سپریم کورٹ مقدمات میں بہتر شواہد کی فراہمی کیلئے اے این ایف، پولیس رولز میں تبدیلیوں کی خواہاں

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں اور متعلقہ وفاقی حکام سے کہا ہے کہ وہ منشیات کو ضبط کرنے، اسے محفوظ کرنے اور ٹرائل کے لیے اسے استعمال کرنے کے دوران ویڈیو ریکارڈنگ اور تصاویر کا بطور ثبوت استعمال یقینی بنانے کے لیے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور پولیس کے قوانین میں ترمیم پر غور کریں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے میں کہا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام ادارے پیشہ ورانہ طور پر کام کریں اور ثبوت حاصل کرنے کے لیے تمام دستیاب قانونی ذرائع استعمال کریں کیونکہ قابل اعتماد پراسیکیوشن اور عدالتی فیصلہ سازی کا عمل عوامی تاثر کو بہتر بناتا ہے۔

چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ناقص تفتیش، شواہد کی عدم موجودگی، پراسیکیوشن کے بری تفتیش سے متاثرہ مقدمات کی وجہ سے عدالتوں پر ضمانت کی درخواستوں کا بوجھ ہے۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 20 ستمبر کو زاہد سرفراز گِل کی جانب سے ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے خلاف دائر کی گئی اپیل پر سماعت کی۔

زاہد سرفراز گل کو 29 مئی کو اسلام آباد سیکریٹریٹ پولیس اسٹیشن میں درج ایک مقدمے میں جھوٹا پھنسایا گیا تھا، ان کے خلاف مقدمہ جوابی کارروائی کے طور پر درج کیا گیا تھا جب کہ 17 مئی کو انہوں نے کچھ پولیس اہلکاروں کے خلاف اپنی تحریری شکایت جمع کرائی تھی۔

درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے ایڈووکیٹ شعیب شاہین نے کہا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ زاہد گل جائے وقوع پر موجود ہی نہیں تھے لیکن تفتیشی افسر نے اس پہلو کا جائزہ نہیں لیا جب کہ درخواست گزار سے مبینہ طور پر ایک ہزار 833 گرام چرس برآمد ہوئی۔

عدالت عظمیٰ نے درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے ساتھ ٹرائل کورٹ کے اطمینان کے لیے اتنی ہی رقم کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے سے مشروط کرتے ہوئے ضمانت دی اور ہائی کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قانون کے مطابق اس طرح کی تلاشی کے وقت علاقے کے دو یا زیادہ معزز رہائشیوں کو ساتھ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیکن ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ تلاشی، برآمدگی یا گرفتاری کے وقت پولیس اور اے این ایف کے ارکان ریکارڈ یا تصویر کیوں نہیں لیتے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر پولیس اور اے این ایف اہلکار اپنے موبائل فون کیمروں کو تلاشی، برآمدگی اور گرفتاری کی تصاویر ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال کریں تو یہ جائے وقوع پر ملزمان کی موجودگی، نشہ آور اشیا کے ملزمان کے قبضے سے برآمدگی ثابت کرنے کے لیے سود مند ثابت ہوگا۔

عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ اس سے اے این ایف اور پولیس کے خلاف لگائے جانے والے ان جھوٹے الزامات کا راستہ بھی روکا جا سکتا ہے کہ نشہ آور مواد برآمدگی مذموم مقاصد کے لیے کی گئی۔

مشہور خبریں۔

حکومت کو سپورٹ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ مسلم لیگ ( ن ) جوچا ہے کرے اور ہم خاموش رہیں، قمر زمان کائرہ

?️ 1 اکتوبر 2025لاہور: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا

جعلی فنگر پرنٹس پر  فراڈ کرنے والا گروہ بے نقاب

?️ 6 جون 2021پشاور(سچ خبریں) خیبرپختونخوا میں جعلی فنگر پرنٹس پر فراڈ کرنے والا گروہ

امریکی الحشد الشعبی کو ختم کرنا چاہتے ہیں: مالکی

?️ 22 فروری 2025سچ خبریں: عراقی حکومت کے قانون اتحاد کے سربراہ نوری المالکی نے ملکی

190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کیلئے درخواستیں تیار

?️ 17 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور

کیا ٹرمپ جنگ بندی اور امن بحال کرنی کی کوششوں کو جاری رکھیں گے

?️ 12 اکتوبر 2025کیا ٹرمپ جنگ بندی اور امن بحال کرنی کی کوششوں کو جاری

امریکی داعشی کے ساتھ کیا ہوا؟

?️ 15 جولائی 2023سچ خبریں: نیویارک میں ایک وفاقی جج نے کوسووار سے تعلق رکھنے

فی الحال جنگجوؤں کو یوکرین بھیجنا صحیح طریقہ نہیں ہے: انگلینڈ

?️ 3 فروری 2023سچ خبریں:برطانوی وزیر دفاع بن والیس نے کہا کہ ملکی حکومت نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے