?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے آسان فنڈنگ کے قوانین کا جامع جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد سیکٹر کے لیے مالیات تک پائیدار، ذمہ دارانہ اور جامع رسائی کو فروغ دینا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قوانین میں ترامیم کا مقصد ایک ایسا طریقہ کار واضح کرنا ہے جس میں ان اداروں کو بینکوں سے قرضوں کے حصولی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، ساتھ ہی قرضوں کی واپس ادائیگی میں سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے ملکی ترقی میں بے پناہ کردار کے باوجود طویل عرصے سے عدم توجہ کا شکار رہے ہیں، تقریبا 80 فیصد کے قریب نوکریاں اس غیر زرعی شعبے میں فراہم کی جارہی ہیں جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا 40 فیصد بنتا ہے۔
نجی بینکوں کی جانب سے دیے جانے والے قرضوں میں سے صرف 6 فیصد ہی اس شعبے کو دیا جاتا ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان اداروں کے شاندار کردار کے باوجود انہیں اہمیت نہیں دی جارہی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے یہ اصلاحات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ملک میں نوکریوں کا بحران پیدا ہو چکا ہے اور 3 سالوں میں مجموعی طور پر شرح نمو صرف 1.7 فیصد رہی، جو بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
پاکستان میں تقریباً 50 لاکھ کے قریب ایس ایم ایز کام کر رہی ہیں، یہ شعبہ ملکی ترقی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور نئی نوکریوں دینے کے ساتھ ساتھ ملکی برآمدات میں اضافے کا سبب بھی بن رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اس جائزے کا مقصد بینکوں کو ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دینا اور ایس ایم ایز کی مالیاتی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کرنے کے لیے فنٹیکس اور دیگر غیر مالیاتی خدمات فراہم کرنے والوں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینا ہے‘۔
مرکزی بینک نے فروری 2025 میں تمام بینکوں کی ہدایت کی تھی کہ وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو قرضوں کی فراہمی کو آسان بنائیں۔ رواں مالی سال میں شرح سود 22 سے کم ہو کر 11 فیصد تک گرنے سے قرض دینے کی شرائط میں نرمی کی توقع ہے اور ممکنہ طور پر ایس ایم ایز کی مالی اعانت کے لیے بینکوں کی رضامندی میں بہتری آئے گی۔
ایس ایم ایز پاکستان کے بیرونی شعبے میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو کُل برآمدات میں تقریباً 25 فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔ حکومت نے اگلے پانچ سالوں میں برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کا بہت زیادہ انحصار ایس ایم ایز کی صلاحیت اور ترقی پر ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک نے اپنا جائزہ عوامی مشاورت کے لیے پیش کردیا ہے، اور کہا ہے کہ تجاویز سے اسے ایس ایم ای فنانس کے پروڈنشل ضوابط کو مارکیٹ کی حرکیات کے ساتھ مزید ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی۔
اس سے قبل بینکنگ ایسوسی ایشن نے ایک سال کے اندر ایس ایم ای انڈیکس تیار کرنے کے لیے مارکیٹ سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایسوسی ایشن کا خیال ہے کہ انڈیکس بینکوں کو کاروباری اداروں کو قرض دینے کے بارے میں فیصلے کرنے کے قابل بنائے گا۔
مرکزی بینک نے وژن 2028 کے تحت چھوٹے کاروباری اداروں کو مالی طور پر مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈنگ کا منصوبہ بنایا ہے مرکزی بینک آئندہ 5 برسوں میں چھوٹے کاروباری اداروں کی فنانسنگ کو دو گنا کر کے 11 کھرب روپے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔


مشہور خبریں۔
خطے میں استحکام کی بنیاد؛ جنگ کا خاتمہ اور فلسطینی ریاست کا قیام
?️ 8 فروری 2024سچ خبریں:مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق تحریک حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے
فروری
مصر میں سوئیڈش سفارتخانے کا اپنی حکومت مخالف بیان
?️ 1 جولائی 2023سچ خبریں:قاہرہ میں سویڈن کے سفارت خانے نے جمعے کی شام اسٹاک
جولائی
سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ؛ امریکہ کی چین دشمنی کا نیا مرحلہ
?️ 6 دسمبر 2021سچ خبریں:توقع ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اس ہفتے
دسمبر
پاکستان سے مارشل لا کے دن چلے گئے ہیں، عمران خان
?️ 6 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے
اپریل
اسکول کے اوقات میں چائلڈ اداکاروں کے ڈراموں میں کام پر پابندی کا آرڈیننس جاری
?️ 31 دسمبر 2023کراچی: (سچ خبریں) گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ایک آرڈیننس جاری کیا
دسمبر
افغان ہمارے مہمان نہیں، واپس چلے جائیں، دھماکے برداشت نہیں کرسکتے۔ محسن نقوی
?️ 1 دسمبر 2025لاہور (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ
دسمبر
غزہ پر یورپ کے موقف میں واضح تبدیلیاں
?️ 27 اگست 2025سچ خبریں: الوفد کے حوالے سے، عرب لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حسام
اگست
نیتن یاہو کے اقوام متحدہ میں دو یادگار مناظر!
?️ 28 ستمبر 2025سچ خبریں: صہیونی اخبار کے صحافی بین کاسیٹ نے اپنے ایک مضمون
ستمبر