثی کا نظریہ جس کافلسطینیوں بہت سراہنا کیا، انہوں نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ اپنے چار پائلٹوں کے بدلے میں سعودی عرب کے ہاتھوں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار حماس کے متعدد قیدیوں کو رہا کرے، تمام گروہوں سے نہیں بلکہ صرف حماس کے قیدی۔
فلسطینی تجزیہ کار عبد الستار قاسم نے الحوثی کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے سعودی عرب اور عرب سمجھوتہ کاروں کو محاصرے میں اور جارحیت کی آگ کی زد میں رہ کر مسئلہ فلسطین کی حمایت کرنے والی قوم سے سبق سیکھنے کو کہا اور کہا کہ آپ عرب سمجھوتہ کاروں نے ہم فلسطینیوں نے منھ موڑ لیا ہےفلسطینی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ انصاراللہ افواج ایران سے منسلک ہیں اور اگر وہ ایرانی نہ ہوں تو وہ جنگ جاری نہیں رکھ سکتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ یہ ممکن ہے کہ ایران انصاراللہ کو تکنیکی اور سائنسی مدد فراہم کرے ،یہ کوئی بری بات نہیں بلکہ بری بات یہ ہے کہ 75 سال تک امریکہ کا دوست بننا اور ایک یمنی قبیلہ کو شکست نہ دے پانا ،اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدنا لیکن انہیں میدان جنگ میں استعمال نہ کرپانا بدنامی کی بات ہے۔


مشہور خبریں۔
Millions of Indigenous People May Lose Voting Rights: Alliance
?️ 22 اگست 2022Strech lining hemline above knee burgundy glossy silk complete hid zip little
اگست
عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کی مظلوم عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لینا چاہیئے
?️ 15 مئی 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے فلسطینی
مئی
وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ سرکاری دورے پر ملائیشیا روانہ
?️ 5 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہبازشریف ملائیشیا کے دو روزہ سرکاری
اکتوبر
صیہونی فوجیوں نے آٹھ فلسطینیوں کو لیا حراست میں
?️ 14 نومبر 2021سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں کے مختلف علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف صیہونیوں
نومبر
غزہ کے شہید بچوں کے صرف نام پڑھنے میں 18 گھنٹے لگتے ہیں
?️ 9 اپریل 2024سچ خبریں: سیو دی چلڈرن آرگنائزیشن کے سربراہ نے سلامتی کونسل کے
اپریل
چین کی متعدد امریکی فوجی کمپنیوں پر پابندی عائد
?️ 23 مئی 2024سچ خبریں: چین نے آج سے امریکی صنعتی-ملٹری کمپلیکس سے متعلق 12
مئی
وزیر خزانہ کی چینی ہم منصب سے ملاقات، پاکستانی معیشت کیلئے چینی تعاون کو سراہا
?️ 20 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا کے شہر
اپریل
ٹرمپ اسرائیل کے سامنے کمزور اور بےبس ہیں: امریکی سینیٹر
?️ 8 جون 2026سچ خبریں:امریکی سینیٹر کرس مرفی نے ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے
جون