?️
(سچ خبریں)ایک ہفتے کے وقفے سے پولیو کے دو کیسز سامنے آنے کے بعد شمالی وزیرستان کا قبائلی ضلع ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے جہاں ان کیسز کی بنیادی وجہ والدین کی جانب سے پولیو ویکسین سے انکار ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق حکام نے کہا کہ انسداد پولیو ویکسین نہ لگوانے کہ وجہ سے شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی کی یونین کونسل 6 اور 7 کے رہائشی دو بچوں میں پولیو وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
حکام نے کہا کہ والدین کی لاپرواہی اور ویکسین لگانے والے عملے کے لیے سیکیورٹی کی عدم دستیابی کی وجہ سے اتنی جلدی پولیو امیونائیزیشن کرنا بہت مشکل ہے۔
حکام نے مزید کہا کہ طالبان کے شمالی وزیرستان پر قبضے کے بعد یہ علاقہ 2014 تک پولیو وائرس کا مرکز تھا، انہوں نے کہا کہ ضلع میں 15 ماہ کے وقفے کے بعد دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کاغذات میں ہمارے پاس ایسے کیسز دو ہزار سے کم ہیں جنہوں نے پولیو ویکسن لگوانے سے انکار کیا جو مجموعی طور پر ایک فیصد سے کم ہے، لیکن پولیو ویکسن سے انکار کرنے والوں کی خاموش تعداد ریکارڈ شدہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں پولیو کا دوسرا کیس سامنے آیا ہے اس گاؤں کے نصف رہائشی پولیو تو دور کی بات معمول کے حفاظتی ٹیکے لگانے سے بھی انکار کرتے ہیں۔
حکام نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پولیو مہم کے لیے تعینات عملے کو والدین کی طرف سے دھمکیاں دی گئیں جس کے بعد انہوں نے ان کے بچوں کے نام ’ویکسین شدہ‘ کے طور پر درج کیے تھے مگر حقیقت میں ان بچوں کو پولیو ویکسین نہیں لگائی گئی، حکام نے یہ بھی کہا کہ ہمارے عملے نے خوف کہ وجہ سے ایسا کیا کیوں کہ ویکسین لگانے والا عملہ ان کو ’انکار‘ کرنے والوں کے طور پر رپورٹ نہیں کر سکتا۔
علاقے میں موجود ہیلتھ ورکرز نے اس رپورٹ کے مصنف کو بتایا کہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم بچوں کی ایک چھوٹی تعداد تمام بچوں کی صحت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ علاقے میں مزید کیسز سامنے آئیں گے کیونکہ پاخانے کے نمونوں کی وصولی میں اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیو سے متاثرہ چھوٹے بچوں کے قریبی رابطوں سے پانچ پانچ نمونے تجزیہ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔
22 اپریل کو جس بچے کا پولیو کا ٹیسٹ مثبت آیا اس کے چچا نے دعویٰ کیا کہ ان کے بچے نے گھر گھر پولیو مہم کے دوران پولیس ویکسین بھی کروائی تھی، مگر اس کے باوجود بھی اس میں معذروی کی تشخیص ہوئی ہے۔
تاہم علاقے میں موجود صحت کے حکام نے اس بات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس بچے کو پولیو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی جس کہ وجہ سے وہ اس وائرس سے متاثر ہوا ہے۔
حکام نے بتایا کہ دو سالہ بچی، جس کا پولیو مائیلائٹس کا ٹیسٹ مثبت آیا، کو بھی حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے گئے تھے، اس بچی نے معمول کے حفاظتی ٹیکوں میں سے بھی ایک شاٹ نہیں لگوایا تھا۔
شمالی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر گلستان وزیر نے ڈان کو بتایا کہ ہم نے سیرولوجی ایگزامنیشن کے لیے نمونہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ، اسلام آباد کو بھیج دیا ہے تاکہ ویکسی نیشن کی صورتحال معلوم کی جاسکے اور رپورٹ کا انتظار ہے، پولیو کے لیے نیشنل آپریشن سینٹر (این او سی) کے رہنما خطوط کے مطابق ہم نے 15 یونین کونسلوں میں پولیو کے قطرے پلانے کا عمل مکمل کر لیا ہے تاکہ بچوں کو بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلا کیس یونین کونسل نمبر چھ اور دوسرا یونین کونسل نمبر سات میں سامنے آیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پانچ سال سے کم عمر کے 78 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس 23 یونین کونسلوں میں ایک لاکھ 10 ہزار بچوں کو ویکسین پلانے کا کُل ہدف تھا اور انہیں ہر مہم میں پولیو ویکسین کے شاٹس دیے گئے تھے۔
گلستان وزیر نے مزید کہا کہ ہر مہم میں ہم نے 526 ٹیمیں تعینات کیں جن میں سے ہر ایک میں دو افراد شامل ہوتے تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے مخصوص سیکیورٹی تعینات کی جاتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ہر ایک بچے کو قطرے پلائے جائیں اور وہ معذور ہونے سے محفوظ رہیں۔
ڈی ایچ او نے مزید کہا کہ سیکیورٹی اہلکار بہت مدد کرتے ہیں کیونکہ ہم مشکل اور دور دراز علاقوں میں بغیر کسی خوف کے کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں حکومت نے ویکسین کرنے والے عملے کے لیے فیس فی مہم 10 ہزار تک کردی ہے تاکہ ویکسین کے عمل کو مزید بہتر بنایا جائے۔
ڈاکٹر گلستان نے کہا کہ ان کے پاس 700 کے قریب پیرامیڈیکس تھے، جنہیں عام مریضوں کے لیے 1200 صحت کی سہولیات میں بھی کام کرنا تھا، اس لیے وہ چوتھے درجے کے ملازمین کے لیے مہم میں اپنی خدمات سے استفادہ کے لیے ایک میگا ٹریننگ ایونٹ منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
پشاور میں یونیسف کے دفتر کے مطابق مجموعی طور پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور صوبے میں مارچ 2022 کی مہم میں 18 ہزار 349 افراد کو بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار کیا جو دسمبر 2021 کے مقابلے میں کم ہے جب 19 ہزار 374 افراد نے ویکسین پلانے سے انکار کیا تھا۔


مشہور خبریں۔
وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین نیب کی ملاقات، سالانہ رپورٹ پیش
?️ 27 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین قومی احتساب بیورو
جنوری
گزشتہ 3 برسوں کے دوران خواتین ووٹرز کے اندراج میں نمایاں اضافہ
?️ 10 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) گزشتہ تین برسوں کے دوران خواتین ووٹرز کے
نومبر
اسرائیل نے ابراہیمی مزار کا انتظام فلسطینیوں کے اوقاف سے لے لیا
?️ 27 فروری 2025سچ خبریں: فلسطینی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے
فروری
نیتن یاہو کو فلسطینیوں کے خلاف نسلکشی ختم کرنی ہوگی؛ اسپین کا مطالبہ
?️ 12 اکتوبر 2025سچ خبریں:اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئل آلبارس نے کہا ہے کہ
اکتوبر
’سپریم کورٹ کے چند مخصوص ججز اپنی انا پسِ پشت ڈال کر ملک کو آگے لے کر چلیں‘
?️ 3 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان قادر نے کہا ہے
جون
پاکستان کا بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر تشویش کا اظہار
?️ 5 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم
مارچ
کورونا ویکسین لگوانے کے لئے 15 ستمبر تک کی مہلت ہے
?️ 4 ستمبر 2021لاہور (سچ خبریں) محکمہ صحت پنجاب نے ویکسین لگوانے کے لئے صرف
ستمبر
غزہ میں موسیٰ کا عصا؛ قابضین کا انتظار کرنے والا ایک بڑا ڈراؤنا خواب
?️ 6 ستمبر 2025سچ خبریں: صیہونی ریجیم کے غزہ شہر پر وسیع پیمانے پر حملے
ستمبر