معمول سے کم بارشیں: گرمیوں میں پانی کی کمی کا خدشہ، نیپرا نے واپڈا حکام کو طلب کرلیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک بھر میں معمول سے کم بارشیں اور برف باری ہونے کے باعث موسم گرما میں آبی قلت کے حوالے سے مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

میڈیا کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے موسم گرما کے لیے پانی کی دستیابی کی صورت حال پر واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر واپڈا کے حکام کو طلب کرلیا۔

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست کی سماعت کے موقع پر چیئرمین نیپرا وسیم مختار نے کہا کہ بارشیں اور برف باری کم ہونے سے موسم گرما کے لیے کیا تیاریاں کی گئی ہیں؟

حکام نے بتایا کہ آئندہ موسم گرما میں ڈیموں میں پانی کا ڈیڈ لیول ایک سے ڈیڑھ فٹ تک رہے گا، موسم گرما میں پانی کی سطح کم ہونے سے سستی بجلی کی پیداوار کم ہوسکتی ہے۔

حکام نے بتایا کہ اس بار موسم گرما میں درآمدی ایل این جی پر انحصار کرنا پڑے گا، جنوری میں سردی اور بجلی کی کھپت کم رہی۔

واضح رہے کہ 2030 تک دنیا کی 30 فیصد زمین اور سمندروں کے تحفظ کے وعدے سمیت فطرت سے متعلق تاریخی معاہدے کے 2 سال بعد بھی دنیا کے تمام ممالک تباہی کو روکنے کے لیے درکار رقم پر تگ و دو سے دوچار ہیں، جس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے لاکھوں انسانوں کو خطرہ لاحق ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہورہی ہے، پاکستان میں 2022 میں آنے والے سیلاب اور دنیا بھر میں قدرتی آفات میں اربوں ڈالر کا نقصان دیکھا جارہا ہے۔

26 فروری 2025 کو ہی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ سیلاب اور خشک سالی سمیت شدید موسمی واقعات سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات کے خلاف لچک پیدا کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر ماحولیاتی مطابقت کے منصوبوں کو ترجیح دے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا آئی ایم ایف کی ٹیم نے شہری اور دیہی علاقوں میں توانائی کی بچت کرنے والی عمارتوں کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ دریاؤں، نالوں، دیگر آبی گزرگاہوں اور جنگلات کے قریب تعمیرات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کی سفارش کی تھی۔

یہ بات منگل کے روز سامنے آئی تھی جب فنڈ کے 4 رکنی تکنیکی مشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھی، تاکہ موسمیاتی لچک کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد کی اضافی فنانسنگ کی ملک کی درخواست کی تیاری کی جاسکے۔

دریں اثنا سرکاری ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ مشن چیف نیتھن پورٹر کی سربراہی میں آئی ایم ایف کی 9 رکنی اسٹاف ٹیم 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پاکستان کی کارکردگی کا 2 ہفتوں پر محیط جائزہ لینے کے لیے 3 مارچ کو اسلام آباد پہنچے گی، یہ مشن عارضی طور پر 15 مارچ تک اپنا پہلا 2 سالہ جائزہ مکمل کرے گا۔

مشہور خبریں۔

وزیراعظم نے پاکستان کو افغانستان کے حالات کا ذمہ دارٹھہرانا مایوس کن قرار دیا

?️ 16 جولائی 2021تاشقند(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان امن کیلئے

نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کا گوادر کا دورہ، سی پیک کی اہمیت پر بریفنگ

?️ 20 نومبر 2025اسلام آباد، گوادر: (سچ خبریں) نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام جاری

اسٹارمر کابینہ میں اہم تبدیلی، ڈین جارویس برطانیہ کے نئے وزیر دفاع مقرر: برطانیہ

?️ 12 جون 2026سچ خبریں: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے لیبر پارٹی کی قیادت کے بحران

آزاد امیدوار قرار دینے کیخلاف سلمان اکرم راجا کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

?️ 2 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2024 میں امیدوار

امریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی میں دنیا کو کیسے دیکھا گیا ہے؟

?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی ایک سرکاری دستاویز ہے

افغان عوام کی انسانی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے:آسٹریلوی تنظیم

?️ 30 مئی 2023سچ خبریں:ایک آسٹریلوی تنظیم نے کہا کہ افغانستان کے لیے کسی بھی

مگرمچھ کے آنسو

?️ 24 جولائی 2023سچ خبریں:صیہونی پارلیمنٹ Knesset کی رکن Everit Farkash Hacohen آج پارلیمنٹ میں

نواز شریف اور آصف زرداری کی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کیا ہوگی؟ سابق وفاقی وزیر کی زبانی

?️ 24 جولائی 2024سچ خبریں: سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے