پی پی کا نئی حکومت میں وزارتیں نہ لینے کا اشارہ

?️

اسلام آباد(سچ خبریں)سابق صدر و شریک چئیرمین پیپلزپارٹی آصف زرداری نے نئی حکومت میں کوئی بھی وزارت یا عہدہ نہ لینے کا اشارہ دے دیا۔پارلیمنٹ کی راہداری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نئی حکومت میں پیپلز پارٹی کے عہدوں اور وزارتوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’میرا تو خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کوئی وزارت نہیں لے گی‘۔

مہنگائی کا بوجھ نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف کاندھوں پر ڈالنے کے سبب عہدے نہ لینے سے متعلق ایک سوال کے جوان میں ان کا کہنا تھا کہ ’ ایسی کوئی بات نہیں ہم چاہ رہے ہیں کہ دوستوں کو موقع دیا جائے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں یہ بازگشت بھی سامنے آئی تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی حکومت میں بلاول بھٹو زرداری کی بطور وزیر خارجہ کابینہ میں شمولیت کے معاملے پر تقسیم ہے۔

متعدد پارٹی رہنماؤں سے پس منظر میں کیے گئے انٹریوز سے کچھ میڈیا حلقوں میں پھیلی ان اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے کہ چیئرمین پی پی پی وزیر خارجہ بن سکتے ہیں تاہم اس معاملے پر مشاورت جاری ہے۔

تاہم دوسرے کیمپ کے اراکین کا خیال تھا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی کو شہباز شریف کی زیر قیادت وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بننا چاہیے کیوں کہ اس سے اتحادی حکومت میں دوسری بڑی جماعت کے سربراہ کی حیثیت مجروح ہوگی۔

اس کیمپ کا ماننا ہے کہ شاید پیپلزپارٹی کے ورکرز اپنے چیئرمین کو مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعظم کے ماتحت کام کرتا دیکھ کر ناپسند کریں جو سیاست میں پی پی پی کی سب سے بڑی حریف ہے۔

بلاول بھٹو کے ایک قریبی اور سینیئر پارٹی رہنما نے کہا کہ ’میں نے اپنے چیئرمین کو ملک کا وزیر خارجہ بننے کا مشورہ دیا ہے‘۔

انہوں نے کہاتھا کہ ملک کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے اور وہ نوجوانوں کے نمائندہ ہیں، بلاول کی ان کی والدہ بینظیر بھٹو کی وجہ سے دنیا میں اچھی ساکھ ہے جو انہیں عالمی رہنماؤں کے ساتھ بین الاقوامی امور پر بات چیت میں مدد دے گی۔

پارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ اس سے ان لوگوں میں ان کی مقبولیت بڑھے گی جنہوں نے سابق وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو نہیں دیکھا اور اس سے پیپلزپارٹی کو مستقبل میں فائدہ ہوگا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کا بطور وزیر خارجہ تجربہ وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر ان کا کیس مضبوط کرے گا، تاہم اس معاملے پر کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہورہی اور ایک سے دو روز میں فیصلہ کرلیا جائے گا۔

اسی طرح پیپلز پارٹی کے دوسرے کیمپ کے سینیئر رہنما کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کو کابینہ کا کوئی پورٹ فولیو نہیں لینا چاہیے کیونکہ وہ پارٹی کے معاملات پر توجہ نہیں دے سکیں گے جس کا پیپلز پارٹی کو آئندہ عام انتخابات میں نقصان ہوسکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سبکدوش ہونے والے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی قومی اسمبلی میں کی گئی اپنی تقریر میں پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین کوشہباز شریف کے ماتحت وزیر خارجہ نہ بننے کا مشورہ دیاتھا۔

پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رہنما کا کہنا تھا کہ وہ وفاقی کابینہ کے پورٹ فولیوز کے بجائے آئینی عہدوں میں دلچسپی رکھتے ہیں کیوں کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے استعفوں کے بعد وہ عہدے خالی ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے عام انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹس کی درخواستیں طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے ملک بھر سے قومی اسمبلی اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔

پارٹی ٹکٹ کی درخواستوں کو پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر دیکھیں گے۔

درخواستیں 30 اپریل تک اسلام آباد میں پارٹی کے سیکریٹریٹ یا بلاول ہاؤس کراچی کو پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مشہور خبریں۔

بائیڈن کے ذہنی توازن پر ایک بار پھر سوالیا نشان

?️ 17 جون 2023سچ خبریں:امریکی صدر جو بائیڈن، جن کا میڈیا کی جانب سے مختلف

عالمی ایجنسی نے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار ریٹنگ میں کمی کردی

?️ 23 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اسٹینڈرڈ اینڈ پورز (ایس اینڈ پی) گلوبل ریٹنگ ایجنسی

نصف صدی قبل فلسطینیوں کو مصر جلاوطن کرنے کے صہیونی منصوبے بے نقاب 

?️ 3 فروری 2025سچ خبریں: برٹش نیشنل آرکائیوز کی تاریخی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے

جنوبی کورڈوفن ریاست میں 750 افراد بے گھر 

?️ 9 فروری 2026 سچ خبریں:بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت  نے ایک بیان جاری کرتے

اقوامِ متحدہ میں پاکستان سے متعلق قرارداد کی منظوری پر بلاول بھٹو کا اظہارِ تشکر

?️ 9 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوامِ متحدہ

سعودی عرب میں اقتدار کی منتقلی قریب ہے: سعودی ذریعہ

?️ 22 مئی 2022سچ خبریں: سعودی ولی محمد بن سلمان کے دورہ متحدہ عرب امارات

حزب اللہ 2 گھنٹے میں تل ابیب پر 1000 راکٹ فائر کر سکتی ہے: صہیونی میڈیا

?️ 29 جنوری 2024سچ خبریں:عبرانی میڈیا نے گزشتہ روز خبر دی تھی کہ حزب اللہ

کیا حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ ہو سکتی ہے؟صہیونی ذرائع ابلاغ کا دعوی

?️ 6 جون 2024سچ خبریں: صہیونی حکومت سے وابستہ ذرائع نے لبنان کی اسلامی مزاحمتی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے