عمران خان کی تقاریر کو نشر کرنے پر پابندی نہیں ہے، پیمرا

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ کو آگاہ کیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی تقاریر کو نشر کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

یہ انکشاف پیمرا کے وکیل ہارون دگل نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گزشتہ سال پیمرا کے تمام سیٹیلائٹ ٹیلی ویژن چینلز پر ان کی تقریر اور پریس ٹالک کو نشر نا کیے جانے کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کے دوران کیا۔

یہ پابندی اس وقت لگائی گئی جب عمران نے سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ پر تنقید کرتے ہوئے ان پر موجودہ حکمرانوں کو مبینہ بدعنوانی کے مقدمات میں تحفظ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

بعد ازاں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے عدالت سے رجوع کیا اور پابندی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا کا حکم خالص طور پر انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے نکالا گیا ہے، عمران کے وکیل احمد پنسوٹا نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے اب تک اس کیس پر 8 سماعتیں کی ہیں۔

آج عمران کے وکیل پنسوٹا اور وفاقی حکومت کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے مقدمے کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ پیمرا درخواست گزار کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کے حوالے سے ٹی وی چینلز پر دباؤ ڈالنے سے گریز کرے۔

جواب میں پیمرا کے وکیل میر نے کہا کہ درخواست گزار کی تقاریر نشر کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

بعد ازاں مختصر دلائل کے بعد عدالت نے درخواست نمٹا دی۔

گزشتہ سال جاری ہونے والے حکم امتناع میں پیمرا نے سابقہ ​​ہدایات کا حوالہ دیا تھا جس میں تمام لائسنس دہندگان کو ہدایت کی گئی تھی کہ ریاستی اداروں کے خلاف کوئی بھی مواد ٹیلی کاسٹ کرنے سے گریز کریں۔

اتھارٹی نے نوٹ کیا تھا کہ عمران اپنی تقاریر اور بیانات میں ریاستی اداروں اور افسران کے خلاف اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں اور نفرت انگیزی پھیلا رہے ہیں جو امن و امان کی بحالی کے لیے نقصاندہ ہے اور جس سے عوامی امن و سکون کے خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

پیمرا نے کہا تھا کہ لائسنس دہندگان نے وقت میں تاخیر کے مؤثر طریقہ کار کو استعمال کیے بغیر مواد ٹیلی کاسٹ کیا، یہ اتھارٹی کے قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔

آرڈر میں بتایا گیا کہ لہذا، مجاز اتھارٹی یعنی چیئرمین پیمرا مذکورہ بالا پس منظر اور وجوہات کے پیش نظر پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 کے ذریعے پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 اے میں کی گئی ترمیم سے ملنے والے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز پر عمران خان کی تقریر (ریکارڈ یا لائیو) کی نشریات اور دوبارہ نشریات پر فوری طور پر پابندی لگاتی ہے۔

اتھارٹی نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ ایک غیر جانبدار ایڈیٹوریل بورڈ تشکیل دیا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے پلیٹ فارمز کو کوئی بھی کسی بھی طرح سے توہین آمیز اور کسی بھی ریاستی ادارے کے خلاف نفرت انگیز، متعصبانہ ریمارکس دینے کے لیے استعمال نہ کرے جو ملک کے امن و امان کے لیے نقصاندہ ہو۔

پیمرا کے حکم نامے کو چیلنج کرتے ہوئے عمران خان نے نشاندہی کی تھی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ماضی میں بھی اسی طرح کے امتناع کے حکم کو کالعدم قرار دیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا کہ پیمرا نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے اور آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کے تحت دیے گئے آئینی حقوق کی پرواہ کیے بغیر حکم جاری کیا، انہوں نے استدعا کی کہ اتھارٹی کو ممنوعہ بلینکیٹ حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے جو تناسب کے اصول کی خلاف ورزی ہو۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 8 کے مطابق اجلاسوں کے لیے کورم بنانے کے لیے کل ارکان کی ایک تہائی تعداد ہونا ضروری ہے، لیکن جس اجلاس نے عمران کے خلاف حکم نامہ پاس کیا اس میں صرف چیئرمین اور 3 ممبران شامل تھے جس نے حکم کو ’کورم نان جوڈائس‘ بنا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیمرا کا حکم غیر قانونی، ان کے دائرہ اختیار سے تجاوز اور آئین کے تحت درج بنیادی حقوق کے منافی ہے اور اسے ایک طرف رکھا جانا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

پشاور میں دہشت گردوں کا تھانے پر حملہ، جوابی کارروائی میں 2 جہنم واصل

?️ 11 اکتوبر 2025پشاور (سچ خبریں) پشاور میں پولیس سٹیشن پر دہشت گردوں نے حملہ

صہیونی معاشرے میں سیکولرز اور انتہا پسند حریم کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عروج پر

?️ 2 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت میں داخلی اختلافات کا بحران جو کہ گزشتہ چند

غزہ شہداء اور زخمیوں کی تازہ ترین تعداد

?️ 25 اگست 2026سچ خبریں:فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے غزہ پر

فلسطینی بچوں کے خلاف صیہونی جرائم

?️ 20 مارچ 2022سچ خبریں:بیت المقدس کے قیدیوں کے اہل خانہ کی کمیٹی نے اعلان

یو ایس ایڈ کا پاکستان میں کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر سرمایہ کاری پروگرام بند ہوگیا

?️ 9 فروری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں امریکی مالی اعانت سے چلنے

آئی ایم ایف سے موسمیاتی فنڈنگ پر مذاکرات، کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز

?️ 24 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) آئندہ مالی سال 2025/26ء کیلئے بجٹ میں کاربن

کراچی کے شہری صوبہ بنانے کے حق میں نہیں۔ مراد علی شاہ

?️ 15 فروری 2026کراچی (سچ خبریں) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی

صیہونیوں کی لبنانی زمین پر ناکامی

?️ 1 اکتوبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے فضائی اور توپخانے کے حملوں میں شدت پیدا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے