ترکی شام ، عراق اور افغانستان میں کیا چاہتا ہے؟

ترکی

?️

سچ خبریں:گذشتہ روز ترکی کے وزیر داخلہ نے شام کے علاقے عفرین کا سفر کیا جبکہ اردگان نے گذشتہ روز کابل ایئرپورٹ کے قبضے کا خیرمقدم کیا ، درایں اثنا عراق اور ترکی کے درمیان سرحدی علاقوں پر اب بھی ترکی کی نقل وحرکت جاری ہے۔

جب کہ شمال مغربی شام میں ترکوں کی موجودگی تقریبا معمول بن چکی ہے ، اس خطے میں ترک کاری کی پالیسیاں سختی سے چل رہی ہیں،اس علاقہ میں ترکی کی ٹیلی مواصلات کمپنیوں کی حکمرانی سے لے کر نصابی کتب کو تبدیل کرنا ، اسپتال ، سڑکیں وغیرہ قائم کرنا ، سبھی یہ ثابت کرتے ہیں کہ ترک کردوں کے خطرے کو بہانہ بنا کر شام میں موجودرہنے پر اصرار کرتے ہیں جس کا مقصد اس ملک پرہمیشگی جغرافیائی تسلط قائم کرنا ہے البتہ یہ پالیسی بہت سال پہلے ترکوں نے شام کے لیوا اسکندرون کے معاملے میں تجربہ کی تھی جو یقینا وہ کامیاب رہی تھی۔

کل ترک وزیر داخلہ کا بلا کسی خوف و پریشانی کےشام کے شمال مغربی خطے کا دورہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ترکی باضابطہ طور پر اس خطے کو ترکی کا ایک حصہ سمجھتا ہے جبکہ ترک اپنی صوابدید پر شامی عوام پر کسی بھی طرح کےظلم سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔

حسکہ میں ایک لاکھ سے زیادہ آبادی پر پانی بند کرنا شمالی شام میں ترکی کی اس پالیسی کی واضح مثال ہے، ترکوں کے مطابق اس خطے کو ترک شہری ہونا چاہئے چاہیے وہ شامی عوام کی رضامندی سے ہو یا زبردستی،واضح رہے کہ یہ سب ایسے وقت میں ہورہا ہے جبکہ ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گرد شام کے کچھ حصوں میں ابھی بھی شامی حکومت اور فوج کے ساتھ پراکسی جنگیں لڑ رہے ہیں۔

شمالی شام میں جاری ترک کاری کی پالیسی ، شمالی عراق میں بھی مختلف طریقوں سے چلائی جارہی ہے، اس خطے میں ، ترکوں نے پی کے کے سے لاحق خطرات کے بہانے عراق میں دو بڑے پیمانے پر کاروائیاں کیں ، اور بار بار سرحدی علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں، ان جارحیتوں میں ترکوں کا جوازصدام کے زمانے میں ان کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ ہےجس کے مطابق ترکی عراق کے اندر اپنے ملک کے خطرناک عوامل کا پیچھا کر سکتاجبکہ کئی عشروں بعدبھی عراقی حکام نے معاہدے میں تبدیلی کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا۔

کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی عراق میں بھی شام کی طرح ، 30 سے 50 کلومیٹر کے درمیان مشترکہ سرحد کے اندر اپنے آپ کو منظم کرنا چاہتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس خطے سے تیل خریدنے کے لئے 50 سالہ معاہدے کے ساتھ عراقی کردستان نے ان مظالم کے مقابلہ میں عملی طور پر خاموشی اختیار کرلی ہے۔

افغانستان میں اس حقیقت کے باوجود کہ طالبان نے کابل ایئر پورٹ کو ترکوں کے حوالے کرنے کواس اقدام کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نمائندگی کا لقب دیتے ہئے اسے جارحیت قرار دیا ہے اور اس سے لڑنے کا وعدہ کیا ہے۔

اگرچہ خطے کے مختلف حصوں میں ترکوں کی سنجیدہ موجودگی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ انھیں اپنے ملک کی سرحدوں کو وسعت دینے کی خواہش آہستہ آہستہ ایک نئے مرحلےمیں داخل ہورہی ہے جس سے آگاہی نہ ہونا بڑی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ بات ذہن میں رکھنے کے لئے کافی ہے کہ ترکوں کی ان علاقائی خواہشات کے علاوہ ، ترک اسرائیل ، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ اپنے تعلقات کی بحالی اور بہتری میں مصروف ہیں ، اس سلسلے میں وہ اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ انھوں نے اخوان المسلمین سے بھی منھ پھیر لیا ہے۔

 

مشہور خبریں۔

امریکی تاریخ کا سب سے کمزور کمانڈر انچیف

?️ 29 مارچ 2024سچ خبریں: امریکہ میں ہونے والے ایک عوامی سروے کے نتائئج سے

بائیڈن نے صیہونیوں سے حزب اللہ کے بارے میں کیا کہا؟

?️ 21 اکتوبر 2023سچ خبریں: باخبر ذرائع نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ امریکی صدر

چین اور روس نے سلامتی کونسل میں امریکہ کو کیسے جواب دیا؟

?️ 26 اکتوبر 2023سچ خبریں: روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں

لبنانی وزیر خارجہ کے بیانات پر حزب اللہ کا شدید ردعمل/حکومت کو شام کے انجام سے سبق سیکھنا چاہیے

?️ 14 دسمبر 2025سچ خبریں: حزب اللہ کے ایک سینئر نمائندے حسین الحاج حسن نے

الجولانی کی صہیونی ریاست سے تعلقات بہتر بنانے کی پیشکش 

?️ 23 اپریل 2025 سچ خبریں:امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن کری میلز نے انکشاف کیا

ٹرمپ نے صرف فجیرہ کو تباہ کروایا اور واپس لوٹ آئے!

?️ 8 مئی 2026 سچ خبریں:ابتدائی طور پر، امریکی دہشت گرد ریاست کے سربراہ ڈونلڈ

طوفان الاقصیٰ کو اسرائیل کی تباہی تک جاری رکھیں گے: انصاراللہ

?️ 15 جولائی 2026سچ خبریں: یمن کی تحریک انصاراللہ کے دفتر سیاسی کے رکن حزام الاسد

عوام پاکستان پارٹی کے نام پر اعتراض؛ وجہ؟

?️ 10 جولائی 2024سچ خبریں: ’ہم عوام پاکستان پارٹی‘ کے چیئرمین نے الیکشن کمیشن میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے