انصاراللہ اب کیا کرنے والی ہے؟

انصاراللہ

?️

سچ خبریں: عرب دنیا کے تجزیہ نگار عبدالباری عطوان نے صیہونی حکومت کے جہاز کو قبضے میں لینے میں یمنی افواج کی قطعی اور حساب و کتاب کے مطابق کارروائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انصاراللہ کے ممکنہ اگلے اقدامات کی طرف اشارہ کیا۔

انٹر ریجنل اخبار رائے الیوم کے چیف ایڈیٹر اور عرب دنیا کے تجزیہ نگار عبدالباری عطوان نے اپنے ایک تجزیے میں بحیرہ احمر میں صیہونی حکومت کے بحری جہاز کو قبضے میں لینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کفن پہنے ہوئے یمنی نوجوانوں خاص طور پر صنعا حکومت کی قیادت میں انصار اللہ نے اسرائیلی جہاز کو قبضے میں لے لیا جو انٹیلی جنس اور ملٹری کے لحاظ سے ایک درست اور حساب شدہ آپریشن اور اسے یمن کے ساحل تک لے جانا غزہ کی جنگ کے دیگر علاقوں میں پھیلنے کی سب سے خطرناک شکل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یمنیوں نے صیہونی جہاز رانی کے نظام کے ساتھ کیا کیا؟

انہوں نے یمنی انصار اللہ کی اسپیشل فورسز کے اس اقدام کو بحیرہ احمر اور بحر ہند میں امریکی تسلط کے لیے ایک مہلک دھچکا قرار دیا اور آبنائے باب المندب کو یمنی افواج کی زد میں شمار کیا۔

عطوان نے مزید کہ اکہ یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے نہایت ہی واضح الفاظ میں اس نے اس آپریشن کو راستے کا آغاز قرار دیا اور کہا کہ ان بحری جہازوں پر بھی حملے ہوں گے جن پر صیہونی حکومت کا جھنڈا ہے یا اسرائیل کی ملکیت ہیں لیکن دوسرے جھنڈے کے ساتھ جہاز چل رہے ہیں۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یحییٰ سریع نے فوری طور پر یہ دھمکی دی کہ یمنی مسلح افواج آبنائے باب المندب کو بند کرنے سے دریغ نہیں کرے گی، یہ آبی گزرگاہ جس سے دنیا کے تجارتی حجم کا 15 فیصد سے زیادہ حصہ گزرتا ہے۔

اس تجزیہ کار نے اس جہاز کو قبضے میں لینے پر امریکی ردعمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ خاص طور پر امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جو واشنگٹن کے دہرے اور اشتعال انگیز موقف کا ثبوت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس امریکی ترجمان نے کھلے سمندر میں بحری جہاز کو قبضے میں لینے میں یمنی فورسز کی کاروائی کے پس پردہ وجوہات کو نظر انداز کیا ہے جو غزہ میں بے گناہ لوگوں کی مدد کرنا ہے،انہوں نے 15000 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کو بھی نظر انداز کیا جن میں زیادہ تر بچے اور شیر خوار ہیں، ، 35000 دیگر کے زخمی ہونے اور غزہ میں نسلی تطہیر کی بے مثال جنگ کے سلسلے میں گھروں کی تباہی کو بھی نظر انداز کیا۔

عطوان نے امریکن نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جہاز کے عملے کو نقصان پہنچائے بغیر اسے قبضے میں لینا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے لیکن غزہ میں صیہونی حکومت کے ہاتھوں فلسطینیوں کا قتل عام، تباہی اور بے گھر کرنا،محاصرہ اور بھوکے مارنا بین الاقوامی قانون کی حقیقی پاسداری ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ صنعاء حکومت کا غزہ کے بھائیوں کی مدد کے لیے قابضین کے خلاف جنگ میں داخل ہونا بہت سے اہم اور صیہونی اور امریکی حکام کے لیے بہت خطرناک ہے، اس کی کچھ وجوہات ہیں:

1۔ اس لیے کہ یمن کی انصار اللہ کے پاس کاروائی کی آزادی اور بغیر کسی ہچکچاہٹ اور خوف کے فوری طور پر جنگی فیصلہ لینے کی صلاحیت ہے جو ان دنوں عرب حکومتوں اور فوجوں میں ایک نادر خصوصیت ہے۔

