ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی معیشت کے کمزور پہلو، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی منڈیوں میں ہلچل

ایران

?️

سچ خبریں:وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے تیل کی قیمتوں کو تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا ہے جس سے امریکی معیشت، صارفین اور مختلف صنعتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کو تقریباً دو ہفتے گزر چکے ہیں اور اس جنگ نے تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ کر کے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ توانائی کی فراہمی میں خلل کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ، معاشی ترقی کی رفتار میں کمی اور صارفین و مختلف صنعتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صہیونی صحافی: ہم جنگ کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً دو ہفتوں سے جاری تنازع نے عالمی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے اور تیل کی قیمتیں تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ اس صورتحال کے ردعمل میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے پیٹرول کی قیمت میں 65 سینٹ اور ڈیزل کی قیمت میں 1.13 ڈالر کا اضافہ ہو چکا ہے۔

یہ صورتحال صارفین اور بہت سے کاروباروں کے لیے مشکل ثابت ہو رہی ہے اور اگر سمندری نقل و حمل کے مسائل اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں رکاوٹیں کئی ماہ تک جاری رہیں تو اس سے امریکی داخلی معیشت، جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، مزید مشکلات سے دوچار ہو سکتی ہے۔

سرمایہ کاری کمپنی کارلائل میں عالمی تحقیق اور سرمایہ کاری حکمت عملی کے سربراہ جیسن تھامس نے کہا کہ اس وقت سب کی نظریں آبنائے ہرمز پر مرکوز ہیں۔

ایئر لائن کمپنیاں، جن کے اخراجات میں ایندھن ایک بڑا حصہ ہوتا ہے، توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے مقابلے میں بہت جلد متاثر ہو جاتی ہیں۔

ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ پوری معیشت میں اثرات کی ایک لہر پیدا کرتا ہے اور ان کاروباروں کو متاثر کرتا ہے جو نقل و حمل یا اپنی سرگرمیوں کے لیے ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک کمپنی جو طبی خدمات اور اعضا کی پیوندکاری کے لیے منتقلی کی سہولت فراہم کرتی ہے، اس مسئلے سے متاثر ہونے والی کمپنیوں میں شامل ہے۔

اس کمپنی کی شریک چیف ایگزیکٹو ملیسا ٹامکل نے گزشتہ ہفتے مالی نتائج کے ایک اجلاس میں کہا کہ اگر قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں یہ اضافی اخراجات صارفین پر منتقل کرنا پڑیں گے۔

کنکریٹ پمپنگ اور فضلہ مینجمنٹ کی خدمات فراہم کرنے والی ایک کمپنی بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ اضافی فیس کے ذریعے صارفین پر منتقل کر رہی ہے۔

اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بروس ینگ نے اس ہفتے کے مالی اجلاس میں کہا کہ ہمیں امید ہے یہ صورتحال عارضی ہوگی۔ یہ واضح نہیں کہ ہمیں کتنی مدت تک اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اضافی اخراجات کے ایک حصے کی تلافی کی جا سکے۔

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ امریکی آٹو موبائل صنعت پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے، جو گزشتہ مہینوں میں الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار کے منصوبوں سے کسی حد تک پیچھے ہٹ چکی ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے فورڈ اور جنرل موٹرز کے حصص میں کمی دیکھی گئی ہے۔

دوسری جانب کسان بھی سپلائی چین میں ایک مختلف قسم کی رکاوٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔ خلیج فارس دنیا میں کیمیائی کھاد کے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے اور حالیہ درگیریوں کے باعث کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب موسمِ بہار کی کاشت کا آغاز قریب ہے۔

امریکن فارم بیورو فیڈریشن کے سربراہ زیپی ڈووال نے ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ ہمیں شدید تشویش ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خوراک کی فراہمی کے نظام میں ایسی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں جیسی 2022 کے بعد نہیں دیکھی گئیں۔

ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کم آمدنی والے خاندانوں پر زیادہ بوجھ ڈالتا ہے کیونکہ وہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ایندھن کی خریداری پر خرچ کرتے ہیں۔ تاہم اس اضافے کے اثرات دیگر اشیا اور خدمات تک بھی پہنچتے ہیں۔

 مثال کے طور پر ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے امریکہ بھر میں خوراک کی ترسیل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں دکانوں میں اشیا کی قیمتیں بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔

