?️
سچ خبریں: عراقی نژاد سویڈش پناہ گزین سلوان مومیکا نے سویڈن میں تیسری بار اس ملک کی پولیس کی حفاظت میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی، ایک ایسا عمل جس نے ان کاروائیوں کے پوشیدہ مقصد کے بارے میں کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔
یورپی ممالک بالخصوص سویڈن اور ڈنمارک میں مذہب اسلام کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کے بعد سویڈن میں مقیم عراقی نژاد متنازعہ پناہ گزین سلوان مومیکا نے سویڈن کی پولیس کی حفاظتی چھتری تلے اور ان کے مکمل تعاون سے اس نفرت انگیز شخصیت نے سویڈش پارلیمنٹ کے سامنے قرآن پاک کی توہین کی۔
یہ بھی پڑھیں: یورپ میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے پس پردہ مقاصد
اس گھناؤنے فعل کے دوران سلوان نجم نامی شخص جو سٹاک ہوم کا عراقی رہائشی ہے، نے بھی مومیکا کے اس اقدام کی حمایت کی اور اس کے ساتھ رہا،یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ سلوان نجم پر دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے، لیکن وہ سویڈن میں اب بھی آزاد گھوم رہاہے۔
اسٹاک ہوم میں سویڈش پولیس نے اعلان کیا کہ اس واقعے سے قبل انہیں سلوان مومیکا کی جانب سے اسٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے سامنے اور عراقی سفارت خانے کے سامنے ریلی نکالنے کی اجازت کے لیے ایک نئی درخواست موصول ہوئی تھی۔
سلوان مومیکا کون ہے؟
ایک سویڈش عراقی شہری سیلوان مومیکا نے سویڈش پولیس کے تعاون سے قرآن پاک کی توہین کی جس کے کچھ ہی دن بعد اس نے دوبارہ اس گھناؤنے فعل کو دہرایا، ان سلسلہ وار گستاخیوں کے تسلسل میں ڈنمارک میں ایک انتہائی دائیں بازو کے گروہ نے ایک دن بعد ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں عراقی سفارت خانے کے سامنے لگاتار دو دن قرآن پاک کی بے حرمتی کی۔
واضح رہے کہ 37 سالہ سلوان مومیکا 1986 میں شمالی عراق کے صوبہ نینوی کے ضلع الحمدانیہ میں پیدا ہوا،اس علاقے کے باشندوں کی اکثریت سریانی عیسائیوں کی ہے،مومیکا ایک لبرل، سیکولر اور ملحد عراقی ہے جو عراقی حکومت اور نظام کا مخالف سمجھا جاتا ہے،بچپن میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ بغداد آیا اور پھر عراق کے کردستان علاقے کے شہر اربیل میں سکونت اختیار کی، مومیکا 2014 سے 2018 تک سریانی یونین پارٹی کا سربراہ رہا، 2014 میں، عراق کے خلاف داعش کے حملوں کے دوران اس نے اس تنظیم کے خلاف لڑنے والےعیسائیوں کے ایک مسلح گروپ میں شمولیت اختیار کی جسے بابلی کہا جاتا ہے،2018 کے بعد وہ سویڈن گیا اور اس ملک سے سیاسی پناہ کی درخواست کی،سویڈن کی حکومت نے اسے سیاسی پناہ دے دی، حالیہ برسوں میں مومیکا سویڈش ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن ہے اور سویڈن کے دارالحکومت اٹاک ہوم میں رہتا ہے۔
باپ کا بیٹے سے اعلان بیزاری
سیلوان مومیکا کے آبائی شہر میں سریانیوں کی مذہبی شخصیتوں میں سے ایک ابوجرج نے مومیکا کے اس طرح کے اقدامات جو عراق میں اس مذہبی فرقے کے پیروکاروں اور ان کے زیر کفالت افراد کی طرف سے شدید تنقید کا باعث بنے ہیں، پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ جب ہمیں عراقی کردستان کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا تو سیلوان مومیکا اپنے آپ کو عیسائیوں کے محافظ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور اس نے عراقی حکام پر اپنی سخت تنقید سے ہمارے لیے بہت سے مسائل پیدا کیے!
جرمنی میں رہنے والے سلوان مومیکا کے والد صباح متی نے تین ماہ قبل اس کے ہاتھوں قرآن پاک کی پہلی بار بے حرمتی کیے جانے کے بعد اپنے بیٹے سے بیزاری کا اعلان کیا اور اس بات پر زور دیا کہ وہ اس کے کسی عمل کو قبول نہیں کرتے،الحمدانیہ علاقے کے لوگ، جو سریانی عیسائی ہیں، نے قرآن پاک کی بے حرمتی پر مبنی اس کے اقدامات سے بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ سلوان مومیکا کے طرز عمل نے عراق کے عیسائیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے جبکہ عیسائی اس کے کسی عمل کو قبول نہیں کرتے۔
قابل ذکر ہے کہ اسلامی ممالک کی طرف سے سفارتی تعاقب اور سویڈن اور بیرون ملک وسیع پیمانے پر مذمت کے باوجود سلوان مومیکا قرآن پاک کی بار بار توہین کر رہا ہے،ان اقدامات نے بین الاقوامی سطح پر غم و غصہ ایجاد کیا ہے نیز سویڈن اور اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک بڑا سفارتی بحران پیدا کر دیا ہے، سعودی عرب، قطر اور ایران جیسے ممالک نے سویڈن کے سفیروں کو طلب کرکے احتجاج کیا ہے، عراق میں سویڈن کے سفارت خانے پر مظاہرین نے حملہ کیا اور ایران نے سویڈن کے نئے سفیر کو اپنی سرزمین میں داخل ہونے سے روک دیا۔
اسٹاک ہوم سے نابلس تک؛ خطرناک صیہونی حرکتیں
قدس الاخباریہ ویب سائٹ نے سویڈن میں قرآن مجید کو جلانے کے توہین آمیز واقعہ اور نابلس (مغربی کنارے کے شمال میں) کی ایک مسجد پر صیہونیوں کے حملے جس میں آبادکاروں نے قرآن پاک کے متعدد نسخے پھاڑ دیے گئے، کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان دو توہین آمیز اقدامات کے مرتکب ایک انتہا پسندانہ اور دہشت گردانہ سوچ کے پیروکار ہیں جو صیہونی نظریات سے پید ہوتی ہے
آخری بات
یورپی ممالک میں حالیہ ہفتوں میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے جو سلسلہ جاری ہے اس نے اس کاروائی کے پس پردہ محرکات کے بارے میں کئی سوالات پیدا کیے ہیں؛ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اس فعل کے پس پردہ خطے کے ممالک بالخصوص عراق میں مذہبی فتنہ انگیزی پیدا کرنے کا کوئی مقصد ہے، جسے حالیہ ہفتوں میں عراقی قوم کی چوکسی سے بے اثر کرنے کے بعد، اس پر اصرار جاری ہے۔ اسی خطرناک مقصد کی پیروی کرتے ہوئے قرآن پاک کی بار بار بے حرمتی کی جا رہی ہے۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ یورپی ممالک بالخصوص سکینڈے نیویا کے علاقے میں مہاجرین کی صورتحال کے پیش نظر ایک عراقی پناہ گزین یقینی طور پر اپنے فیصلے سے اور آزادانہ طور پر ایسا اقدام نہیں کر سکتا، لہذا یہاں سے مغربی اور صیہونی جاسوسوں کے قدموں کے نشانات زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: قرآن کی توہین کے پیچھے کون لوگ ہیں؟
لبنان کی حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے اپنی حالیہ تقریر میں ان کاروائیوں کو اسرائیلی موسادی سازش قرار دیا، مشرق وسطیٰ میں حالیہ برسوں کے پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت بھی واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ جب بھی مشرق وسطیٰ کی صورتحال امریکی صیہونی محور کے مطابق نہیں ہوئی، وہاں مذہبی فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی یا جسے مغربی لوگ تخلیقی انتشار کہتے ہیں۔
اگر ہم چند سال پہلے واپس جائیں؛ ہم دیکھیں گے کہ خطے میں داعش کی عظیم سازش کا آغاز شام کے ایک سرحدی قصبے میں ایک نسبتاً چھوٹے احتجاجی واقعے سے ہوا، جو افراتفری خطے میں بھڑک اٹھنے کے بعد وسیع پیمانے پر پھیل گئی اور اگر مزاحمتی محور کی بہادری بالخصوص لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے اتحادی نہ ہوتے تو آج ہمارے سامنے ایک مختلف مشرق وسطیٰ ہوتا۔ شاید اس وقت کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ ایک معمولی سا واقعہ کئی ممالک بلکہ پورے خطے کی سطح پر ایک بڑی فتنہ میں بدل جائے گا، تاہم، اب منظر نامہ کچھ بدل گیا ہے، ان دنوں انہوں نے فتنہ کے نقطہ آغاز کے طور پر مشرق وسطیٰ کی سرحدوں سے باہر ایک محفوظ جگہ کا انتخاب کیا ہے تاکہ ایک نیا فتنہ برپا کرکے اسے عراق اور لبنان جیسے اپنے ٹارگٹ ممالک میں پھیلا سکیں ۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل اپنے اتحادیوں پر سکیورٹی بوجھ بن گیا ہے: عطوان
?️ 5 مارچ 2022سچ خبریں:عطوان نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ صیہونی
مارچ
نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کا معاملہ: رجسٹرار سپریم کورٹ نے کمیٹی کو 3 نام بھجوادیے
?️ 22 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) رجسٹرار سپریم کورٹ نے چیف جسٹس قاضی فائز
اکتوبر
غزہ جنگ میں اسرائیل کی شکست کے نتائج واضح ہو رہے ہیں۔ فوج میں ایک بڑا ردوبدل
?️ 24 نومبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کو سدرن کمانڈ میں
نومبر
اس سال کی عالمی صہیونی کانگریس اتنی متنازعہ کیوں تھی؟
?️ 14 نومبر 2025اس سال کی عالمی صہیونی کانگریس اتنی متنازعہ کیوں تھی؟ اس سال
نومبر
تل ابیب کا سرحدی مثلث میں بفر زون بنانے کا منصوبہ
?️ 13 جولائی 2025سوریہ کے داخلی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی ریاست سوریہ،
جولائی
موٹر سائیکل والوں کیلئے پیٹرول پر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی، مصدق ملک
?️ 20 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر مملکت برائے پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے
مارچ
روس نے دنیا کو قحط کے خطرہ سے دوچار کر دیا ہے:یورپی یونین
?️ 21 جون 2022سچ خبریں:یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کا کنہا ہے کہ
جون
سویڈن کو قرآن کے مقابلے میں آنا مہنگا پڑ گیا
?️ 10 جولائی 2023سچ خبریں:سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی اور اسلام کے مقدسات
جولائی