?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ کیس میں تفتیش کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کرلیا جبکہ نیب نے پیشی کے لیے طلب کیا تھا۔ قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو توشہ خانہ کیس میں تفتیش کے لیے 21 مارچ کو طلب کرلیا تھا۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے اس کیس میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کرلی ہے لیکن ان اہلیہ نے تاحال ضمانت نہیں لی۔ نیب نے بشریٰ بی بی کو طلب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا، مجرمانہ مداخلت اور تحائف کی غیرقانونی فروخت کی جو ریاست کا اثاثہ تھے۔
بشریٰ بی بی کو دیے گئے نیب کے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ’آپ نے امیر قطر کی جانب سے پیش کی گئی ایک رولیکس لیڈیز گھڑی اور ایک لاکٹ، سونے اور ہیرے کی چین، سونے اور ہیرے کے دو بریسلیٹس پر مشتمل بکس وصول کیا۔
نوٹس میں مزید کہا گیا کہ سعودی ولی عہد کی جانب سے دیا گیا ایک ہار، ایک بریسلیٹ، ایک انگوٹھی اور کانوں کی بالیوں کا جوڑا بھی وصول کیا۔
توشہ خانہ کیس میں عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے کم قیمت پر تحائف حاصل کیے اور کروڑوں میں فروخت کیا۔
نیب نے دوسری طرف پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو آمدن سے زائد اثاثوں کے کسی میں آج طلب کرلیا ہے۔
عثمان بزدار کو طلبی کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’آپ کو ایک سوال نامہ 3 مارچ کو ارسال کر دیا گیا تھا لیکن آپ اس کا جواب دینے میں ناکام رہے اور 13 مارچ کو نیب کی سماعت میں بھی حاضر نہیں ہوئے‘۔
نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب سے کہا ہے کہ ’آپ کو ہدایت کی گئی ہے کہ نیب لاہور میں 22 مارچ کو پیش ہوں اور تعمیل نہ کرنے کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس (ناؤ) کے شیڈول کے سیکشن 2 کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خیال رہے کہ توشہ خانہ، کابینہ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول کے تحت 1974 میں قائم کیا گیا محکمہ ہے جو حکمرانوں، اراکین پارلیمنٹ، بیوروکریٹس کو دیگر ممالک کی حکومتوں اور ریاستوں کے سربراہان اور غیر ملکی مہمانوں کی جانب سے دیے گئے قیمتی تحائف کو اپنی تحویل میں رکھتا ہے۔
وفاقی حکومت نے 12 مارچ کو وہ تمام تفصیلات جاری کردی تھیں جس میں 2002 سے 2022 کے دوران توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والے سرکاری عہدوں کے حامل افراد کا ریکارڈ شامل تھا، ان شخصیات میں سابق صدور، وزرائے اعظم، وفاقی کابینہ کے اراکین، سیاست دان، بیوروکریٹس، ریٹائرڈ جرنیل، جج اور صحافی بھی شامل ہیں۔
رواں ماہ وفاقی کابینہ نے ’توشہ خانہ پالیسی 2023‘ کی منظوری بھی دے دی ہے جس کے تحت صدر، وزیراعظم اور کابینہ ارکان سمیت دیگر سرکاری عہدیداروں پر 300 ڈالر سے زائد مالیت کا تحفہ حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔


مشہور خبریں۔
شیریں مزاری کا نام ای سی ایل میں نہیں
?️ 29 جون 2024سچ خبریں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود ڈاکٹر
جون
فیس بک پر ’لوکل اور ایکسپلور‘ ٹیب کی آزمائش
?️ 11 اکتوبر 2024سچ خبریں: دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک
اکتوبر
اگر میں جیتا نہیں تو خون کی ندی بہا دوں گا : ٹرمپ
?️ 17 مارچ 2024سچ خبریں:امریکہ کے سابق صدر اور 2024 کے صدارتی انتخابات میں ملک
مارچ
ایرانی مسلح افواج دشمن کی آنکھ کا کانٹا ہیں:آیت اللہ خامنہ ای
?️ 9 فروری 2022سچ خبریں:ایران کے روحانی پیشو آیت اللہ خامنہ ای نے اس ملک
فروری
سندھ میں حادثات کی بنیادی وجہ ااین ایچ اے کی تباہ حال سڑکیں ہیں، ترجمان سندھ حکومت
?️ 16 فروری 2025کراچی: (سچ خبریں) سندھ حکومت کے ترجمان اور میئر سکھر ارسلان شیخ
فروری
شام کے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے سیاسی تحفظات ایک طرف
?️ 9 فروری 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے ترجمان نے شام
فروری
نئے ٹیکس سے ملک میں ادویات مہنگی ہو گئی
?️ 12 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں ) تفصیلات کے مطابق رواں مالی سال کے
جولائی
صیہونی دشمن کے ساتھ تین ماہ کی جنگ میں حزب اللہ کی میدانی کامیابیاں
?️ 6 جنوری 2024سچ خبریں:حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے اپنی
جنوری