?️
سچ خبریں:عرب ممالک اور دمشق کے درمیان ہم آہنگی کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور مثبت ماحول اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ شام کی جلد ہی عرب دنیا کی آغوش میں واپسی ہونے والی ہے۔
جب شام کی جنگ عروج پر تھی اور دہشت گرد دمشق کی دیواروں تک پہنچ چکے تھے توعرب لیگ نے اس مفروضے کے تحت کہ بشار الاسد کی حکومت جلد گر جائے گی، اکثریتی ووٹ سے شام کی رکنیت معطل کرنے کی منظوری دیدی، خانہ جنگی پر مبنی شام کے بحران جس کی وجہ سے عرب لیگ میں اس ملک کی رکنیت معطل کی گئی تھی، آج اس کے غاز کے تقریباً 12 سال بعد کئی عرب ممالک نے دمشق کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کر لیے ہیں یا اس سلسلہ مینں کوشش کر رہے ہیں،اس لیے کہ اب حالات اس وقت کی طرح نہیں رہے کیونکہ شام کے استحکام اور تمام سازشوں کی ناکامی نے عرب ممالک کو دمشق کی جانب جھکنے پر مجبور کیا ہے، اس سال اپریل میں سعودی عرب اور شام ایک طویل عرصے تک ایک دوسرے سے دور رہنے کے بعد ہم آہنگی کی طرف بڑھے جس کے بعد طویل عرصے تک تنہائی کے بعد حالیہ عرصے میں کچھ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر اور شام کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں،اس سلسلہ میں تازہ ترین مؤقف میں احمد ابوالغیط نے کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد نے فوجی برتری حاصل کرتے ہوئے جنگ جیت لی اور مخالفین دمشق پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے،انہوں نے عرب لیگ میں شام کی رکنیت معطل کرنے کے فیصلے پر تنقید اور اسے جلد بازی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ رکن ممالک کو شامی حکام کو ایک موقع دینا چاہیے تھا۔
عرب لیگ میں شام کی رکنیت کی معطلی کی کہانی
شام کے بحران کی شدت اور احتجاج کو دبائے جانے کے بعد قاہرہ میں منعقدہ ہنگامی اجلاس میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کی اکثریت نے عرب لیگ سے شام کی رکنیت معطل کرنے کے حق میں ووٹ دیا،اس اجلاس میں 18 ممالک نے عرب لیگ سے شام کی رکنیت معطل کرنے کے حق میں ووٹ دیا جب کہ تین ممالک نے اس اقدام کی مخالفت کی اور عراق نے بھی اس قرارداد سے کنارہ کشی اختیار کی جس پر شام نے شدید برہمی کا اظہار کیا،عرب لیگ میں شام کے نمائندے نے لیگ میں اپنے ملک کی رکنیت کی معطلی کو غیر قانونی اور لیگ کے چارٹر اور داخلی ضوابط کے خلاف سمجھا کیونکہ، ان کے بقول اس کاروائی کے لیے عرب اتفاق رائے قائم نہیں کیا گیا تھا۔
شام کے ساتھ عرب ممالک کے اتحاد پر مغرب کا غصہ
شام کی حکومت کے ساتھ تعلقات کی واپسی کے حوالے سے خلیج فارس تعاون کونسل کے ممالک کے موقف میں تیزی سے تبدیلی کا عمل مغرب اور امریکہ کے غصے کا باعث بنا ہے جو شامی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے خلاف ہیں،خلیج فارس تعاون کونسل کے ممالک کی شام کے ساتھ قربت نے ایک اور طرف توجہ مبذول کرائی ہے اور وہ شامی حکومت سے قربت کی مخالفت میں مغرب کا موقف ہے،اس سے ایک طرف خلیج فارس تعاون کونسل کے ممالک اور دوسری طرف امریکہ اور مغرب کے درمیان ایک نیا بحران پیدا ہو سکتا ہے جبکہ تیل ، روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کی وجہ سے ایجاد ہونے والا بحران اب بھی موجود ہے، یاد رہے کہ امریکہ نے ہمیشہ شامی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی مخالفت پر زور دیا ہے اور وہ کسی بھی ملک کو شام کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی ترغیب نہیں دلائے گا جب تک کہ اس ملک میں سیاسی حل کی طرف حقیقی پیش رفت نہیں ہو جاتی۔
شام کی واپسی کے مخالفین
عرب لیگ کے کئی رکن ممالک شام کی رکنیت کی معطلی کے خاتمے کی مخالفت کرتے ہیں، جن میں مغرب، کویت، قطر اور یمن شامل ہیں،قطری حکام کا خیال ہے کہ دوحہ کے پاس عرب لیگ میں شام کی رکنیت کی مسلسل معطلی کی حمایت کرنے کی اپنی وجوہات ہیں۔
عرب دنیا دمشق کی طرف کیوں جھک گئی؟
عرب دنیا نے شام کی نئی حقیقت سے آشنا ہو کر تسلیم کیا ہے کہ شامی حکومت کے پاس طاقت ہے اور اسے تنہا کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں لیکن اس دوران جو چیز اہم معلوم ہوتی ہے وہ عرب ممالک کی امریکی تسلط سے آزادی ہے، بین الاقوامی منظرنامہ آج آہستہ آہستہ مشرق وسطیٰ میں امریکی تسلط کو ختم کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے تاکہ چین اور روس سمیت دیگر ممتاز بین الاقوامی کھلاڑیوں کو اس کی جگہ دی جائے، کچھ لوگ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ شام کی عرب لیگ میں واپسی کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے؟ درحقیقت اس سوال کا جواب دمشق کا محاصرہ توڑنے کی بحث میں مل سکتا ہے۔ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ اقتصادی استحکام اور سرمایہ کاری کی کشش کی بنیاد سکیورٹی استحکام ہے اور خلیج فارس کے ممالک بھی شام کے سرمایہ کاری کے میدان میں داخل ہونے کے لیے سخت کوشش کر رہے ہیں۔
دریں اثنا، عرب ممالک اور شام کے درمیان تعلقات کی ہم آہنگی کو تیز کرنے میں زلزلہ ڈپلومیسی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، زلزلے کے بعد بعض ممالک نے شامی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے جنہوں نے شام کے بحران کے سیاسی حل، اس ملک کے خلاف پابندیوں کے خاتمے اور دیگر ممالک کے ساتھ دمشق کے تعلقات سمیت مختلف مسائل پر بات کرنے کا راستہ کھولا۔
آخر میں کیا کہا جا سکتا ہے کہ شام کی حکومت 12 سال کے چیلنج کے بعد اب تقریباً استحکام کو پہنچ چکی ہے اور تکفیری اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف اچھی کامیابیاں حاصل کرنے نیز شام کے بیشتر حصے کو اپنی حکمرانی میں لانے میں کامیاب ہو گئی ہے اسی وجہ سے بعض عرب ممالک شامی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ بعض عرب ممالک اپنی شناخت کے اجزاء اور شام کے سیاسی نظام کے استحکام کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اس ملک اور اس میں قائم حکومت کے قریب آنے کی کوشش کر رہے ہیں، درایں اثنا اس وقت ایک دہائی سے زائد عرصے کے بحران کے بعد شام تعمیر نو کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اسے تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے۔ خلیج فارس کے بعض ممالک بشمول متحدہ عرب امارات اپنے سرمایہ کاری فنڈ کے حجم اور سرمایہ کاروں نیز مالی طور پر مضبوط ہونے کی وجہ سے شام میں دستیاب جگہ کو سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اور دیگر ممالک سے پہلے شام کی تعمیر نو کے منصوبوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ قطر اور ترکی اپنے اقتصادی مفادات کی بنیاد پرکام کر رہے ہیں، ایک اور نکتہ یہ ہے کہ صیہونی حکومت نے شام پر اپنے حملوں کا دائرہ بڑھا دیا ہے اور دوسری طرف امریکہ شامی عوام پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کر رہا ہے تاکہ کسی طرح عربوں کو اس ملک سے دور رکھا جائے۔


مشہور خبریں۔
میں چاہوں گا کہ جنگ نہ ہو، ہم نہیں چاہتے کہ کشیدگی میں اضافہ ہو، بلاول بھٹو زرداری
?️ 1 مئی 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے
مئی
ایران کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں اسرائیل کی تشویش
?️ 5 نومبر 2024سچ خبریں:سیاسی اور میڈیا حلقوں میں ایران کے ممکنہ ردعمل پر جاری
نومبر
حماس نے قتل عام کو روکنے کے عنوان سے ریلی نکالنے کا مطالبہ کیا
?️ 4 نومبر 2023سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے ایک بیان جاری کرکے
نومبر
سوڈان کی وحدت اور علاقائی سالمیت ہماری سرخ لکیر ہے:قاہرہ
?️ 19 دسمبر 2025 سوڈان کی وحدت اور علاقائی سالمیت ہماری سرخ لکیر ہے:قاہرہ مصر
دسمبر
دنیا کو مہذب اور دوسرے ممالک میں تقسیم نہیں ہونا چاہیے: پیوٹن
?️ 21 فروری 2023سچ خبریں:منگل کو اس ملک کی پارلیمنٹ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن
فروری
موجودہ دورے کے بعد چین سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے: وزیراعظم
?️ 13 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں)موجودہ دورے کے بعد چین کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید
فروری
متحدہ عرب امارات کی ترکی کی فوجی صنعت میں سرمایہ کاری
?️ 8 دسمبر 2021سچ خبریں: متحدہ عرب امارات کی حکومت کے ایک وفد نے ترکی
دسمبر
دوست تین بار کال یا میسج کا جواب نہ دیں تو انہیں بلاک کردیتی ہوں، بشریٰ انصاری
?️ 14 مارچ 2024کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ بشریٰ انصاری کا کہنا ہے کہ اگر کوئی
مارچ