عمران خان پر حملے کے باوجود پی ٹی آئی کا پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان

?️

لاہور: (سچ خبریں) گزشتہ روز لانگ مارچ کے دوران پنجاب کے علاقے وزیر آباد میں نامعلوم مسلح شخص کی فائرنگ سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان زخمی ہوئے جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا کہ لانگ مارچ کو کوئی نہیں روک سکتا اور جب تک انتخابات کا اعلان نہیں ہوجاتا، لانگ مارچ جاری رہے گا۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق عمران خان پر گزشتہ روز حملہ کے بعد ملک بھر کے مختلف شہروں میں شدید احتجاج بھی ہوا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز (3نومبر) کو وزیرآباد میں لانگ مارچ کے دوران نامعلوم مسلح شخص کی فائرنگ سےعمران خان اور سینیٹر فیصل جاوید سمیت متعدد رہنما زخمی اور ایک کارکن جاں بحق ہوا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ حکمران عمران خان کو نہیں روک سکتے، بزدل لوگ ان پر قاتلانہ حملے کی کوشش کررہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کی رحمت عمران خان کے ساتھ ہے، عمران خان کو ابھی قوم کے لیے بہت کام کرنا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ عمران خان پر نہیں بلکہ پاکستانی قوم پر حملہ ہے، بزدلانہ حملے کے بعد عمران خان مزید قوت کے ساتھ اسلام آباد کی جانب بڑھیں گے۔

پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے سپریم کورٹ سے عمران خان پر حملے کا ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور لانگ مارچ کے شرکا کی سیکیورٹی کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی تھی، قاتلانہ حملے میں ملوث افراد کو جب تک گرفتار نہیں کیا جاتا، پی ٹی آئی کے ارکان سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں روک نہیں سکتے، عمران خان زخمی لیکن محفوظ ہیں، ہم اپنا مقصد حاصل کرکے رہیں گے، اللہ ہماری حفاظت کرے۔

اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب خان نے کہا کہ پی ٹی آئی بزدلانہ حملوں سے ڈرنے والی نہیں ہے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری حماد اظہر اور انفارمیشن سیکریٹری عندلیب عباس نے بھی عمران خان پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن حقیقی آزادی مارچ پر حملہ 22 کروڑ عوام پر حملہ ہے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کوئی بھی حربہ استعمال کرلے لیکن پی ٹی آئی کا مارچ نہیں رُکے گا کیونکہ پاکستانی قوم عمران خان کی قیادت میں حقیقی آزادی کے لیے سڑکوں پر نکل آئی ہے اور اپنے حق کے لیے پُرامن احتجاج کررہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کی دعاؤں سے قاتلانہ حملہ میں عمران خان محفوظ رہے جہاں یہ لوگ پی ٹی آئی کے پیچھے کھڑے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے حملے میں صرف ایک حملہ آور کے ملوث ہونے کے بیانیے پر بھی سوال اٹھایا اور عندیا دیا کہ یہ پی ٹی آئی چیئرمین کو ہٹانے کی بہت بڑی سازش ہے۔

ڈان ڈاٹ کام کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی حیدر زیدی نے الزام لگایا تھا کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے میں صرف ایک حملہ آور ملوث نہیں تھا، اگر پی ٹی آئی کے سابق رہنما فیصل واوڈا کو اس حملے کی اطلاع تھی تو انہیں بھی ایف آئی آر میں شامل کیا جائے، ان کامزید کہنا تھا کہ لانگ مارچ کو روکنے کی کوشش نہ کی جائے، اگر ایسا ہوا تو پورا ملک بند ہوسکتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کی کوشش ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا، سابق وزیر اعظم پر حملہ نائن ایم ایم پستول سے نہیں کیا گیا بلکہ خودکار ہتھیار کے ذریعے کیا گیا تھا، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان حملہ میں بال بال بچ گئے ہیں، ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ جب تک عام انتخابات کا اعلان نہیں کیا جاتا پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رہے گا۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ سابق وزیر اعظم  سے ملنے لاہور کے شوکت خاتم ہسپتال پہنچے جہاں انہوں نے واقعہ کی شدید مذمت کی

انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ملوث ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائےگا

پی ٹی آئی رہنما اسد عمر اور میاں اسلم اقبال نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ عمران خان نے واقعہ میں ملوث 3 عہدیداروں کے نام بتائیں ہیں جبکہ میاں اسلم اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی ان عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کرےگی

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ عمران خان کو حملے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس پر انہوں نے قاتلانہ حملہ مبینہ طور پر ملوث کچھ افراد کے نام لیے تھے۔

مشہور خبریں۔

مودی حکومت پی ڈی پی پر گپکار الائنس چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، التجا مفتی

?️ 26 اکتوبر 2023سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز

کرونا کیسز میں اضافہ

?️ 26 جون 2022(سچ خبریں)پاکستان میں مسلسل دوسرے دن کورونا وائرس کے 400 سے زیادہ

قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں: اسرائیلی ذرائع

?️ 26 ستمبر 2021 سچ خبریں: صیہونی حکومت کے سیاسی ذرائع نے حماس کے ساتھ

فدان: میامی اجلاس میں غزہ پر ترکی کی ریڈ لائن کا اعلان کیا گیا

?️ 21 دسمبر 2025سچ خبریں: ترک وزیر خارجہ نے غزہ کے بارے میں میامی اجلاس

فلسطینیوں کی نقل مکانی کے بغیر غزہ کی تعمیر نو کیسے ہوگی؟ مصری صدر

?️ 20 فروری 2025 سچ خبریں:مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے غزہ میں جنگ بندی

صہیونیوں نے غزہ کی تاریخی یادگاروں کے ساتھ کیا کیا ؟

?️ 9 جنوری 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں آثار قدیمہ، مذہبی یادگاریں اور سیاحتی

رشی سونک کی وزارت عظمیٰ کے 100 دن مکمل، برطانوی شہری نا خوش

?️ 1 فروری 2023سچ خبریں:جرمن اخبار نے برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کی 100 روزہ

لاہور کے بعد ملتان میں بھی فضائی آلودگی خطرناک حد تک پہنچ گئی، انڈیکس 1487 ریکارڈ

?️ 10 نومبر 2024ملتان: (سچ خبریں) پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے بعد ملتان میں بھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے