عقاب کے چہرے پر اژدھے کا پنجہ

امریکہ

?️

سچ خبریں:چینی وزیر خارجہ اور حکومتی مشیر وانگ یی نے نشاندہی کی کہ اگر امریکہ آنکھیں بند کر کے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو صرف دو عظیم طاقتوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد پر بیان کرتا ہے تو اس کا نتیجہ مشرق اور مغرب کے درمیان تصادم اور دنیا میں انتشار کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔

2008 کے مالیاتی بحران کے بعد عالمی بالادستی کی حیثیت سے امریکی طاقت کا تیزیی سے زوال شروع ہو گیا، اس کے ساتھ ہی عوامی جمہوریہ چین کے دنیا میں ایک اقتصادی طاقت کے طور پر ابھرنے کے ساتھ ہی یہ نظریہ تشکیل پایا کہ یہ ملک امریکہ کی جگہ لے گا۔

دوسری طرف بین الاقوامی برادری کے ارتقاء اور عالمی مساوات کی تبدیلی کے مطابق کچھ بین الاقوامی محققین کا خیال ہے کہ مستقبل کی دنیا ایک کثیر قطبی دنیا ہوگی، ان نظریات کی بنیاد پر چین اور امریکہ کے تعلقات میں بنیادی تبدیلیاں آئیں گی، جہاں واشنگٹن نے عوامی جمہوریہ چین کو امریکہ کا سب سے بڑا حریف قرار دیا ہے اور وہ بیجنگ کی طاقت کی توسیع کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہیں چین اس نقطہ نظر کی مذمت کرتے ہوئے دونوں فریقوں کے درمیان تعمیری تعلقات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور تجارتی مسابقت پر غور کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ان دونوں طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا عالمی امن و سکون میں خلل ایجاد ہونے کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

فوڈان یونیورسٹی آف چائنا ریسرچ سنٹر نے حال ہی میں اس بارے میں لکھا کہ چین کی پالیسیوں کے بارے میں امریکہ کی حالیہ تقریر غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بنی اور چین کی داخلی اور خارجہ پالیسی کے چہرے کو داغدار کیا نیز چین امریکہ تعلقات کے مسائل کا ذمہ دار چین کو قرار دیتے ہوئے چین کو خطرہ ثابت کرنے پر زور دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

جن لوگوں نے چین-امریکہ تعلقات کے بارے میں معمولی تحقیق بھی کی ہے وہ جانتے ہیں کہ اس نقطہ نظر نے سیاہ و سفید کے موقف کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، کیونکہ تاریخی اور موجودہ حقائق کے نقطہ نظر سے امریکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں درپیش چیلنجز کا اہم مجرم ہے۔

سب سے پہلے امریکہ نے غلطی سے چین کو ایک اسٹریٹجک حریف کے طور پر پیش کیا ہے، نئی صدی کے آغاز سے، اگرچہ چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کئی موڑ آئے ہیں لیکن تعاون ہمیشہ بنیادی توجہ کا مرکز رہا ہے، تاہم ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد، ملک نے ٹیکس کے ذریعے چین کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کی اور چین کے خلاف زبردستی کا رویہ اختیار کیا نیز بائیڈن انتظامیہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کو جاری رکھا بلکہ اس میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے چین کو امریکہ کا سب سے بڑا طویل المدتی چیلنج قرار دیا۔

چینی وزیر خارجہ نے نشاندہی کی کہ اگر امریکہ آنکھیں بند کرکے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو صرف دو عظیم طاقتوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد پر بیان کرتا ہے تو اس کا نتیجہ مشرق اور مغرب کے درمیان تصادم نیز دنیا میں افراتفری اور فتنہ پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔

 

مشہور خبریں۔

فلسطینی شہری اپنے گھر کو اپنے ہی ہاتھوں سے مسمار کرنے پر مجبور

?️ 20 اپریل 2021سچ خبریں:صہیونی ایجنٹوں نے یروشلم کو یہودیہ بنانے کے اپنے منصوبہ پر

حماس نے اسرائیل کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس نظام کو کیسے دھوکہ دیا؟

?️ 6 دسمبر 2023سچ خبریں: صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک

بشار الاسد کے کزن کا  شام کے ساحلی علاقوں میں مسلح گروہ تشکیل دینے کا اعلان

?️ 28 اپریل 2025 سچ خبریں:بشار الاسد کے کزن رامی مخلوف نے شامی ساحلی علاقوں

غزہ والوں کی ہمدردی کے دعوے بھی اور انہیں مارنے کے بم بھی؛امریکی منافقت کا ایک اور ثبوت

?️ 17 اکتوبر 2024سچ خبریں: وائٹ ہاؤس نےغزہ کے لیے دکھاوے کا ہمدردانہ رویہ اپناتے

کینیڈا نے یوکرین میں خصوصی فورس تعینات کی

?️ 18 جنوری 2022سچ خبریں:  یوکرین میں کینیڈین اسپیشل آپریشنز فورسز کی موجودگی روس کو

جنگ جاری رہی تو اسرائیل کا کیا بنے گا؟صیہونی جنرل کی زبانی

?️ 1 جون 2024سچ خبریں: ایک اعلیٰ صہیونی جنرل نے حماس اور حزب اللہ کے

بی جے پی کی غیر جمہوری پالیسیاں جنوبی ایشیا میں امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں، حریت کانفرنس

?️ 12 جنوری 2024سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس کی اکائی تنظیموں نے کہا

ہم دوبارہ حملے کرنے کے لیے تیار ہیں: عراقی مزاحمت

?️ 21 اپریل 2026 سچ خبریں:عراق کی مسلح مزاحمتی تحریک "اولیاء الدم” کے ترجمان ابو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے