سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کردیے

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کیس میں 10 مختلف اداروں اور افراد کو نوٹس جاری کردیے جنہوں نے مبینہ طور پر بیرون ملک سے تقریباً 13 کروڑ 60 لاکھ پاؤنڈ اور تقریباً 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر (اس وقت کے تقریباً 35 ارب روپے) بھیجے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ سمیت 3 ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ بینچ نے بحریہ ٹاؤن کراچی سے متعلق سپریم کورٹ کے 2019 کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی 18اکتوبر2023 کی سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک سے رقوم بھجوانے والوں کو بھی نوٹس جاری کرنا مناسب ہوگا۔

عدالتی ہدایت کے مطابق جن فریقین کو حکم نوٹس جاری کیا گیا اُن میں فارچیون ایونٹ لمیٹڈ متحدہ عرب امارات، مبشرہ علی ملک، بینا ریاض اور ثنا سلمان، مشرق بینک لندن، الٹی میٹ ہولڈنگز ایم جی ٹی لمیٹڈ، برٹش ورجن آئلنڈز، پریمیئر انویسٹمنٹ گلوبل لمیٹڈ، احمد علی ریاض اور ویڈلیک بیل کوئین وکٹوریہ اسٹریٹ، لندن شامل ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مارچ 2019 کے پہلے رضامندی کے حکم نامے میں بتایا گیا تھا کہ زمین کی قیمت 460 ارب روپے ہے، کتنی مدت کے اندر اسے ادا کیا جانا ہے، اس کی ادائیگی کا طریقہ کیا ہوگا اور یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ اگر مسلسل 2 یا 3 اقساط ادا نہیں کی گئیں تو یہ ڈیفالٹ سمجھا جائے گا۔

حکم نامے کےمطابق ضامن بننے والوں میں بحریہ ٹاؤن کے ماضی اور موجودہ ڈائریکٹرز، شیئر ہولڈرز اور پروموٹرز شامل تھے۔

حکم نامے کے مطابق بحریہ ٹاؤن کی یقین دہانی کے پیش نظر نیب کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے پر پابندی لگا دی گئی تاہم 460 ارب روپے میں سے اب تک صرف 60.72 ارب ادا کیے گئے ہیں، ادا کی گئی رقم میں سے 24.62 ارب بحریہ ٹاؤن نے دیے ہیں۔

عدالتی استفسار کے جواب میں بحریہ ٹاؤن کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت کچھ رقم بیرون ملک سے بھیج دی گئی ہے اور ادا کردی گئی ہے اور وہ اس حوالے سے مطلوبہ دستاویزات جمع کرائیں گے۔

عدالت نے کہا کہ رضامندی کے حکم کے مطابق بحریہ ٹاؤن ادائیگی میں ناکام رہا تو 4 افراد نے ادائیگی کرنے کی ضمانت دی تھی، جن میں ملک ریاض حسین، ان کے بیٹے احمد علی ریاض، اہلیہ بینا ریاض اور زین ملک شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے اگلی سماعت 8 نومبر کو مقرر کی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ کوئی التوا نہیں دیا جائے گا، اگر کوئی وکیل کارروائی میں شریک نہیں ہو سکتا تو اسے متبادل انتظامات کرنے چاہئیں۔

مشہور خبریں۔

تل ابیب کو ریاض کے ساتھ معمول پر آنے کے لئے وقت کی ضرورت

?️ 6 جولائی 2022اسرائیل ہیوم اخبار نے امریکی صدر جو بائیڈن کے مقبوضہ علاقوں کے

پاکستان کوجاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں مجموعی طور پر 7.142 ارب ڈالر کے غیرملکی قرضے و گرانٹس موصول

?️ 24 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کو جاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ

سعودی عرب یوکرین امن مذاکرات کے ذریعے کیا چاہتا ہے؟

?️ 1 اگست 2023سچ خبریں:یوکرائنی امن مذاکرات کی میزبانی کے لیے سعودی عرب کی آمادگی

افغانیوں کو جہاز سے گرانے والے امریکی عملے کے کارکن باعزت بری

?️ 16 جون 2022سچ خبریں:طالبان کے اقتدار میں آنے پر امریکی C-17 فوجی طیارے کے

ٹرمپ کا امریکی وزیر جنگ کو برطرف کرنے کا امکان

?️ 14 اکتوبر 2026سچ خبریں: سیاسی تجزیہ کار ڈومینک مائیکل ٹریپی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ

سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار نہیں کہ وہ ریٹائرڈ ججز کیخلاف کارروائی کرے،جسٹس (ر)مظاہر نقوی

?️ 16 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر)مظاہر نقوی نے

ماہر تعمیرات یاسمین لاری کا غزہ سے اظہار یکجہتی کیلئے اسرائیلی ایوارڈ لینے سے انکار

?️ 13 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی آرکیٹیکٹ (ماہر تعمیرات)

ایران اور چین کے درمیان اہم معاہدہ

?️ 27 مارچ 2021سچ خبریں:عوامی جمہوریہ چین کے وزیر برائے امور خارجہ اور قومی کونسل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے