?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) بینکنگ شعبے کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ غیر ملکی بینک اب کنسائنمنٹ (درآمدی مال) کے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کی توثیق کے لیے 10 فیصد کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک معاشی چیلنجز سے نبردآزما ہے، جن کے سبب عالمی مالیاتی اداروں کا ملک کے بینکاری نظام پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔
روپے کی قدر میں کمی، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور قرض کی فراہمی کے مسائل نے پاکستان میں کاروباری خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔
پاکستانی بینکوں کی جانب سے جاری کردہ ایل سیز کو اب بین الاقوامی برآمد کنندگان کے نزدیک قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا، بینکنگ پروفیشنلز کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کی ایل سیز کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ غیر ملکی بینکوں سے توثیق کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایک سینئر بینکر نے کہا کہ بڑھتے ہوئے خدشات اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال نے بیرون ملک پاکستان کا تاثر کمزور کردیا ہے، قیمت بہت زیادہ ہے کیونکہ غیر ملکی بینک اب ہر کنسائنمنٹ پر 10 فیصد کمیشن کے طور پر مانگ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی بینک ایک سال سے زائد عرصے سے مقامی ایل سیز کی توثیق سے نمایاں منافع کما رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں بینک عموماً اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔
پاکستان نے جون میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے قرض کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد درآمدی پابندیاں ختم کر دی تھیں، تاہم مبصرین نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے مختصر مدتی معاہدے کے تحت درآمدات کی چھوٹ اور یکساں کرنسی ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنے کی ہدایات نے ملک کی معاشی مشکلات میں شدت پیدا کردی ہے۔
درآمدات کو دوگنا نقصان پہنچا ہے کیونکہ غیر ملکی بینکوں نے کمیشن بڑھادیا اور روپے کے مقابلے میں ڈالر مضبوط ہوگیا جس سے درآمدی اخراجات میں اضافہ ہوا۔
اس کے اثرات کئی طریقوں سے ظاہر ہورہے ہیں، مثلاً ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ سے درآمدی ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور غریب طبقے پر مہنگائی کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نگران حکومت ان پیچیدہ معاشی مسائل کو حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، سیاسی عدم استحکام معاملات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
مزید برآں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے ساتھ ساتھ ڈالر، آٹا، چینی، اور ایندھن جیسی اشیا کی بےتحاشہ اسمگلنگ امن و امان کے چیلنجز کا باعث بن رہی ہے اور نگران حکومت کے لیے سر درد بن چکی ہے۔
غیر ملکی کرنسیوں میں غیر منظم تجارت نے ڈالر کے اوپن مارکیٹ ریٹ کو بینکنگ ریٹ سے تقریباً 9 فیصد تک بڑھا دیا ہے، یہ فرق آئی ایم ایف معاہدے کے تحت 1.25 فیصد کی قابل قبول حد سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ صورتحال ملک کے معاشی منتظمین کے لیے اُس وقت ممکنہ پیچیدگیاں پیدا کرے گی جب وہ آئندہ بیل آؤٹ کے جائزے کے لیے آئی ایم ایف ٹیم کے ساتھ بیٹھیں گے۔


مشہور خبریں۔
یمنی فوج نے اسرائیلی حکومت کے خلاف اپنے نئے آپریشن کا اعلان کیا
?️ 18 نومبر 2024سچ خبریں: یمنی مسلح فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیی ساری نے
نومبر
اس ہفتے کے آخر تک انتخابی نتائج کا حتمی اعلان ہو گا: عراق
?️ 30 نومبر 2021سچ خبریں:عراقی انتخابی کمیشن نے پیر کے روز کہا کہ انھیں ہے
نومبر
عراقی عدلیہ کی جانب سے اربیل میٹنگ کے خلاف نئے فیصلے
?️ 28 ستمبر 2021 سچ خبریں: عراقی پارلیمنٹ کی سلامتی اور دفاعی کمیٹی کے رکن عبدالخالق
ستمبر
صیہونی فوج کو کہاں سے زندہ واپس نہ آنے کا یقین ہے؟
?️ 16 اکتوبر 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ایک فوجی کمانڈر نے خبردار کیا ہے
اکتوبر
ٹرمپ کا یمنی کمانڈروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سراسر جھوٹ
?️ 6 اپریل 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یمن پر حملے
اپریل
اردوغان ترکی کو خطرناک مہم جوئیوں کی طرف لے جا رہے ہیں:صیہونی وزیر جنگ
?️ 20 اگست 2026سچ خبریں:صیہونی وزیر جنگ یسرائیل کاٹس نے ترک صدر رجب طیب اردوغان
اگست
گورنر سندھ کا قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر خراجِ تحسین
?️ 6 جولائی 2025کراچی (سچ خبریں) گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے محرم الحرام کے سیکیورٹی
جولائی
غزہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات
?️ 16 نومبر 2023سچ خبریں:خبر رساں ادارے روئٹرز نے آج ایک باخبر اہلکار کے حوالے
نومبر