اسی طرح ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمت بڑھنے سے بالآخر فضائی سفر کے ٹکٹ بھی مہنگے ہو جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ گھریلو بجٹ پر بڑھتا ہوا دباؤ صارفین کو اپنی اخراجات کم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، حالانکہ گھریلو اخراجات ہی امریکی معیشت کی ترقی کا بنیادی محرک سمجھے جاتے ہیں۔

بارکلیز بینک کی امریکی چیف ماہر معاشیات پوجا سریرام کے مطابق جب تیل کی قیمتیں کئی ماہ تک بلند رہتی ہیں تو عام طور پر سفر، ہوٹل، ریسٹورنٹس، الیکٹرانکس اور گھریلو سامان جیسے شعبوں میں اخراجات کم ہو جاتے ہیں۔

گولڈمین ساکس کے ماہرین معاشیات کا اندازہ ہے کہ تیل کی فی بیرل قیمت میں 10 ڈالر کا اضافہ امریکہ کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار کی شرحِ نمو کو کم کر سکتا ہے۔

معاشی ترقی کی رفتار میں کمی لیبر مارکیٹ پر بھی مزید دباؤ ڈال سکتی ہے، جو گزشتہ چھ ماہ کے دوران اوسطاً ملازمتوں کی تعداد میں کمی کا سامنا کر رہی ہے۔

سال 2025 کے دوسرے نصف میں ہاؤسنگ قرضوں کی شرح میں کمی آئی تھی جس سے امید پیدا ہوئی تھی کہ موسمِ بہار میں گھروں کی خرید و فروخت کے آغاز کے ساتھ ممکنہ خریدار مارکیٹ میں داخل ہوں گے۔ تاہم اس ماہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث مہنگائی بڑھنے کے خدشات کے بعد ہاؤسنگ قرضوں کی شرح دوبارہ بڑھنے لگی ہے۔

مہنگائی میں اضافہ اس امکان کو بڑھا دیتا ہے کہ فیڈرل ریزرو طویل عرصے تک شرح سود کو بلند سطح پر برقرار رکھے گا۔ اس کے نتیجے میں امریکی خزانے کے بانڈز کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر ہاؤسنگ قرضوں کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:نیتن یاہو اور ٹرمپ کے دعووں کے درمیان اسرائیلی عوام الجھن کا شکار

امریکی ماہر معاشیات جیک کریمل کے مطابق موجودہ اضافہ ابھی اتنا بڑا نہیں کہ ہاؤسنگ مارکیٹ کو فوری طور پر متاثر کرے، تاہم بڑا خطرہ یہ ہے کہ جنگ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال معیشت اور مالیاتی منڈیوں کو کمزور کر سکتی ہے اور ممکنہ خریداروں کو گھروں کی خریداری مؤخر کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

مشرقی شام میں امریکی دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی

?️ 18 جون 2022سچ خبریں:   داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کرنے والی

سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں چار اسلامی میوزیم کی تعمیر

?️ 1 دسمبر 2021سچ خبریں:سعودی عربین میوزیم کمیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ کمیشن

عربوں کو خطے کے مسائل کے حل کے لیے امریکہ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے

?️ 19 جنوری 2022سچ خبریں:  عمان کے وزیر خارجہ نے مشترکہ چیلنجوں کا سامنا کرنے کے

لاہور میں جماعت اسلامی کا غزہ مارچ ، ہزاروں افراد کی شرکت

?️ 20 نومبر 2023لاہور: (سچ خبریں) اسرائیلی دہشتگردی اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے

اسرائیل کے نئے جاسوسی ٹول کی دریافت

?️ 15 مارچ 2025سچ خبریں: غزہ میں فلسطینی مزاحمت کے انٹیلی جنس اور سیکورٹی یونٹس

20 لاکھ صہیونی خط غربت سے نیچے

?️ 27 فروری 2026 سچ خبریں:کچھ عرصہ قبل انسشورنس انسٹی ٹیوٹ آف اسرائیل نے سال

صیہونی اسلحہ ساز کمپنیوں کی امداد بند کی جائے:برطانوی عوام

?️ 16 اگست 2022سچ خبریں:فلسطینی کی حامی برطانوی سماجی تنظیموں نے اس ملک کی حکومت

بھارتی میزائل کا پاکستان میں گرنا تشویش کا باعث ہے:شاہ محمود قریشی

?️ 2 اپریل 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے