?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ترسیلی نقصانات کی وجہ سے کراچی کے سوا دیگر صارفین پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ملک بھر میں 151 ارب روپے کی ’بجٹ شدہ‘ سبسڈی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی کے لیے 315 ارب روپے کا پیکیج تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد کے الیکٹرک کو اربوں روپے کی ٹیرف ڈیفرینسل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) فراہم کرکے باقی ملک کے مقابلے میں ٹیرف کو یکساں بنانا ہے، جس سے سندھ کے صوبائی دارالحکومت میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔
آئندہ مالی سال میں متعارف کرائے جانے والا مکمل ریلیف پیکیج 8 کھرب 94 ارب روپے کا ہے اور اس میں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو اربوں روپے کی ادائیگیاں بھی شامل ہیں۔
وزیر بجلی خرم دستگیر نے کہا کہ لاہور، اسلام آباد، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، سکھر، حیدرآباد، کوئٹہ اور پشاور میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اپنے لائن لاسز اور دیگر مسائل پر قابو پانے کے لیے مجموعی طور پر 151 ارب روپے سبسڈی حاصل کریں گی۔
وزیر نے ایک سوال کے جواب میں دعویٰ کیا کہ ’عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اس سبسڈی، مدد یا ریلیف کے بارے میں جانتا ہے، کیونکہ یہ سب بجٹ میں ہے اور فنڈ ایسی سبسڈی قبول کرتا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تمام معاملات پر آئی ایم ایف کے ساتھ مصروف عمل ہے اور مشکل حالات کے باوجود پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے میں کامیاب رہی۔
خرم دستگیر نے کہا کہ کراچی کو نکال کر پاور سیکٹر کے لیے پوری سبسڈی یا سپورٹ کا حجم 5 کھرب 79 ارب روپے ہے جس میں ڈسکوز کے لیے 151 ارب روپے ٹی ڈی ایس، سابقہ فاٹا ریجن کے لیے 25 ارب روپے، آزاد جموں کشمیر کے لیے 80 ارب روپے شامل ہیں، جس میں آئندہ مالی سال کے لیے 55 ارب روپے شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صنعتی تعاون کی مد میں 17 ارب روپے، ایکسپورٹ زیرو ریٹیڈ انڈسٹری کے لیے سبسڈی والے ٹیرف کے طور پر 64 ارب روپے (موجودہ سال کے لیے زیر التوا) اور بلوچستان میں زراعت (ٹیوب ویلز) کے لیے 58 ارب روپے شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ سبسڈی، مدد یا ریلیف کے طور پر لیتے ہیں، کیونکہ حکومت صارفین پر اس بوجھ کو منتقل کرنے سے بچنے کے لیے یہ سب ادا کرے گی’۔
کراچی کے لیے سبسڈی کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر نے کہا کہ 315 ارب روپے کی سبسڈی صرف شہر کے لیے ہے جس میں مالی سال 24-2023 کے لیے 171 ارب روپے اور 30 جون کو ختم ہونے والے موجودہ مالی سال کے لیے 127 ارب روپے ٹی ڈی ایس کے طور پر زیر التوا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باقی 17 ارب روپے بجلی کے نرخوں کی مد میں صنعتی سپورٹ پیکج کے لیے ہیں۔
ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہم اس امدادی پیکج کو کراس سبسڈی کے طور پر دیکھ سکتے ہیں تاکہ کراچی کے بجلی کے ٹیرف کو باقی پاکستان کے برابر کیا جا سکے’۔
بجلی کی پیداوار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ حکومت نیشنل گرڈ میں 5 ہزار میگاواٹ بجلی شامل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جس میں تھر کول سے 1980 میگاواٹ، کروٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے 720 میگاواٹ، کے-3 نیوکلیئر پاور پروجیکٹ سے 1100 میگاواٹ اور پنجاب تھرمل پاور پروجیکٹ کے ذریعے 1200 میگاواٹ بجلی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملک میں بجلی کا کوئی شارٹ فال نہیں ہے لیکن ڈسکوز علاقے میں ترسیلی نقصانات کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے محدود گھنٹوں تک لوڈ شیڈنگ جاری رکھیں گے۔
وزیر نے واضح کیا کہ تاہم کم از کم لوڈ شیڈنگ دو گھنٹے کی ہوگی جبکہ زیادہ نقصان والے فیڈرز میں آنے والے علاقوں میں اس میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجلی کی چوری کو روکنے کے لیے پورے صنعتی کنیکشن کو ایڈوانس میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) پر منتقل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے،ہم تمام ڈسکوز کو نفاذ کے اختیارات بھی دے رہے ہیں تاکہ انہیں بجلی کی چوری کے خلاف آزادانہ طور پر کارروائی کرنے کے اختیارات مل سکیں۔


مشہور خبریں۔
ٹرمپ کی نظر میں یوکرینی صدر کی حیثیت
?️ 20 فروری 2025 سچ خبریں:امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا
فروری
نام نہاد احتسابی سن لیں ایک دن حساب ضرور ہوگا: خاقان عباسی
?️ 16 فروری 2021اسلام آباد (سچ خبریں) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا
فروری
وزیراعظم کا ترکیہ کے زلزلہ زدگان کی مدد جاری رکھنے کا عزم
?️ 18 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات کا
فروری
صہیونی ہجرت کی لہر تیز ہو گئی
?️ 29 مارچ 2026سچ خبریں: گزشتہ روزوں میں ایران کے ممکنہ میزائل حملوں کے خوف
مارچ
بھارت کی آبی جارحیت، بغیر بتائے دریائے جہلم میں پانی چھوڑ دیا، مظفرآباد میں آبی ایمرجنسی نافذ
?️ 26 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بھارت نے آبی جارحیت آغاز کر دیا، بغیر
اپریل
انڈونیشیا کے صدر کا پاکستان کا دورہ
?️ 9 دسمبر 2025 انڈونیشیا کے صدر کا پاکستان کا دورہ انڈونیشیا کے صدر پرابووو
دسمبر
آئی فونز 16 کی قیمتیں جان کر دنگ رہ جائیں گے
?️ 10 ستمبر 2024سچ خبریں: اسمارٹ فون بنانے والی امریکی کمپنی ایپل کی جانب سے
ستمبر
بحران کا شکار فوج؛ صہیونی معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لانے والے فاشسٹ فوجی
?️ 25 دسمبر 2022سچ خبریں:اگرچہ تشدد اور جرائم کی جڑیں جعلی صہیونی حکومت کی بنیادوں
دسمبر