امریکہ اور افغانستان؛ فوجی انخلا یا افراتفری پیدا کرنا

انخلا

?️

سچ خبریں:اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی موجودگی قوموں میں آفات اور بحرانوں کی سب سے اہم وجہ ہے اور اقوام کی فلاح و بہبود امریکی افواج کے انخلا پر منحصر ہے لیکن افغانستان میں جو کچھ ہوا وہ انخلانہیں بلکہ اس ملک کوخانہ جنگی میں ڈھکیلنا اوراس کے پڑوسی ممالک میں انتشار پھیلانا سمجھا جاتا ہے۔
افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا جو کہ طالبان کے ساتھ امریکی معاہدے کے مطابق ، جس پر 11 ستمبر 2020 کو دوحہ میں دستخط ہوئے تھے ،نے افغان حکومت کو حیران کر دیا کیونکہ اس معاہدے کو کابل حکام کے ساتھ بغیر کسی ہم آہنگی کے تیزی سے نافذ کیا گیا جیسا کہ اس ملک کے صدر اشرف غنی اور سپریم نیشنل مصالحتی کونسل کے صدر عبداللہ عبداللہ نے تسلیم کیا کہ افغانستان امریکی انخلا کے لیے تیار نہیں تھا اوران کے پاس انخلاء کے بعد کے مرحلے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

واضح رہے کہ انخلا یہاں تک کہ اس کی رفتار پر کابل کے حکام کے ساتھ امریکہ کی ہم آہنگی کے فقدان نے ایک سکیورٹی خلا پیدا کیاتوطالبان نے صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان کے تقریبا 80 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا اور وہ اس ملک کے دارالحکومت کابل سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر کھڑے ہیں،یہاں سوال یہ ہے کہ افغان نیشنل آرمی کہاں ہے، ایک ایسی فوج جو 20 سال تک امریکہ کے تحت نظر بنائی گئی جو مسلح اور تربیت یافتہ تھی اور اس میں تقریبا 3000 فوجی ہیں؟ یہ فوج 70 ہزار طالبان افواج سے کیسے ہار گئی جبکہ امریکیوں کا اصرار تھا کہ یہ فوج طالبان کا مقابلہ کر سکتی ہے ؟!یہ بات واضح ہے کہ امریکہ افغانستان میں ایک مضبوط قومی فوج کے قیام میں سنجیدہ نہیں ہے ، جس طرح وہ منشیات سے لڑنے اور پاکستان کے ساتھ افغانستان کے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں رہا ہے نیز عراق اور شام سے داعش کے کئی عناصر کی منتقلی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ان تمام عوامل نے افغانستان کو خانہ جنگی کی تاریک سرنگ میں ڈھکیل دیا ہے جس کے اثرات امریکی فوجیوں کے اچانک انخلاء سے ظاہر ہوئے ہیں،تاہم افغانستان میں امریکی مشن اب کابل میں اپنے شہریوں اور سفارت کاروں کو منتقل کرنے تک محدود ہے جبکہ انخلا کا عمل مکمل کرنے کے لیے 300 فوجی کابل ایئرپورٹ پر بھیج رہے ہیں۔

برطانیہ نےاس ملک کے بدعنوانی اور افراتفری میں ڈوبنے وجہ سے اپنے شہریوں کو کابل سے نکالنے میں مدد کے لیے 600 فوجی بھیجے ہیں،مبصرین کا خیال ہے کہ افغانستان اور عراق پر امریکی حملے کے ساتھ ساتھ یمن ، لبنان اور خطے کے دیگر ممالک کو غیر مستحکم کرنے کی اس کی کوششوں کا مقصد انتشار پیدا کرنا اور القاعدہ جیسے دہشت گردوں اور تکفیری گروہوں کومدد فراہم کرنا ہے نیزداعش ان ممالک میں داخل کرنا ہے جو امریکہ اور صیہونی حکومت کے مفادات میں کام کر رہے ہیں۔

 

مشہور خبریں۔

وزیر اعظم سے گورنر پنجاب کی ملاقات،دورۂ یورپ پر بریفنگ

?️ 22 اکتوبر 2021لاہور(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان سے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور

یورپی ممالک اور امریکہ نے صہیونی کو ویزا دینے کے قوانین سخت کردیے

?️ 6 نومبر 2025یورپی ممالک اور امریکہ نے صہیونی کو ویزا دینے کے قوانین سخت

اسرائیلی قیدی مکمل صحت کے ساتھ آزاد، مگر فلسطینی قیدی بدترین حالات کا شکار

?️ 15 اکتوبر 2025اسرائیلی قیدی مکمل صحت کے ساتھ آزاد، مگر فلسطینی قیدی بدترین حالات

کراچی:  بینک ڈکیتی کے ملزمان کی جانب سے لوٹی گئی  رقم سے متعلق اہم انکشاف

?️ 3 اپریل 2021کراچی(سچ خبریں) گذشتہ ماہ شہر قائد میں ہونے والی بینک ڈکیتی کے

نیٹن یاہو اور ٹرمپ کے باوجود مقدمہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل

?️ 15 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن

امریکی ایوان نمائندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مذہبی تعصب پر مبنی قانون کے خلاف اہم قدم اٹھا لیا

?️ 22 اپریل 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی ایوان نمائندگان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

سی این این کے خلاف ٹرمپ کی شکایت

?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:امریکہ کے سابق صدر نے CNN پر توہین اور ہتک عزت

یورپی یونین کا قانونی شعبہ IRGC کو دہشت گرد قرار دینے کے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے:فنانشل ٹائمز

?️ 31 جنوری 2023سچ خبریں:فنانشل ٹائمز اخبار نے اطلاع دی ہے کہ یورپی یونین کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے