وفاق کی فاٹا کیلئے بنائی گئی کمیٹی مسترد کرتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فاٹا کیلئے امیر مقام کی کنوینئر شپ میں بنائی کمیٹی کو تحلیل کیا جائے، کمیٹی بنانا وفاق کی صوبے میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سابق گورنر کے پی شاہ فرمان، شیخ وقاص اکرم، اقبال آفریدی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقے ہمیشہ حساس رہے ہیں، 25 ویں ترمیم کے بعد قبائلی علاقے صوبے میں ضم ہوچکے،فاٹا کے لیے امیر مقام کو ایک کمیٹی کا کنوینئر منتخب کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آج دوسری میٹنگ تھی مگر ہمارے فاٹا کے نمائندوں نے شرکت نہیں کی، سترہ میں سے 14 ایم پی ایز پی ٹی آئی کے ہیں، ہمارا کوئی بھی نمائندہ کمیٹی میں نہیں گیا کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سینیٹ ، قومی اسمبلی کی سیفرون کی کمیٹیاں ہیں مگر کسی بھی میٹنگ میں فاٹا کے لیے کبھی کچھ نہیں کیا گیا ، ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ امیر مقام کی کنوینئر شپ میں جو کمیٹی بنائی گئ ہے اسے تحلیل کیا جائے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں، کمیٹی کو ختم کیا جائے، کمیٹی بنانا وفاق کی صوبے میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔

سابق گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے کہا کہ فاٹا کو الگ کرتے وقت فیصلہ کیا گیا تھا کہ عوامی نمائندوں کے ذریعے فنڈز دیے جائیں گے، فاٹا کے ایم این ایز پورے ملک کے لیے ووٹنگ کرسکتے تھے مگر فاٹا کے لیے نہیں کرسکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کے نمائندوں کو حق دینے کا بل پیش ہوا اور منظور بھی ہوا، ایف سی آر کا قانون دوبارہ اٹھایا جائے گا، سیٹل ایریا کے مراعات کی تجدید ہوگی۔

شاہ فرمان نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز بل کے لیے یہ بیرونی دنیا کے ساتھ ڈراما رچا رہے ہیں، وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرسکتی، اور نہ ہی صوبائی حکومت اسمبلی اور اراکین اسمبلی ان کو یہ ااجزت دیتے ہیں کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے قبائلی علاقوں کا اسٹیٹیس تبدیل کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومتی کمیٹیوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور انہیں مسترد کرتے ہیں۔

اقبال آفریدی نے کہا کہ دنیا کا اصول ہے کہ پہلے فنڈز دیں پھر ٹیکس لیں، فاٹا میں پہلے ٹیکس لگایا جا رہا ہے اور فنڈز سے محروم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیفران کمیٹی کا ممبر ہوں کبھی میٹنگ میں یہ معاملات زیر غور نہیں آئے، فاٹا کے قبائلی علاقوں کا اسٹیٹس تبدیل کیا جا رہا ہے، وفاقی حکومت کا کوئی حق نہیں کہ وہ صوبائی معاملات میں مداخلت کرے۔

شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ مشاورت ایک بہانہ ہے فاٹا نشانہ ہے ، ہم مزاحمت کریں گے اور فاٹا کو نہیں جانے دیں گے، جرگہ پہلے سے بن چکا ہے اس کے علاؤہ کونسا جرگہ بنانا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا اور کے پی کے لوگ اپنے فیصلے خود کرنا جانتے ہیں، آئینی اختیار کے خلاف جو کمیٹی بنائی گئی اس کو ختم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہ اکہ سات سو ارب سے زائد پیسے فاٹا کے دینے ہیں اس میں اب تین سال رہ گئے ہیں، وفاقی حکومت فاٹا کی مقروض ہے فاٹا کے پیسے دینے ہیں۔

شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ دو نمبر کمیٹیاں بنے گی اور فاٹا کے نمائندے اس کو قبول نہیں کریں گے۔

مشہور خبریں۔

’پاکستان آئیڈل‘ کا شاندار آغاز، باصلاحیت گلوکاروں نے اسٹیج پر اپنی آواز کا جادو جگایا

?️ 5 اکتوبر 2025کراچی: (سچ خبریں) ملک کا سب سے بڑا موسیقی کا مقابلہ ’پاکستان

امریکی دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی؛ ٹرمپ ایران کے مقابلے میں کیوں پیچھے ہٹ گئے؟

?️ 5 اگست 2026سچ خبریں: امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف جارحیت کے آغاز

مصر صیہونی تعلقات میں بحران

?️ 22 اگست 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر جنگ بینی گینٹز نے کہا کہ صیہونی

پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ

?️ 12 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز

پی ٹی آئی کا 24 نومبر کو تمام شہروں سے پرامن احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

?️ 23 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی

سندھ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے: اسد عمر

?️ 24 مئی 2021خیرپور(سچ خبریں) وفاقی وزیر اسد عمر  کا کہنا ہے کہ سندھ میں

اسٹیٹ بینک کی طرف سے زرمبادلہ کیلئے نیا آن لائن سسٹم متعارف، لین دین کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا

?️ 31 اگست 2025کراچی: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کی بیرونِ ملک

لبنان کی جماعت نے کیا صیہونی حکومت کے ساتھ معاہدے کے خطرات سے خبردار 

?️ 28 جون 2026سچ خبریں: لبانی گروپ شبیبہ نے اپنے ملک کی مغرب نواز حکومت اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے