نیب ترامیم کالعدم، 6 سابق وزرائے اعظم کے خلاف کرپشن کیسز دوبارہ کھلنے کا امکان

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) نیب قوانین میں متنازع ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو 50 کروڑ روپے سے کم کے وائٹ کالر جرائم میں ملوث سیاستدانوں اور بااثر شخصیات پر ہاتھ ڈالنے کا دوبارہ اختیار دے دیا ہے اور تقریباً ایک ہزار 800 بند کیسز اب دوبارہ کھل جائیں گے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے نیب کو وہ اختیارات دے دیے ہیں جن سے وہ ترامیم کی وجہ سے محروم ہو گیا تھا، تاہم نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے پہلے ہی بند یا عدالتوں کی جانب سے نمٹائے گئے کیسز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔

دوسری جانب، نیب سیکڑوں کیسز پر اس وقت تک کارروائی نہیں کر سکے گا جب تک نیب میں ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کی 2 اہم آسامیوں پر تعیناتیاں نہیں ہوجاتیں۔

بظاہر سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف، عمران خان، شہباز شریف، یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی اور شوکت عزیز کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف کیسز بھی دوبارہ کھولے جائیں گے۔

دیگر بڑی شخصیات جن کے مقدمات دوبارہ کھولے گئے ہیں، ان میں سابق وزرا خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، جاوید لطیف، اکرم درانی، سلیم مانڈوی والا، شوکت ترین، پرویز خٹک، عامر محمود کیانی، خسرو بختیار اور فریال تالپور کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی شامل ہیں۔

یہ بھی امکان ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں ترامیم دوبارہ بحال ہوسکتی ہیں اگر پیر (18 ستمبر) کو سپریم کورٹ نئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کے کیس کی سماعت کے دوران گزشتہ چند ماہ میں آج اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کی جانب سے کیے گئے تمام کیسز کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل شعیب شاہین نے عدالتی حکم کو ’این آر او-2 کا خاتمہ‘ قرار دیا جس کے تحت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے بھی کئی رہنماؤں کو رعایتیں ملیں۔

نیب ذرائع نے بتایا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے نیب میں نئی جان آگئی ہے اور دوبارہ کھلنے والے کیسز کی تعداد کا جائزہ لینے اور دوبارہ عدالتوں کو بھیجنے کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم دوبارہ کھولے جانے والے کیسز کی صحیح تعداد کا اندازہ لگا رہے ہیں لیکن یہ تقریباً ایک ہزار 600 سے ایک ہزار 800 کے لگ بھگ ہوں گے۔

نیب اور عدالتوں کے ذریعے پہلے ہی طے شدہ کیسز کے بارے میں سوال پر ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ واضح طور پر فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ ان کیسز کو کسی بھی تحقیقات اور کارروائی کے لیے دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ دوبارہ کھولے گئے تمام کیسز کو دوبارہ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ اس کی منظوری مل سکے۔

تاہم ذرائع نے بتایا کہ نیب کا بورڈ اس وقت اپنے ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کے استعفوں کی وجہ سے نامکمل ہے، اس لیے نیب کو ان خالی آسامیوں کو پُر کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے۔

مشہور خبریں۔

جنگ بندی کے بعد غزہ

?️ 25 نومبر 2023سچ خبریں: جنگ بندی کے آغاز کے ساتھ ہی غزہ کے مکینوں

صیہونی حکومت کا جنوبی شام کے آبی وسائل قبضہ کرنے کا خطرناک منصوبہ

?️ 25 دسمبر 2024سچ خبریں:شام کے ایک مقامی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ صیہونی

تل ابیب کا غزہ میں مقبوضہ علاقوں کو وسعت دینے کا منصوبہ

?️ 10 دسمبر 2025سچ خبریں: غزہ میں اقوام متحدہ کے اسکول ملک میں پناہ گزین فلسطینیوں

بیجنگ امریکی قومی سلامتی کے بہانے چینی کمپنیوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر تنقید کرتا ہے

?️ 19 نومبر 2025سچ خبریں: چین کی وزارت تجارت نے امریکہ پر الزام لگایا کہ

بٹگرام : کیبل کار میں بلندی پر پھنسے 8 افراد میں سے ایک بچے کو پاک فوج نے ریسکیو کر لیا

?️ 22 اگست 2023خیبرپختونخوا: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے ضلع بٹگرام کی تحصیل الائی میں پاشتو

خورد برد کیس: فواد چوہدری کی درخواست ضمانت پر نیب سے جواب طلب

?️ 18 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جہلم میں تعمیراتی منصوبوں

خطرے کی کوئی بات نہیں، کوئی گیم شروع نہیں ہو رہی: شیخ رشید

?️ 10 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ نے سپریم کورٹ کے باہر

سولر پر ٹیکس لگانے کا نہ کوئی ارادہ تھا نہ ہی مستقبل میں ایسا کوئی منصوبہ ہے، وزیر توانائی

?️ 24 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے واضح کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے