?️
سچ خبریں: ہفتہ وحدت کے موقع پر گزشتہ روزوں میں تہران میں اسلامی وحدت کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مختلف ممالک سے سینکڑوں علماء، دانشوروں اور مفکرین نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ اس کانفرنس کے شرکاء نے موجودہ صورت حال میں مسلمان ممالک اور امت مسلمہ کے درمیان اتحاد و ہمبستگی پر زور دیتے ہوئے امریکہ اور صہیونی حکومت کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرنے پر تاکید کی۔
میڈیا نیوز ایجنسی کی اردو سروس نے اسی مناسبت سے بلوچستان میں جمعیت علمائے پاکستان کے سینئر رہنماؤں میں سے مولانا انوارالحق حقانی کے ساتھ موجودہ صورت حال اور عالم اسلام کے مسائل کے بارے میں ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے، جس کا متن پیش ہے:
حالیہ واقعات اور عالم اسلام کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر، ہفتہ وحدت کے موقع پر اس کانفرنس کے انعقاد اور اس کی اہمیت کے بارے میں آپ کا کیا نقطہ نظر ہے؟
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ایک ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، اسی تہران کانفرنس کو دیکھیں جس میں اہل سنت کے اکابرین کے ساتھ ساتھ پوری دنیا سے علماء، دانشوروں اور محققین کے علاوہ شیعہ کے بڑے اور ممتاز علماء بھی شریک ہیں۔
یہ ہمدردی صرف ایک جگہ تک محدود نہیں ہے، بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی اس قسم کی کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں جن میں امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کی نمائندگی ہوتی ہے۔ خود پاکستان میں بھی وقتاً فوقتاً ایسے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جن میں تمام مکاتب فکر کے علماء اور اکابرین ایک ساتھ بیٹھ کر مشترکہ موقف اختیار کرتے ہیں۔
اس کی تازہ ترین مثال امریکہ اور اسرائیل کی جمہوریہ اسلامی ایران پر جارحیت ہے۔ جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کیا، اس ملک کی قیادت کو نشانہ بنایا اور کئی ممتاز شخصیات کو شہید کیا، تو پوری دنیا اسلام اور پاکستان میں شدید احتجاج ہوا۔ تمام مکاتب فکر کے علماء اور عوام نے اس اقدام کی شدید مذمت کی، اجتماعات اور مارچ کیے اور ایران کے سفارت خانوں میں جا کر اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔
اگر پاکستان کی بات کریں تو چونکہ ہم کوئٹہ کے رہائشی ہیں، ہم خود قونصل خانے گئے اور تعزیت پیش کی اور جمعہ کی نمازوں میں بھی اس جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے امت کی وحدت پر زور دیا۔ اسلام آباد میں بھی مولانا فضل الرحمان، رہبر جمعیت علمائے اسلام، حافظ نعیم الرحمان، امیر جماعت اسلامی، اور بریلوی اور شیعہ مکاتب فکر کے بڑے علماء نے ایران کے سفارت خانے میں جا کر اپنی مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
چالیس سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا تھا کہ اسرائیل خود کو مکمل طور پر محفوظ سمجھتا تھا اور فلسطین اور غزہ کے بے دفاع مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتا رہا۔ ان کے گھر اور حتیٰ کہ ہسپتال بھی تباہ کیے گئے اور معصوم لوگ بے گھر ہوئے۔ لیکن تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ جب ایران نے اسرائیل کی طرف میزائل داغے تو وہاں عمارتیں تباہ ہوئیں اور جانی نقصان ہوا۔ صہیونی خوف کی وجہ سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر سڑکوں اور پارکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔
ان کی بزدلی اس حد تک تھی کہ وہ زمین پر لیٹ جاتے تاکہ نشانہ نہ بنیں۔ وہ ایک شہر سے دوسرے شہر بھاگے، ہوائی جہاز کے ٹکٹ نایاب ہو گئے اور ہزاروں صہیونی مقبوضہ فلسطین چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہو گئے۔ اس طرح اسرائیل کی طویل مدتی پالیسی بھی، جس کی بنیاد پر یہودیوں کو پوری دنیا سے وہاں لا کر بسایا جاتا تھا، رک گئی۔
دوسری طرف، امریکہ کا غرور اور تکبر بھی خاک میں ملا دیا گیا۔ انہوں نے سوچا تھا کہ حملہ کریں گے، ان کا پیسہ اور ہتھیار کام آئیں گے، ایران میں کچھ اندرونی خائن ملیں گے اور دو تین دنوں میں حکومت کا تختہ پلٹ کر اپنی مطلوبہ حکومت لا کھڑی کریں گے۔
پاکستان کی حکومت اور ریاست نے بھی عوام کے ساتھ مل کر ایک مثبت اور قابل تعریف کردار ادا کیا۔ ہمارے وزیراعظم اور فوج کے سربراہ نے صلح و مصالحت اور کشیدگی میں کمی کے لیے کوششیں کیں، سفارتی آمد و رفت ہوئی، ایران کی قیادت بھی آئی اور امریکہ کے شیاطین بھی آئے۔ لہٰذا، ہر حال میں مسلمانوں کے درمیان باہمی قربت برقرار ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ مستقبل میں یہ قربت اور اتحاد مزید مضبوط ہوگا۔
آپ چالیس روزہ جنگ کے بعد پہلی بار تہران آئے ہیں؛ آپ نے کیا دیکھا؟ یہاں آنے سے پہلے آپ کا کیا تصور تھا؟
آج کل میڈیا کا دور ہے، اس لیے ایران کی صورت حال اور ہونے والے نقصانات کے بارے میں معلومات پاکستان میں بھی ہم تک پہنچ رہی تھیں۔ ہوائی اڈے سے آتے ہوئے راستے میں ایک جگہ ہم نے ایک اسکول یا یونیورسٹی کی عمارت کو مسمار دیکھا، لیکن عام خیال کے برعکس، یہاں کوئی خوف یا پریشانی نہیں ہے۔ الحمدللہ، تہران میں مکمل طور پر حالات اچھے ہیں؛ عوام بھرپور جذبے اور بہادری کے ساتھ، بغیر کسی دباؤ کے، اپنی زندگی معمول کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جنگ کے فوری بعد اس طرح کی بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس کا انعقاد واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی قوم مضبوط ہے۔ وہ نہ تو پریشان ہوئے ہیں اور نہ ہی خوفزدہ ہیں۔ ایرانی اپنی زندگی کے تمام معمولات اور پروگرام معمول کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ سے پختہ امید ہے کہ مسلمانوں کو فتح و کامیابی نصیب ہوگی۔
شہید آیت اللہ خامنہ ای کے اسلامی بیداری اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے سلسلے میں کردار کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
ان کا پیغام ہمیشہ وحدت اور امت کو اکٹھا کرنے کا رہا ہے۔ میں اس سے قبل بھی تہران کی کانفرنسوں میں شریک ہو چکا ہوں اور سب کے لیے واضح ہے کہ یہ اجتماعات کسی خاص مکتب فکر تک محدود نہیں ہیں۔ ان میں عالم اسلام کی بڑی دینی تحریکوں کے نمائندے، اہل سنت کے ممتاز علماء اور اہل تشیع کے بڑے دانشور شرکت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ خود ایران سے بھی اہل سنت کے ممتاز علماء، مجلس خبرگان کے اراکین اور جامع مساجد کے ائمہ اور خطیب اس میں وسیع پیمانے پر شریک ہوتے ہیں۔
اس کانفرنس کے دوران بھی گفتگو محبت اور بھائی چارے سے بھرپور ماحول میں ہوئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ذیلی اور جزوی اختلافات کو چھوڑ کر امت کے بڑے مشترکات پر توجہ دی جائے تاکہ تمام مسلمان ایک دوسرے کے قریب آ سکیں۔
اس کانفرنس کے موقع پر آپ کوئی خاص پیغام دینا چاہیں گے؟
میں ایک مذہبی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہوں اور ہمارے نزدیک یہ حقیقت مکمل طور پر واضح ہے کہ اسلام کی مخالف قوتیں اور ہمارے دشمن قومی، جغرافیائی یا مذہبی بنیادوں پر کوئی تفریق نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی شخص عرب ہے یا عجم، پاکستان، افغانستان، ایران، عراق یا لبنان کا رہائشی ہے۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ کوئی شخص شیعہ ہے یا سنی۔
