ہماری 2 نسلیں انصاف مانگنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ آتی رہیں، بلاول بھٹو

?️

لاہور: (سچ خبریں) سابق وزیر خارجہ و چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہماری 2 نسلیں انصاف مانگنے کے لیے لاہورہائیکورٹ آتی رہیں ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مجھے ایک بار پھر موقع دیا گیا، لاہورہائیکورٹ بار کا شکرگزار ہوں، کہا جاتا ہے کہ جو قاتل ہوتا ہے وہ ہمیشہ جائے وقوعہ پر واپس لوٹتا ہے مگر اس لاہور ہائیکورٹ میں ہماری 2 مظلوم، متاثرہ نسلیں انصاف مانگنے کے لیے آتی رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں بڑے احترام سے کہتا ہوں کہ آج تک اس لاہور ہائی کورٹ کو کرائم سین کی طرح دیکھا جاتا ہے کیونکہ یہاں ایک قتل ہوا اور قاتل آمر ضیاالحق، لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے وہ جج، وہ بیوروکریٹس تھے جو اس میں سہولت کار بنے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں جسٹس قاضی فائز عیسی سمیت تمام جج صاحبان کا شکر گزار ہوں کہ صدر زرداری کے 12 سال پہلے بھیجے گئے ریفرنس پر سماعت ہورہی ہے اور امید ہے کہ اتنے سال بعد قائد عوام کو انصاف ملے گا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جج صاحبان اپنے فیصلوں سے وہ داغ دھوئیں گے صرف اس لیے نہیں کہ وہ مجھے، میرے خاندان اور میرے کارکنان کو انصاف دیں گے بلکہ اس لیے کہ وہ ایک اور پتھر پر لکیر کھینچے گے کہ آج کے بعد کسی وزیر اعظم کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہونا چاہیے تاکہ ملک ترقی کرسکے۔ْ

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہماری قوم انتہائی محنتی ہے، ہم کسی سے کم نہیں ہیں، قائد اعوان کی قیادت میں لاہور میں او آئی سی کی کانفرنس کروائی گئی، پاکستان نے مسلم دنیا کو لیڈ کیا، جو بھی اس کانفرنس میں مسلم امہ کے لیڈران موجود تھے ان کو قتل کیا گیا تو کیا یہ محض اتفاق ہے؟

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاست میں تفریق پیدا ہوگئی ہے، ہم نے سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کردیا تھا، اس میں سب سے بڑا کردار خان صاحب کا تھا، وہ کہتا تھا کہ میں چور سے بات نہیں کروں گا، تو جو تربیت کی جاتی ہے باقی سیاسی جماعتوں میں کہ اگر میرے ہو تو اچھے ورنا غدار ہو، کافر ہو تو ایسے ملک نہیں چلایا جاسکتا۔

انہوں نے بتایا کہ میں محب وطن پاکستانی ہوں میں سیاسی کارکنان کی عزت کرتا ہوں چاہے وہ کسی بھی جماعت کا ہو، مجھے آپ کی مدد چاہیے تاکہ ہم یہ بخار توڑیں جو ملک میں چڑھا ہوا ہے، اگر آج پاکستان میں یہ تقسیم کی سیاست پھر نظر آرہی ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ یہ خان صاحب واپس لے کر آئیں ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہم پاکستانی سیاست کو نئی سمت میں لے کر جائیں، اگر ہم یہی پرانی سیاست کریں گے تو جو بھی وزیر اعظم بنے گا ملک نہیں چلے گا، مسئلوں سے نہیں بچ سکیں گے، میں سمجھتا ہوں کہ قائد عوام کا جو کیس چل رہا ہے یہ بڑا موقع ہے کہ ہم اپنی تاریخ درست کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پرانے سیاستدان اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کا ذکر کرتے ہیں اور جب حکومت میں آتے ہیں تو پھر آئین، قانون، جمہوری حقوق سب کو بھول جاتے ہیں، کوئی امیر المومنین بننا چاہتا ہے تو کوئی ملک کو ٹائیگر فورس میں تبدیل کر دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اب اپنا حق چھیننا ہے، اپنے فیصلے خود کرنے ہیں تو شاید اپنے ملک کو، اپنی عوام کو غربت، بے روزگاری سے بچا سکیں گے، ہم اپنی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی بحران سے گزر رہے ہیں، یہ ہم سب کا ملک ہے، آئیں مل کے اس ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں، ہم اپنی نوجوان نسل کو مایوس نہیں کرنا چاہتے۔

مشہور خبریں۔

اربیل سمٹ میں شریک ہونے والے افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری

?️ 28 ستمبر 2021سچ خبریں:عراقی سپریم کورٹ نے اربیل میں صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات

شامی اتحادیوں کے مشترکہ آپریشن روم کی نئی حکمت عملی

?️ 27 اکتوبر 2021سچ خبریں:التنف میں امریکی فوجی اڈے کو 5 سمارٹ ڈرونز سے براہ

اپنی ویڈیوز خود بنائی تھیں، انہیں ایک خاتون نے لیک کیا، رابی پیرزادہ کا انکشاف

?️ 23 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نازیبا ویڈیوز لیک ہونے کے بعد شوبز چھوڑ

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

?️ 23 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں ) وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا

بلاول بھٹو کی صحافیوں پر پی ٹی آئی کارکنوں کے حملہ کی مذمت

?️ 8 ستمبر 2025ملتان (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پی

میانمار میں ہونے والے قتل عام میں صیہونی حکومت شامل

?️ 16 جنوری 2023سچ خبریں:رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق میانمار میں فروری 2021 کی فوجی

گندم کا بحران: پنجاب اور خیبرپختونخوا کا حکومت کی پیشکش قبول کرنے سے انکار

?️ 20 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب

صیہونی حکومت کی غنڈہ گردی کے خلاف حزب اللہ کی مقاومت جائز

?️ 25 نومبر 2021سچ خبریں:  اسلامی مقاومتی تحریک حماس کے ترجمان عبداللطیف القانو نے آسٹریلیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے