?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی حکومت نے وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان پر فائرنگ کا مقدمہ درج کرنے کے لیے حکومتِ پنجاب کو خط لکھ دیا ہے۔
فائرنگ کے واقعہ کا مقدمہ درج کرنے کے لیے وفاقی کی جانب سے یہ خط چیف سیکریٹری پنجاب، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور آئی جی پنجاب کو لکھا گیا ہے۔
خط میں وفاقی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ مقدمے کے میرٹ پر اندراج کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں، 3 روز گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہ ہونے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
خط میں کہا گیا کہ وزیر آباد فائرنگ کا مقدمہ گرفتار ملزم کے خلاف شواہد کی بنیاد پر درج کیا جائے، فائرنگ کے بعد سابق وزیر اعظم اور دیگر متاثرین کا میڈیکو لیگل نہ ہونا بھی باعث تشویش ہے۔
خط میں پی ٹی آئی کے احتجاج اور گورنر ہاؤس لاہور کو سیکیورٹی نہ دینے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ خط کے متن میں وزیر آباد فائرنگ کے بعد صوبہ بھر میں جلاؤ گھیراؤ پر بھی وفاق نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
قبل ازیں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے بھی آئی جی پنجاب پولیس کو 24 گھنٹوں کے اندر عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔
خیال رہے کہ 3 نومبر کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران عمران خان پر حملہ ہوا تھا، تاہم اس واقعے کی ایف آئی آر تاحال درج نہیں کی گئی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی، پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے میں مبینہ ہچکچاہٹ پر سوالات اٹھا رہی ہے جبکہ پولیس، پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اب تک ایف آئی آر درج کرنے کی کوئی درخواست موصول ہونے سے انکار کر رہی ہے۔
سابق وزیر اعظم کی جانب سے ایک اعلیٰ فوجی افسر، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے اصرار پر پنجاب کی حکمراں اتحادی جماعتوں (پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق) کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
عمران خان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ جن 3 لوگوں پر انہوں نے اپنے قتل کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کیا ہے ان تینوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج نہیں کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ جب تک وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور ایک اعلیٰ فوجی افسر مستعفی نہیں ہوتے اس وقت تک شفاف تحقیقات نہیں ہو سکتی۔
شاہ محمود قریشی نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر کے حوالے سے کچھ لوگ بے بس دکھائی دیتے ہیں، سابق وزیراعظم پر حملہ ہوا اور تھانہ لیت و لعل سے کام لے رہا ہے، اگر آئی جی پنجاب، عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج نہیں کرا سکتے تو عہدہ چھوڑ دیں۔
اس دوران یہ افواہیں بھی گرم ہوئیں کہ ایف آئی آر کے اندراج میں ہچکچاہٹ پر صوبائی حکومت انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) فیصل شاہکار کا تبادلہ کرنے جارہی ہے۔
گزشتہ روز فیصل شاہکار نے عہدہ چھوڑنے سے متعلق وفاق کو خط لکھ دیا جس میں انہوں نے لکھا کہ ذاتی وجوہات کی بنیاد پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔
ذرائع کے مطابق فیصل شاہکار نے وزیراعلیٰ پنجاب کو آگاہ کیا کہ عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر پر بلاجواز تنقید اور اس کے بعد شاہ محمود قریشی کے نفرت انگیز ریمارکس محکمہ پولیس کے لیے ناقابل قبول ہیں۔


مشہور خبریں۔
2024 میں روسی فوجی بجٹ میں نمایاں اضافہ
?️ 14 دسمبر 2023سچ خبریں:بین الاقوامی تھنک ٹینک اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ
دسمبر
امریکا میں نجی اسکول نے کورونا ویکسین لگوانے والے اساتذہ کے خلاف اہم قدم اٹھا لیا
?️ 28 اپریل 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکا میں نجی اسکول نے کورونا ویکسین لگوانے والے
اپریل
رائد سعد کی شہادت پر حماس کی خاموشی طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے
?️ 22 دسمبر 2025 رائد سعد کی شہادت پر حماس کی خاموشی طوفان سے پہلے کی
دسمبر
نیتن یاہو جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد نہیں چاہتے
?️ 20 اکتوبر 2025 نیتن یاہو جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد نہیں چاہتے
اکتوبر
اینٹی کرپشن انکوائری: آئندہ سماعت پر ثابت کریں رانا ثنااللہ نے کس سے رشوت لی؟ لاہور ہائیکورٹ
?️ 17 اکتوبر 2022 راولپنڈی:(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے محکمہ اینٹی
اکتوبر
عمران خان نے کہا ہے ان سے بات کی جائے جن سے ٹرمپ بات کررہے ہیں، علیمہ خان
?️ 3 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ
جولائی
ہیمبرگ کے اسلامی مرکز کے نائب سربراہ برطرف
?️ 19 جون 2022میڈیا ذرائع نے ہفتہ کے روز اطلاع دی ہے کہ جرمنی میں
جون
جدہ اجلاس میں واشنگٹن کے لیے الٹے نتایج
?️ 19 جولائی 2022سچ خبریں: ایک بین الاقوامی رپورٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے اردن
جولائی