اگر ایک طرف حماس جو سنی مذہب سے تعلق رکھتی ہے، اس کے خلاف جارحیت ہوئی ہے تو دوسری طرف ایران، عراق اور افغانستان کے خلاف بھی حملے اور جارحیت ہوئی ہے؛ یعنی دشمن نے بغیر کسی تفریق کے سب کو نشانہ بنایا ہے۔
اس بنیاد پر، مسلمانوں کو اب اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں۔ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ سب سے پہلے ہم مسلمان اور امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہماری بنیادی نسبت اسلام، ایمان، قرآن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ختم نبوت، آخرت اور اللہ کی وحدانیت پر پختہ اعتقاد پر قائم ہے۔ یہی بڑے مشترکات ہمارے اتحاد کے لیے کافی ہیں۔ اگر ہم ان مشترک اقدار کے تحفظ کے لیے مل کر کوشش کریں تو اس کا فائدہ سب کو ہوگا، اور اگر غفلت کریں تو نقصان نہ صرف ایک طبقے یا ایک ملک کو، بلکہ باری باری پوری امت کو پہنچے گا۔
شہید اسماعیل ہنیہ، شہید آیت اللہ خامنہ ای اور شہید حسن نصراللہ، سب ایک ہی قاتل کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں۔ ہمارے مشترک دشمن ہیں۔
اس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں، بلکہ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ہمارے دشمن مشترک ہیں۔ جب ہمارے مخالف مذہبی یا جغرافیائی معاملات میں کوئی تفریق نہیں کرتے، تو پھر مسلمانوں کے درمیان یہ تفریق اور فاصلہ کیوں ہے؟ مسلمان ایک واحد امت ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں صراحتاً فرماتا ہے کہ وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ؛ اور یہود و نصاریٰ ہرگز تم سے راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی نہ کرو۔
اسی سلسلے میں، جب مولانا فضل الرحمان، رہبر جمعیت علمائے اسلام، ایران کے سفارت خانے گئے اور تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا تو ایک صحافی نے سوال کیا کہ کہ آپ نے ایک شیعہ ملک کی حمایت کیوں کی؟ مولانا نے جواب میں صاف کہا کہ اگر میں ایران کی حمایت نہ کرتا تو کیا آپ کا خیال تھا کہ میں اسرائیل کی حمایت کرتا؟ ظاہر ہے کہ ہمیں ایران کی حمایت کرنی چاہیے تھی، کیونکہ ایران مسلمانوں کے محاذ کا حصہ اور ایک مسلم ملک ہے۔ ہمارا صہیونیوں اور کافروں سے کیا تعلق ہے؟
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
24 گھنٹوں میں فلسطینی استقامت کی ۵۳ کارروائیاں
?️ 26 فروری 2023سچ خبریں:سرایا القدس نے مغربی کنارے میں واقع جنین کے قصبے جبع
فروری
سینئر امریکی عہدیدار کا بن زائد کے ساتھ خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
?️ 30 ستمبر 2021سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر نے متحدہ عرب امارات
ستمبر
غزہ میں نیتن یاہو کی تقریر کو نشر کرنا سراسر غلطی تھی:اسرائیلی فوج کا اعتراف
?️ 28 ستمبر 2025غزہ میں نیتن یاہو کی تقریر کو نشر کرنا سراسر غلطی تھی:اسرائیلی
ستمبر
"النکبة” کی تاریخی حیثیت کیا ہے ؟
?️ 16 مئی 2025سچ خبریں: "گینگ شوانگ” چین کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے کے
مئی
انتخابات میں حصہ لینے کیلئے چوہدری پرویز الہیٰ کا سپریم کورٹ سے رجوع
?️ 24 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ
جنوری
پاکستان سرحدی حملوں کو روکنے کے لیے طالبان حکومت سے تعاون چاہتا ہے
?️ 5 اگست 2025سچ خبریں: پاکستانی وزارت داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے ملک کے
اگست
نابلس میں صیہونیوں کے ساتھ جھڑپوں میں 67 فلسطینی زخمی
?️ 20 دسمبر 2021سچ خبریں: نابلس کے شمال مغرب میں برقہ گاؤں میں ہونے والی
دسمبر
وزیر اعظم کی ترکیہ روانگی سے قبل آرمی چیف کی تعیناتی ہوگی، خواجہ آصف
?️ 23 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ
نومبر