اسلامو فوبیا میں استعمار کی طویل تاریخ کے آثار

استعمار

?️

سچ خبریں:اگرچہ اسلامو فوبیا کی کوئی مستقل تفہیم یا تعریف نہیں ہے،تاہم سماجی کارکن اسے سلطنت اور استعمار کی طویل تاریخ میں جڑی ایک قسم کی ساختی اور انفرادی نسل پرستی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اگرچہ اسلامو فوبیا کی کوئی مستقل تفہیم یا تعریف نہیں ہے، تاہم سماجی کارکن اسے سلطنت اور استعمار کی طویل تاریخوں میں جڑی ایک قسم کی ساختی اور انفرادی نسل پرستی کے طور پر دیکھتے ہیں جیسا کہ امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کے واقعات نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے گہرے اور طویل مدتی اثرات مرتب کیے ہیں اور اسلامو فوبیا کی نئی شکلیں پیدا کی ہیں۔

اس وجہ سے سیاسی اور سماجی تجزیہ کاروں نے اسلامو فوبیا کے مختلف جہتوں کا جائزہ لیا ہے جو پالیسی سازی، سماجی اور اقتصادی ڈھانچے، اداروں اور دنیا بھر میں عوامی نمائندگی کے ذریعے مسلم زندگی کی حقیقت کو تشکیل دیتے ہیں، یہ سب کچھ مسلمانوں کی نمائندگی اور کینیڈا میں "مسلمان” ہونے کے ان کے مجسم تجربے کو تشکیل دیتا ہے، اسلامو فوبیا کو نہ صرف روزانہ نفرت کے جرائم بلکہ روزانہ کی توہین، خاموشی اور مسلمانوں کے جذبات اور بھائی چارگی کو مجروح کرنے میں شکل میں بھی غور کرنا بہت ضروری ہے۔ ایسے عام طریقے ہیں جن کی حمایت کرنے والے معلمین ،بورڈز، پالیسیاں اور نصاب اسکولوں میں اسلامو فوبیا کی حقیقت کو برقرار رکھتے ہیں اور وہ ہے اسلامو فوبیا کے مسئلے کو حل کرنے سے گریز کرنا۔

ان طریقوں میں سے ایک جس سے اسکول اسلامو فوبیا کو حل کرنے سے گریز کرتے ہیں وہ ہے نسل پرستی، زینو فوبیا، اور جبر کے بارے میں بڑے مباحثوں میں واضح طور پر اس کو حل کرنے اور اس سے نمٹنے کو نظر انداز کرنا، نسل پرستی کی عام فہم نسل کی محدود تعریفیں پیش کرتی ہے جو کہ خالصتا حیاتیاتی ہیں لیکن جیسا کہ مشہور ماہر عمرانیات سحر سلود بتاتے ہیں کہ نسل پرستی ایک ایسا عمل ہے جو ثقافتی، سیاسی یا قانونی بیانیے کے ذریعے ہوتا ہے۔

اسلامو فوبیا مسلمانوں کو دوسرے درجہ کے شہری کے طور دیکھنے اورپر نسل پرستی کا نتیجہ ہے، اگرچہ اسلاموفوبیا نسل پرستی کی ایک شکل ہے، لیکن یہ سمجھنا چاہیے کہ مسلم طلبہ کی سماجی و اقتصادی حیثیت، نسلی اور لسانی شناخت کے ساتھ ساتھ جنس کے لحاظ سے بھی متعدد شناختیں ہوتی ہیں اور اس طرح ایک مسلمان طالب علم کے لیے اسلاموفوبک ہونے کے کئی طریقے ہیں۔

شناخت کے اس طرح کے باہم جڑے ہوئے پہلوؤں کا تعلق جبر کے وسیع تر نظاموں سے ہے اور جیسا کہ تعلیم کے محقق جارج جی صفا دی نے نشاندہی کی ہےکہ نسل پرستی مخالف تعلیم کو اس طرح کے جبر کا جواب دینے کی کوشش کرنی چاہیے، کینیڈا میں پبلک اسکول کا نصاب بنیادی طور پر ایک مذہب کی تعلیم پر مبنی ہے اور بڑی حد تک ایسی بحثوں سے گریز کرتا ہے جو شناخت اور حیاتیاتی تجربے کے حصے کے طور پر ایمان اور روحانیت سے جڑی ہوں۔

اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے سفید فاموں کی بالادستی، اس کی نسلی طاقت کے درجہ بندی کی ایک تنقیدی جانچ کی ضرورت ہےجبکہ کینیڈا اور اس کے اسکولوں میں ایسا نہیں کیا گیا۔

 

مشہور خبریں۔

دہشت گردانہ حملہ ناکام بنانے پر وزیراعظم کا سیکیورٹی جوانوں کو سلام

?️ 3 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان  نے پنجگور اور نوشکی

اے این پی رہنما جمال ناصر ساتھیوں سمیت ن لیگ میں شامل ہوگئے ہیں۔ امیر مقام

?️ 28 جنوری 2026پشاور (سچ خبریں) وفاقی وزیر امورِ کشمیر انجینئر امیر مقام نے نیوز

کرپشن یا نظام کوکون ٹھیک کرے گا؟ آئی ایم ایف نے سوالات اٹھا دیے ہیں: تیمور جھگڑا

?️ 22 نومبر 2025اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے

اسد عمر نے مراد سعید کو مبارک باد دی

?️ 28 دسمبر 2021لاہور (سچ خبریں)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بنی نے وزیر برائے مواصلات کو

امریکہ نے ابھی تک سفری پابندیوں سے متعلق باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا، دفتر خارجہ

?️ 20 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ

اسرائیلی فوجیوں کی تفصیلات منظر عام پر

?️ 29 اکتوبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے چینل 12 نے اتوار کی شام شائع

الیکشن کمیشن کا فیصلہ پاکستان کے مفاد میں ہے، مریم اورنگزیب

?️ 24 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا

امریکہ نے حزب اللہ کے بارے میں اسرائیل کو کیا کہا؟

?️ 11 ستمبر 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے ایک اخبار نے لبنان کے خلاف جنگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے