?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) قلیل مدتی مہنگائی 19 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر اضافے کے بعد 35.45 فیصد پر پہنچ گئی۔میڈیا رپورٹس میں سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ حساس قیمت انڈیکس (ایس پی آئی) سے پیمائش کردہ قلیل مدتی مہنگائی میں اضافے کی وجہ اشیائے ضروریہ اور بجلی کی قیمتوں کا بڑھنا ہے، قلیل مدتی مہنگائی گزشتہ 6 ہفتے سے 30 فیصد سے اوپر ہے۔
گزشتہ ہفتے، نگران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کیا تھا، چیزوں کی قیمتوں میں اس کا اثر آنے والے ہفتوں میں نظر آئے گا۔
تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ موجودہ مہینے کے آخر میں نظرثانی جائزے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوسکتی ہے، اس کے باوجود ریگولیٹری نظام کی عدم موجودگی کے سبب ٹرانسپورٹیشن کی لاگت میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قلیل مدتی مہنگائی گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 1.7 فیصد کم ہو گئی، حساس قیمت انڈیکس میں 51 مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، زیر جائزہ مدت کے دوران 14 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 24 کی قیمتیں کم ہو گئیں، اسی طرح گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 13 مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
زیر جائزہ ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، ان میں بجلی (136.89 فیصد)، گیس (108.38 فیصد)، سگریٹ (94.46 فیصد)، پسی مرچ (84.11 فیصد)، باسمتی چاول ٹوٹا (81.74 فیصد)، گندم کا آٹا (80.73 فیصد)، چاول ایری 6/9 (71.43 فیصد)، چینی (66.29 فیصد)، گڑ (61.50 فیصد)، مردانہ چپل (58.05 فیصد)، نمک (57.40 فیصد) اور لپٹن چائے (56.27 فیصد) شامل ہیں۔
ہفتہ وار بنیادوں پر جن مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، ان میں انڈے (3.44 فیصد)، نمک (2.63 فیصد)، شرٹ کا کپڑ ا (2.18 فیصد)، بکرے کا گوشت (1.01 فیصد)، گائے کا گوشت (0.84 فیصد)، پکا ہوا گوشت (0.72 فیصد)، صابن (0.48 فیصد)، تیار چائے (0.34 فیصد)، پکی ہوئی دال (0.34 فیصد)، آلو (0.25 فیصد) اور آگ جلانے والی لکڑی (0.22 فیصد) شامل ہے۔
رواں برس مئی میں ایس پی آئی 4 مئی کو 48.35 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد 3 ہفتوں تک 45 فیصد سے اوپر رہا۔
مہنگائی کے رجحان کی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی، پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، سیلز ٹیکس اور بجلی کے بل ہیں۔
آئی ایم ایف کی تازہ ترین پیش گوئی کے مطابق اوسط کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پچھلے سال کے 29.6 فیصد کے برعکس رواں مالی سال 25.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
دریں اثنا، ہفتہ وار بنیادوں پر ان اشیا کی قیمتیں کم ہو گئیں، پیاز (8.45 فیصد)، مرغی کا گوشت (5.46 فیصد)، دال مسور (3.38 فیصد)، چینی (3.07 فیصد)، لہسن (2.24 فیصد)، باسمتی چاول ٹوٹا (2.17 فیصد)۔


مشہور خبریں۔
حماس کا غزہ کے ساتھ عالمی یکجہتی کا اعلان کرنے کا مطالبہ
?️ 29 نومبر 2024سچ خبریں: تین روزہ کال کے دوران فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک
نومبر
ہمیں چپ رہنے کیلئے بہت سارے لوگوں نے رابطے کئے،علیمہ خان
?️ 12 مارچ 2024لاہور: (سچ خبریں) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ
مارچ
اشتہارات کے بغیر فیس بک اور انسٹاگرام کے استعمال پر یورپ میں ماہانہ فیس عائد
?️ 2 نومبر 2023سچ خبریں: دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک اور
نومبر
سری لنکا میں ایک بار پھر ایمرجنسی نافذ
?️ 8 مئی 2022سچ خبریں:سری لنکا میں خراب معاشی صورتحال کے خلاف عوامی مظاہروں کے
مئی
آذربائیجان کا مسافر طیارہ حادثے کا شکار؛درجنوں افراد جاں بحق
?️ 25 دسمبر 2024سچ خبریں:آذربائیجان کا مسافر طیارہ قزاقستان میں گر کر تباہ ہوگا جس
دسمبر
راولپنڈی میں الیکٹرک بسیں چلانے کے لیے منصوبہ تیار
?️ 26 اکتوبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) راولپنڈی میں شہریوں کی سفری سہولت کے لئے الیکٹرک
اکتوبر
لاہور ہائی کورٹ نے پولیس کو پنجاب اسمبلی میں داخل ہونے سے روک دیا
?️ 22 جولائی 2022لاہور: (سچ خبریں)لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست
جولائی
ترکیہ کے ساتھ ترجیحی تجارت کا معاہدہ نافذ العمل ہو گیا
?️ 5 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تقریباً 7 سال کے
مئی