?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت ایک غیر معمولی سانحہ ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق نائب وزیر اعظم محمد اسحق ڈار نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو استنبول میں ڈی 8 کونسل برائے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ؎ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے میں جمہوریہ ترکیہ اور وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جمہوریہ ترکیہ اور وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس معاملے پر ڈی 8 وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس کے انعقاد کا یہ قدم اٹھایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک غیر معمولی سانحہ ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں 40 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور 81 ہزار زخمی ہوئے ہیں ، ان فلسطینیوں میں سے کئی جان لیوا زخموں کا شکار ہیں یا طویل عرصے تک معذوری کا سامنا کر رہے ہیں۔
نائب وزیر اعظم نے مزید کہا کہ دنیا خواتین اور بچوں کی غیر متناسب تعداد کے ساتھ شہریوں کے اندھا دھند قتل کا مشاہدہ کر رہی ہے، اسرائیلی فورسز فلسطینیوں کے وجود کو نشانہ بنانے کے لیے منظم طریقے سے ہسپتالوں اور اہم انفراسٹرکچر پر بمباری کر رہی ہیں، عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ کے 36ہسپتالوں میں سے صرف 12 کام کر رہے ہیں، مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ صحت کی تمام سہولیات میں سے 84 فیصد تباہ ہو چکی ہیں۔
اسحق ڈار نے بتایا کہ اسرائیل کی مسلسل اور وحشیانہ جارحیت فلسطینی آبادی کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کھلی کوشش ہے، دنیا بین الاقوامی قانون، عالمی رائے عامہ اور آئی سی جے کے احکامات کی مکمل طور پر خلاف ورزی کررہی ہے اور دنیا اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں اپنے دور کے بدترین قتل عام کا مشاہدہ کر رہی ہے، تاریخ ان لوگوں کا فیصلہ نہیں کرے گی جنہوں نے اس طرح کے مظالم کے سامنے خاموش رہنے کا انتخاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل بھوک اور افلاس کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے،امدادی قافلوں پر اسرائیلی آباد کاروں کے حالیہ حملوں کے ساتھ ساتھ مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ پر قبضہ کرنا شہری آبادی کو بھوکا مارنے کے واضح ارادے کے ساتھ انسانی امداد کو دانستہ طور پر روکنے کے مترادف ہے،یہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور جنگی قوانین کے تحت جنگی جرائم کی تاریخ کا ایک بالکل نیا اور ہولناک باب ہے۔
محمد اسحق ڈار نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری کو فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے اس اجتماعی عذاب کو روکنے کے لیے ایکشن لینا چاہیے، ہم جنگ کے ہتھیار کے طور پر فاقہ کشی کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں، ہم غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا روک ٹوک بہاؤ کا مطالبہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے حکم میں جنوبی افریقہ بمقابلہ اسرائیل میں نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور سزا کے کنونشن کے تحت روکنے کی ہدایت کی گئی ہے ، بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کو رفح میں اپنی فوجی کارروائی کو فوری طور پر روکنے کی ہدایت کی گئی ہے، اس پر بلا تاخیر عمل کیا جانا چاہیے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بتایا کہ رواں سال یہ تیسرا موقع ہے جب 15 ججوں کے پینل نے ایسا حکم جاری کیا ہے، بین الاقوامی برادری کو قتل کو اور انسانیت سوز مصائب کو روکنے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے، ڈی 8 کو فلسطینی عوام کے مصائب کو ختم کرنے کے لیے تمام متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر اپنے سیاسی اور اقتصادی فائدہ کا استعمال کرنا چاہیے، اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے اس صریح غیر قانونی اور واضح طور پر نسل کشی پر مبنی کارروائی کا فوری اور غیر مشروط خاتمہ ایک لازمی امر ہے، ڈی 8 پلیٹ فارم کے ذریعے ہم غزہ کے لوگوں کے لیے انسانی امداد کو مربوط کر سکتے ہیں۔
محمد اسحق ڈار نے کہا کہ ڈی۔8 پلیٹ فارم کے ذریعے جارحیت کے خاتمے کے بعد تعمیر نو کی کوششوں میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں، یہ ضروری ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ فلسطینی اپنی زندگی اور معاش کی تعمیر نو کریں، ہم اسرائیل کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہونے دیں، 8 اہم مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے اس بروقت اجتماع سے فلسطینی عوام کی حمایت کا مضبوط پیغام ضرور جانا چاہیے، اسے کال کی قیادت بھی کرنی چاہیے اور اسرائیلی جارحیت کو روکنے اور غزہ کے محصور لوگوں کے لیے انسانی امداد کے تمام راستے کھولنے کے لیے ٹھوس اور فوری بین الاقوامی کارروائی کے لیے مہم چلانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی طرف سے پہلے ہی ہمارے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے لیے آٹھ امدادی سامان بھیج چکا ہے،غیر متناسب اور مسلسل اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے تباہی کی شدت، بے مثال ہے، آئیے اکٹھے ہوں اور اپنے فلسطینی بھائیوں کو بامعنی مدد دینے کے لیے اب عمل کریں۔


مشہور خبریں۔
چین یوکرین جنگ میں کس فریق کو اسلحہ فراہم کرتا ہے؟
?️ 14 جون 2024سچ خبریں: چین یوکرین کی جنگ کے کسی بھی فریق کو ہتھیار
جون
یوکرین کا بحران سیاسی طور پر حل ہونا چاہیے:ایران
?️ 24 جولائی 2022سچ خبریں:ایرانی وزیر خارجہ نے روس یوکرین جنگ کے سلسلہ میں اپنے
جولائی
سعودی غلامی کو بے نقاب کرنے کے بعد فیلیپینی کارکنوں کو سعودی عرب بھیجنے کی معطلی
?️ 2 اکتوبر 2021سچ خبریں: خلیج آنلاین کے مطابق فیلیپینی کی وزارت معلومات اور عوامی
اکتوبر
کریملن کا یوکرائنی اناج کی چوری کی ترکی کی مبینہ تحقیقات پر ردعمل
?️ 23 جون 2022سچ خبریں: جیسا کہ روس کی جانب سے یوکرائنی اناج کی
جون
مودی حکومت نے ایران سے تیل کی خریداری محدود کر کے ملک کی خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے
?️ 16 فروری 2026مودی حکومت نے ایران سے تیل کی خریداری محدود کر کے ملک
فروری
اگر یوکرین کو میزائل فراہم کیے گئے تو ہم حملے تیز کر دیں گے: پیوٹن
?️ 5 جون 2022سچ خبریں: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے مغرب کو خبردار کیا
جون
سعودی عرب میں ایک بار پھر پھانسیوں کا بازار گرم
?️ 25 جون 2023سچ خبریں:سعودی وزیر داخلہ کے بیان کے مطابق ، عبد الرحمن فارس
جون
الجزیرہ نیٹ ورک: ایران پر امریکی جارحیت، "صدام” کی غلطی کا اعادہ ہے
?️ 6 اپریل 2026سچ خبریں: الجزیرہ نیٹ ورک نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکہ
اپریل