2۔ یہ مزاحمتی محور کے اتحاد کے اصول پر زور اور اس کی پابندی کو ظاہر کرتا ہے اور اس کی عملی شکل میں، جس کا آغاز ایلات پر میزائل اور ڈرون حملے سے ہوا اور بحیرہ احمر تک اسرائیل کی سمندری برآمدات تک پہنچ گیا۔

3۔ یمنیوں کی قوت ارادی کو کمزور کرنے اور انہیں عرب اور اسلامی دنیا کے اہم مسئلے سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کے لیے ہر قسم کا محاصرہ اور جنگ اور بھوکا مارنا ناکام ہو چکا ہے۔

4۔ بحیرہ احمر ، بحر ہند اور خلیج فارس کے علاقے میں بین الاقوامی جہاز رانی بشمول امریکی اور یورپی بحری جہازوں کو یمنی میزائلوں اور ڈرونز کا سامنا ہے۔

یہ تجزیہ نگار تاکید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے بحری جہازوں نے بحیرہ احمر اور خلیج فارس دونوں عرب پانیوں میں اسرائیلی جہاز کے قبضے کے خلاف جوابی کاروائی کی دھمکی نہیں دی ، جس طرح انہوں نے اسرائیل پر یمنی حملوں کے بارے میں خاموشی اختیار کی ،اس کی وجہ یمن کے ساتھ جنگ ​​میں داخل ہونے کا خوف ہے اس لیے کہ اس میں فتح کا کوئی امکان نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: یمنی انصاراللہ نے امریکہ سے کیا کہا؟

عطوان نے مزید کہا کہ صنعاء اور اس کی فوجی شاخ کے اگلے اقدامات کی پیشین گوئی کرنا مشکل ہے، لیکن کیا کہا جاسکتا ہے کہ حیران کن اقدامات ہو سکتے ہیں اس لیے کہ جنہوں نے خود کو ایلات پر میزائل اور ڈرون حملوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسرائیلی جہاز پر قبضہ کر کے سب کو حیران کر دیا،اس بات کا امکان بعید نہیں کہ ان کا اگلا قدم آبنائے باب المندب میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کا ہو تاکہ اسے حتمی شکل میں بند کیا جا سکے،محمد الحوثی جو صنعا کی گورننگ باڈی میں دوسرے بڑے عہدیدار ہیں، نے اسرائیل کے جہاز کی فوری رہائی کے لیے امریکہ کی درخواست کے جواب میں کہا کہ اس جہاز کو اس وقت تک چھوڑا نہیں جائے گا جب تک غزہ میں جنگ نہیں رک جاتی ،ہم کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہیں۔

مشہور خبریں۔

عراق اور سعودی عرب کے درمیان تعاون معاہدہ

?️ 1 اپریل 2021سچ خبریں:عراقی وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد نے دوطرفہ تعاون کی

پیرس میں چار ملکی اجلاس، لبنان میں کشیدگی بڑھنے پر تشویش

?️ 18 دسمبر 2025 پیرس میں چار ملکی اجلاس، لبنان میں کشیدگی بڑھنے پر تشویش

واٹس ایپ کے ویب ورژن میں بھی اے آئی چیٹ بوٹ متعارف

?️ 16 مئی 2024سچ خبریں: دنیا کی سب سے بڑی انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس

صیہونیوں کو اسلحہ کی ترسیل کے خلاف احتجاج میں مراکشی بندرگاہ کے ملازمین کے اجتماعی استعفے

?️ 25 اپریل 2025سچ خبریں:اسرائیل کو اسلحہ کی ترسیل پر احتجاج کرتے ہوئے مراکش کی

وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، دفاعی و سیکیورٹی تعاون مضبوط بنانے کا عزم

?️ 20 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف اور سعودی عرب کے

ایک "محفوظ اسرائیل” کی ترغیب دینا؛ نیتن یاہو نے یہودیوں کو راغب کرنے کے لیے سڈنی کو کیسے استعمال کیا؟

?️ 19 دسمبر 2025سچ خبریں: گزشتہ 3 سالوں کے دوران مقبوضہ علاقوں سے دسیوں ہزار

پاکستانی سینیٹر کا اقوام متحدہ سے اسرائیل کے بارے میں اہم مطالبہ

?️ 4 اپریل 2024سچ خبریں: پاکستانی سینیٹر نے شام کے شہر دمشق میں ایرانی قونصل

ترکی کا ایران جنگ کے حوالے سے مسلم ممالک کو انتباہ

?️ 28 مارچ 2026سچ خبریں:ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے مسلم اور عرب ممالک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے