پروگرام میں ایسا کوئی مطالبہ نہیں جس سے پاکستانی انتخابات میں مداخلت ہو، آئی ایم ایف

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ صوبائی انتخابات کے انعقاد کے لیے آئینی حیثیت، فزیبلٹی اور وقت صرف پاکستان کے اداروں کے ماتحت ہے اور پروگرام میں ایسا کوئی تقاضا نہیں ہے جس سے انتخابی عمل میں مداخلت ہو۔

آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ صوبائی انتخابات کے انعقاد لیے آئینی حیثیت، فزیبلٹی اور وقت صرف پاکستانی کے اداروں کے پاس ہے اور توسیعی فنڈ سہولت کے پروگرام میں ایسا کوئی تقاضا نہیں جو ملک کی آئینی سرگرمیاں کرنے کی صلاحیت میں مداخلت کر سکے۔

آئی ایم ایف کی طرف سے ایسا بیان اس وقت آیا ہے جب کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک میں اقتصادی اور سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات میں پانچ ماہ تاخیر کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈان ڈاٹ کام کے پاس دستیاب ای سی پی کے آرڈرکے مطابق 9 مارچ کو ہونے والی ایک میٹنگ میں وزارت خزانہ کے سیکریٹری نے کمیشن کو بریفنگ دی کہ فنڈز کی کمی اور مالیاتی بحران کی وجہ سے ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے اور ملک آئی ایم ایف پروگرام کے دباؤ میں ہے جس نے مالیاتی نظم و ضبط اور خسارے کو برقرار رکھنے کے اہداف مقرر کیے ہیں۔

سیکرٹری خزانہ نے کہا تھا کہ حکومت کے لیے ابھی خیبرپختونخوا اور پنجاب میں اور بعد میں سندھ، بلوچستان اور قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے بھی فنڈز جاری کرنا مشکل ہوگا۔

ای سی پی کے آرڈر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پنجاب کے چیف سیکرٹری نے 14 مارچ کو ہونے والی ایک میٹنگ میں کہا تھا کہ صوبائی حکومت کے لیے انتخابات کے لیے فنڈز فراہم کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

ڈان ڈاٹ کام کو بھیجے گئے بیان میں پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پیریز روئیز نے کہا کہ آئی ایم ایف کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کے تحت اہداف مجموعی طور پر عام حکومتی سطح پر مقرر کیے جاتے ہیں اور ان کے اندر اخراجات کو مختص کرنے یا دوبارہ ترجیح دینے یا اضافی محصولات بڑھانے کے لیے مالی گنجائش موجود ہے تاکہ آئینی سرگرمیوں کی ضرورت کے مطابق انجام دہی یقینی بنائی جا سکے۔

خیال رہے کہ پاکستان کو اس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے جہاں وہ آئی ایم ایف معاہدہ کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔

آئی ایم ایف کی طرف سے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے لیے نویں جائزے کی تکمیل سے نہ صرف ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط جاری ہوگی بلکہ دوست ممالک سے بھی معاونت کی راہ ہموار ہوگی۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن پاکستان نے کہا تھا کہ اس کے پیش کی گئی رپورٹس، بریفنگ اور مواد پر غور کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ 30 اپریل کو ہونے والے انتخابات کا انعقاد ایماندارانہ، منصفانہ، پرامن طریقے سے اور آئین اور قانون کے مطابق کرنا ناممکن ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کا التوا سپریم کورٹ کے یکم مارچ کے فیصلے کے باوجود سامنے آیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات 90 دن کی مقررہ مدت کے اندر کرائے جائیں، حالانکہ کسی بھی عملی مشکل کی صورت میں اس نے اس کی کم از کم انحراف کی اجازت دی تھی۔

مشہور خبریں۔

پاکستان اپنے وسائل جنگ لڑنے میں ضائع نہیں کرنا چاہتا، وزیراعظم

?️ 8 جولائی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم

ایاز صادق کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، پارلیمانی تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

?️ 31 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جنیوا

اسرائیل کے ہاتھوں مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو بڑا دھچکا: وال اسٹریٹ جرنل

?️ 30 ستمبر 2025سچ خبریں:اسرائیل کے قطر پر حالیہ حملے نے نہ صرف امریکہ کی

جمہوریت کے نام پر سرمایہ دارانہ نظام ایک عذاب بنا ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمان

?️ 1 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل

ریابکوف: ایٹمی تصادم کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے

?️ 27 دسمبر 2025سچ خبریں: روس کے نائب وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں جوہری

شہباز شریف کا سیلاب سے متاثرہ صوبہ سندھ کی حکومت کو 15 ارب روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان

?️ 26 اگست 2022سندھ: (سچ خبریں)وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب سے متاثرہ صوبہ سندھ کی

شمالی کوریا نیو یارک کو نیوکلیئر وار ہیڈ سے نشانہ بنا سکتا ہے: کانگریس

?️ 7 جون 2023سچ خبریں:امریکی کانگریس کے ایک سینئر رکن نے دعویٰ کیا ہے کہ

مغربی کنارے پر صیہونیوں کی جارحیت جاری 

?️ 8 فروری 2026 سچ خبریں:مقبوضہ بیت المقدس کے شمال اور مغربی کنارے کے مختلف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے