?️
لاہور: (سچ خبریں) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی ناقص کارکردگی اور سائبر جرائم کے بڑھتے واقعات کے باعث پنجاب حکومت نے صوبے میں اپنی علیحدہ سائبر ایجنسی قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق این سی سی آئی اے کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہونے پر پنجاب حکومت نے صوبے میں بڑھتے ہوئے سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے اپنی ایجنسی قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا۔
یہ فیصلہ پیر کو وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں کہا گیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے پنجاب میں سائبر کرائم وِنگ قائم کیا جائے گا۔
ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ پنجاب کو مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ این سی سی آئی اے شکایات کو مؤثر انداز میں حل نہیں کر پا رہی تھی اور ان کی کارروائی میں اکثر غیر معمولی تاخیر ہو جاتی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے میں سائبر جرائم کے تیزی سے بڑھنے کو مدنظر رکھتے ہوئے، پنجاب حکومت کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک علیحدہ وِنگ کی ضرورت محسوس ہوئی۔
مئی میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم وِنگ کی جگہ این سی سی آئی اے بننے کے بعد پنجاب حکومت نے وفاقی ادارے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔
پنجاب حکومت کو سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر جب سیاسی مخالفین شریف خاندان کو نشانہ بناتے ہیں، یہاں تک کہ صوبائی وزرا جن میں وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری بھی شامل ہیں، آن لائن کردار کشی کے خلاف این سی سی آئی اے میں شکایات درج کرا چکی ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ این سی سی آئی اے میں میزبان مبشر لقمان کے خلاف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت ہتکِ عزت کے الزام میں کارروائی کریں گی۔
تاہم، یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا مجوزہ صوبائی سائبر کرائم وِنگ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے تو نہیں بنایا جا رہا۔
دوسری جانب این سی سی آئی اے خود بھی عملے کی شدید کمی کا شکار ہے کیونکہ ہر ماہ اسے ہزاروں شکایات موصول ہوتی ہیں، محدود وسائل اور مقدمات کے بڑے بوجھ کے باعث ادارہ شکایات کو بروقت نمٹانے میں ناکام رہا ہے۔
ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ این سی سی آئی اے میں ہر ماہ ہزاروں شکایات موصول ہوتی ہیں، جن میں زیادہ تر اکاؤنٹ ہیکنگ، ہراسانی اور مالی دھوکہ دہی سے متعلق ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہراسانی کے زیادہ تر معاملات میں سابق شوہروں، منگیتر یا بوائے فرینڈز کی جانب سے متاثرہ خواتین کی قابلِ اعتراض تصاویر یا ویڈیوز اپ لوڈ کر کے بلیک میلنگ کی جاتی ہے، لیکن این سی سی آئی اے کے پاس اتنی بڑی تعداد میں کیسز نمٹانے کے لیے عملہ اور وسائل موجود نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ثبوت جمع کرنا ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جیسے فیس بک، واٹس ایپ، گوگل اور جی میل، ڈیٹا فراہم کرنے میں تعاون نہیں کرتے۔
عہدیدار نے مزید بتایا کہ حکومت اور ان کمپنیوں کے درمیان کوئی معاہدہ موجود نہیں، اس لیے وہ قانونی طور پر این سی سی آئی اے کو ڈیٹا فراہم کرنے کی پابند نہیں، صرف زندگی کے خطرے یا تاوان جیسے کیسز میں وہ فوری ردِعمل دیتے ہیں، اس کے علاوہ اتھارٹی کے پاس وہ جدید سافٹ ویئر بھی نہیں جو ڈیجیٹل ثبوتوں کا سراغ لگانے اور تصدیق کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
گزشتہ چند سالوں میں سائبر کرائم کی شکایات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، مگر حکومت نے تفتیشی ادارے کی استعداد بڑھانے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے، جن میں ترقی یافتہ ممالک میں سائبر کرائم نظام پر تربیت شامل ہے۔
عہدیدار نے تجویز دی کہ حکومت کو چاہیے کہ سائبر کرائم نظام کو ایف بی آئی کے طرز پر تشکیل دے۔


مشہور خبریں۔
بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے فوجی طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہاہے، حریت کانفرنس
?️ 15 نومبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں
نومبر
غزہ کے لیے عالمی حمایت میں توسیع دیکھ کر صیہونیوں کی حالت غیر
?️ 29 اپریل 2024سچ خبریں: دنیا بھر میں صیہونی مخالف مظاہروں کے پھیلنے کے ساتھ
اپریل
پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 21 فیصد کمی
?️ 21 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) ترسیلات زر اور برآمدات دونوں میں کمی کے بعد،
جون
وزیراعظم 8 نومبر کو ایک روزہ دورے پر آذربائیجان جائیں گے
?️ 4 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم 8 نومبر کو ایک روزہ دورے پر
نومبر
پی ٹی آئی کاعمران خان پر قاتلانہ حملے کیخلاف ملک بھر میں احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
?️ 5 نومبر 2022لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان پر قاتلانہ حملے
نومبر
ملکی سلامتی میں پاک افواج کا بہت بڑا کردار ہے: گورنر پنجاب
?️ 7 اکتوبر 2021لاہور (سچ خبریں) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے ملکی سلامتی میں
اکتوبر
فرانسیسی یونیورسٹی طلباء کی فلسطینی عوام کی حمایت
?️ 19 اکتوبر 2023سچ خبریں: فرانس کے جنوب میں واقع شہر تولوس کی یونیورسٹیوں کے
اکتوبر
امریکا کی سمت اور پالیسیوں کے حوالے سے عوامی بداعتمادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے
?️ 20 ستمبر 2025امریکا کی سمت اور پالیسیوں کے حوالے سے عوامی بداعتمادی میں نمایاں
ستمبر