?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ حکومت نیب قانون سے کرپشن مزید مشکل بنا رہی ہے، آمدن سے زائد اثاثے بنانا جرم ہے اور یہ قانون ختم نہیں ہوا۔
سپریم کورٹ میں عمران خان کی نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطابندیال کی زیر سربراہی تین رکنی خصوصی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔
مقدمے کی 43ویں سماعت ہوئی جہاں وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے نیب ترمیمی آرڈیننس 2023 عدالت میں جمع کرا دیا۔
وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ نیب کے حالیہ قانون میں نئی ترامیم آرڈیننس کی صورت میں تجویز کر دی گئی ہیں اور نیب ترامیم آرڈیننس کابینہ کی منظوری کے بعد صدر مملکت کے پاس ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا نیب ترامیم نئی ہیں یا ان کا موجودہ کیس سے کوئی تعلق ہے؟ جس پر وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ زیر التوا نیب قانون میں ہی مزید ترامیم کی گئی ہیں۔
وکیل نے کہا کہ مجوزہ ترامیم سے چئیرمین نیب کے اختیارات میں ردوبدل کیا ہے، آرڈیننس کی منظوری کے بعد چیئرمین نیب کو ریفرنس ختم کرنے کے لیے عدالت کی اجازت لینا ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نیب قانون کے سیکشن 5 سمیت متعدد شقوں میں ترمیم کی جا رہی ہے۔
چیف جسٹس نے حکومتی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کا کرپشن ملزمان کو نیب کے دائرہ اختیار سے خارج نہ کرنے پر ترامیم کرنا خوش آئند ہے۔
وکیل مخدوم علی خان نے تجویز دی کہ عدالت چاہے تو صدر مملکت کی نیب ترامیم کی منظوری تک کیس ملتوی کر دے۔
تاہم چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مجوزہ ترامیم کی منظوری کا انتظار کرنا عدالت کے لیے درست اقدام نہیں ہو گا کیونکہ مقدمہ کافی عرصے سے سن رہے ہیں اور مزید انتظار نہیں کر سکتے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کیس کے دوران ذاتی طور پر پڑھا کہ کرپشن دنیا کے دوسرے ممالک میں مسئلہ ہے یا نہیں، معاشرے میں کرپشن سے عام انسان کی نظام عدل تک رسائی میں ناکامی سے دوچار ہوتی ہے۔
وکیل مخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کو قانون کالعدم قرار دینے کا اختیار بذات خود بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عدالتی مداخلت اور کرپشن پر بحث پاکستان تک محدود نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک جریدے کے مطابق امریکا میں دو سیاسی جماعتیں عدالتوں پر اپنے کنٹرول کے لیے لڑ رہی ہیں، عمران خان نے نیب قانون میں 2019 میں پہلی ترمیم سیاسی انتقام کے لیے کی، عمران خان کی حکومت نے کرپشن کے ملزمان کو جیل میں کلاس سی دینے کی ترمیم کی، ترمیم سے اسی عرصے کے دوران مشہور سیاسی شخصیت کو گرفتار کر کے جیل کی کلاس سی میں رکھا گیا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیب قانون میں جرم کی نوعیت کو کہاں تبدیل کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ نیب قانون میں 2019 میں کی گئی ترمیم 2021 میں آرڈیننس کے ذریعے واپس لی گئی، اپوزیشن کی ذمہ داری پارلیمنٹ کو عبور کر کے ہر سیاسی تنازع کو عدالت میں حل کرنا نہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا نیب ترامیم کا اطلاق ماضی سے ہونے کے نکتے پر کوئی قانونی نظیر موجود ہے؟ جس پر وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب کا حالیہ قانون 2019 سے کی گئی ترامیم کا ہی ارتقا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ نئی نیب ترامیم میں کیا تبدیلی کی گئی ہے۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ حکومت نیب قانون سے کرپشن کو مزید مشکل بنا رہی ہے، عدالت نے حنیف عباسی بنام عمران خان کیس میں ایمنسٹی اسکیم سے پبلک آفس ہولڈرز کو ملے فائدے کا ذکر کیا تھا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حنیف عباسی کیس پبلک فنڈز کے متعلق نہیں بلکہ کاغذات نامزدگی کی تصدیق کا تھا۔
وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عمران دور میں واپس لی گئی ترمیم ہی دوبارہ بحال کیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ پلی پارگین اور رضاکارانہ واپسی کے قانون میں ترمیم بھی خوش آئند ہے لیکن کیا نیب ترامیم کے بعد اب آمدن سے زائد اثاثے بنانا جرم ہے یا نہیں؟۔
وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثے بنانا جرم ہے اور یہ قانون ختم نہیں ہوا۔
مقدمے کی مزید سماعت 15 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔


مشہور خبریں۔
جرمن فوج کا نیا پروکیورمنٹ پلان امریکہ سے آزادی پر مرکوز ہے
?️ 24 ستمبر 2025سچ خبریں: جرمن فوج نے ملک کی پارلیمانی بجٹ کمیٹی کے لیے
ستمبر
قوم کو اپنے شہداء اور غازیوں پر فخر ہے، صدر مملکت کا یومِ بحریہ پر پیغام
?️ 8 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاک بحریہ
ستمبر
صنعاء اور ریاض کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟
?️ 27 نومبر 2025سچ خبریں: یمن اور سعودی عرب کے درمیان موجودہ تنازعات کی جڑیں ایک
نومبر
پوتن کے لیے ٹرمپ کے سرخ قالین نے مغربی میڈیا کو حواس باختہ کر دیا
?️ 16 اگست 2025پوتن کے لیے ٹرمپ کے سرخ قالین نے مغربی میڈیا کو حواس
اگست
مداحوں نے کترینہ کو پیاری بھابھی قرار دے دیا
?️ 4 جنوری 2022ممبئی (سچ خبریں) مشہور بالی ووڈ اداکارہ کترینہ کیف کو اُن کے
جنوری
جنگ بندی کے بعد بھی بین الاقوامی عدالت میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ جاری رہے گا:جنوبی افریقہ
?️ 15 اکتوبر 2025جنگ بندی کے بعد بھی بین الاقوامی عدالت میں اسرائیل کے خلاف
اکتوبر
روس سے گہرے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں:وزیر خارجہ
?️ 7 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں روسی ہم منصب کے ہمراہ پریس
اپریل
مغربی کنارے اور ایران اسرائیل کے لیے سب سے بڑے چیلنج ہیں: عبرانی میڈیا
?️ 23 جنوری 2023سچ خبریں:عبرانی زبان کے اخبار معاریو نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل
جنوری