?️
سچ خبریں:حقیقت یہ ہے کہ آج بین الاقوامی نظام پہلے سے کہیں زیادہ صیہونی حکام میں توسیع پسندی، قبضے اور جارحیت کی خواہش کا مشاہدہ کر رہا ہے!
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس پر قابض حکومت کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کو امریکی خارجہ پالیسی کے میدان میں ایک مثالی کامیابی قرار دیا لیکن آج دنیا اس نظام کے خاتمے کا مشاہدہ کر رہی ہے جسے نیتن یاہو اور ٹرمپ نے ناقابل تحلیل تصور کیا تھا۔
زیادہ دور ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں! بلکہ حالیہ مہینوں میں صیہونی حکومت کا غیر قانونی بستیوں کی تعمیر پر اصرار اور فلسطینیوں کے کم سے کم حقوق کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے اس کی عالمی تنہائی کے علاوہ ہم اس حکومت کی علاقائی تنہائی کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال اردن سے اسرائیلی سفیر کی بے دخلی ہے۔
اردن کی پارلیمنٹ نے نیتن یاہو کے وزیر خزانہ اسموٹریچ کے توسیع پسندانہ موقف کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے متفقہ طور پر اس ملک حکومت سے عمان میں تل ابیب کے نمائندے کو ملک بدر کرنے کا کہا جس کے بعد اردنی حکومت صیہونی سفیر کو ملک بدر کرنے کی پابند ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ اردن کی پارلیمنٹ نے اپنے حالیہ اجلاس میں ایک نقشہ پیش کیا جس پر اردن اور فلسطین کے جھنڈے درج تھے،اردنی پارلیمنٹ کا یہ اقدام انتہائی دائیں بازو کی مذہبی صیہونی پارٹی کے رہنما اسموٹریچ کے موقف کے جواب میں سامنے آیا ہے جس نے پیرس میں دعویٰ کیا تھا کہ فلسطینی قوم نام کی کوئی چیز نہیں! اس کے علاوہ اس صہیونی وزیر کی تقریر کے پوڈیم پر ایک توسیع پسندانہ نقشہ بھی نصب کیا گیا تھا جس میں اردن کی سرزمین کا ایک حصہ بھی مقبوضہ علاقوں کے ساتھ ملایا گیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی نظام آج پہلے سے کہیں زیادہ تل ابیب کے حکام میں توسیع پسندی، قبضے اور جارحیت کی خواہش کا مشاہدہ کر رہا ہے! یہاں تک کہ وہ اداکار بھی جو حال ہی میں خطے میں مشترکہ مواقع حاصل کرنے کے لیے صیہونیوں کے ساتھ دوستی پر یقین رکھتے تھے وہ بھی بیت المقدس پر قابض حکومت کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ اپنے اندازے کے غلط ہونے سے آگاہ ہو چکے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اب صیہونی حکام نے غیر فعال دو ریاستی منصوبے جو خطے میں تل ابیب اور عرب اداکاروں کے درمیان ابتدائی معاہدے کی بنیاد تھا، (جسے فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے) کو بھی مسترد کر دیا ہے، وہ اس وقت پوری فلسطینی سرزمین پر صیہونی حاکمیت کے نعرے لگا رہے ہیں، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اردن سمیت خطے کے دیگر ممالک کو بھی مقبوضہ علاقوں میں شامل کر رہے ہیں!
یقیناً اسموٹریچ، نیتن یاہو اور بن گوئر جیسے لوگ آج جو بھی کر رہے ہیں، وہ صیہونی حکومت کی جنگلی اور غاصبانہ نوعیت کے حوالے سے عرب دنیا کے بعض سیاست دانوں کی پر امید پالیسی کا نتیجہ ہے، آج یہ بات سب پر عیاں ہوچکی ہے کہ تل ابیب اور واشنگٹن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے کیا نتائج نکلیں گے، اردنی حکام پہلے سے کہیں زیادہ اس سے آگاہ ہوچکے ہیں،امید ہے کہ یہ آگاہی ایک قابض، غیر مستحکم اور توسیع پسند عنصر کے خلاف حال اور مستقبل میں درست اور عقلی فیصلوں کی بنیاد بنے گی۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل کو امریکہ کی سب سے بڑی فوجی امداد
?️ 12 مارچ 2025سچ خبریں: اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی نئی
مارچ
ضمنی انتخابات میں کامیابی کیلئے پی ٹی آئی ڈور ٹو ڈور مہم چلائے گی۔
?️ 12 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات میں کامیابی کیلئے تحریک انصاف ایڑی
جولائی
صیہونی فوج کی دفاعی طاقت میں کمزوری؛ قابض حکومت کی تباہ کن کمی
?️ 15 نومبر 2021سچ خبریں:صیہونی فوج کے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے کہ متعدد
نومبر
پاکستان پوسٹ کو فنڈز کے غلط استعمال، غیر قانونی بھرتیوں پر شدید تنقید کا سامنا
?️ 30 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے وزارت
مئی
ایران کے مقابلے میں ٹرمپ کی پسپائی، امریکہ اپنے اعلانیہ اہداف سے پیچھے ہٹ گیا: وال اسٹریٹ جرنل
?️ 16 جون 2026سچ خبریں:امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایران کے ساتھ معاہدے کے
جون
وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے پولنگ 6 اپریل کو ہوگی:پرویز الہیٰ
?️ 3 اپریل 2022لاہور(سچ خبریں) میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وزیر
اپریل
عاطف اسلم نے غزہ کیلئے ایک کروڑ 50 لاکھ روپے عطیہ کردیے
?️ 22 اکتوبر 2023کراچی: (سچ خبریں) نامور گلوکار عاطف اسلم نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی
اکتوبر
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وارنٹ گرفتاری منسوخ
?️ 6 جولائی 2024سچ خبریں: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے
جولائی