?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے بلوچستان میں مردم شماری کےخلاف اپیل میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان سے جواب طلب کرلیا۔
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے بلوچستان ہائیکورٹ کے 29 اگست کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ درخواست گزار نے مشترکہ مفادات کونسل میں نگران وزرا اعلی کی شمولیت پر اعتراض کیا۔
درخواست گزار کے وکیل کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ مردم شماری سے شہریوں کے بنیادی حقوق وابستہ ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کامران مرتضی صاحب سے مکالمہ کیا کہ آپ نے جس وزیر اعلیٰ کو منتخب کیا، اس نے مردم شماری پر اعتراض نہیں کیا، اب اس کا حل یہ ہوسکتا ہے کہ آئندہ آپ لوگ اس وزیر اعلیٰ کو دوبارہ ووٹ نہ دیں۔
وکیل نے کہا کہ بلوچستان میں جس طریقے سے وزرا منتخب ہوتے ہیں وہ ایک الگ بحث ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو انتخابات سے متعلق کیس میں بھی مشترکہ مفادات کونسل کا ذکر ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ 8 فروری کو عام انتخابات سے متعلق کیس کا فیصلہ بھی آئندہ سماعت پر دیکھ لیں گے۔
عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے مردم شماری کے نتائج میں صوبے کی حتمی آبادی کی گنتی کو چیلنج کرنے سے متعلق پٹیشن خارج کردی تھی۔
اپیل کنندہ کی نمائندگی کرتے ہوئے وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ مردم شماری کے آخری مرحلے تک بلوچستان کی آبادی 2 کروڑ 17 لاکھ کے قریب رپورٹ کی گئی، تاہم مردم شماری کرنے والے محکمے پاکستان ادارہ شماریات نے حتمی رپورٹ میں اس میں تقریباً 70 لاکھ کی کمی کر کے تعداد ایک کروڑ 48 لاکھ 90 ہزار ظاہر کی۔
پھر اگست میں مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے کم کی گئی تعداد کی منظوری دے دی تھی۔
گزشتہ سماعت کے دوران جب بینچ نے نشاندہی کی تھی کہ اس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان نے سی سی آئی کے اجلاس میں مردم شماری کے نتائج کی توثیق کی تھی تو ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ نے جواب دیا کہ رضامندی ’زبردستی‘ تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹی وی چینلز نے یہ خبر بھی نشر کی تھی کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان 5 اگست کو ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
جب جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ سابق وزیراعلیٰ کہاں تھے اور انہیں میٹنگ میں کون لے گیا تو وکیل نے جواب دیا کہ وہ سو رہے تھے اور انہیں جہاز کے ذریعے میٹنگ میں لے جایا گیا۔
بعد ازاں ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہا تھا کہ ’ہلکے پھلکے انداز میں ریمارکس‘ دیے گئے تھے۔
کارروائی کے دوران وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر آبادی کو کم نہ کیا جاتا تو بلوچستان کو قومی اسمبلی کی 10 اضافی نشستیں ملتیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے تجویز پیش کی کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں کیونکہ آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت سی سی آئی کے فیصلے کو دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ انہوں نے یہ معاملہ سینیٹ میں اٹھایا تھا اور اراکین احتجاجاً واک آؤٹ بھی کر گئے تھے۔
وکیل نے مزید کہا کہ مردم شماری کے نتائج کی منظوری کے وقت سی سی آئی کی تشکیل ٹھیک نہیں تھی، انہوں نے مزید کہا کہ جب اجلاس بلایا گیا تو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں نگراں حکومتیں تھیں۔
آئین کے آرٹیکل 153 کے تحت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدر سی سی آئی کا تقرر کرتا ہے، وزیر اعظم سی سی آئی کی سربراہی کرتے ہیں۔
کونسل کے ارکان میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، وزیر بین الصوبائی رابطہ اور وزیر توانائی شامل ہوتے ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔
9 اگست کو قومی اسمبلی کی تحلیل سے چند دن قبل 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج کی منظوری متنازع بن گئی، اس فیصلے سے عام انتخابات میں تاخیر ہوئی جب کہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) جو اس وقت حکومت کا حصہ تھی، نے حتمی نتائج پر بھی اختلاف کیا۔
مردم شماری کے نتائج کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان قانون کے مطابق نئی حد بندی کرنے کا پابند تھا جب کہ اس وجہ سے عام انتخابات کا انعقاد 90 روز کی آئینی مدت میں ممکن نہیں ہوسکا۔


مشہور خبریں۔
واٹس ایپ کا نیا فیچر، اب صارفین پیغامات کا اپنی پسندیدہ زبان میں ترجمہ کرسکیں گے
?️ 25 ستمبر 2025 سچ خبریں: انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے اپنے صارفین کے
ستمبر
یہودی آبادکاروں کی جانب سے قبلہ اول کی بے حرمتی، مصر نے شدید مذمتی بیان جاری کردیا
?️ 20 جولائی 2021قاہرہ (سچ خبریں) یہودی آباد کاروں کی جانب سے قبلہ اول کی
جولائی
باکو میں جولانی، خطے کا نیا نقشہ؟
?️ 14 جولائی 2025سچ خبریں: سید مہدی طالب بین الاقوامی محقق احمد الشعراء، ابو محمد
جولائی
3 میڈیا اداروں کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی
?️ 19 ستمبر 2026سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ، دہشت گرد اور مجرم امریکی حکومت کے سربراہ
ستمبر
غزہ میں 20 لاکھ فلسطینیوں کا بھوکا رہنا جائز اور اخلاقی ہے: صیہونی وزیر
?️ 5 اگست 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کی کابینہ کے وزیر بیٹسلیل اسموٹریچ نے نسل
اگست
آج مزاحمت کے محور کے لیے ایک نئی صبح
?️ 23 فروری 2025سچ خبریں: اتوار 23 فروری کی صبح سے ہی سید حسن نصر
فروری
دو دن سے ہم پر میزائلوں کی بارش ہو رہی ہے؛صیہونی فوج کا اعتراف
?️ 12 مئی 2021سچ خبریں: صیہونی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ
مئی
کیا یوکرین میں خونی ہفتے آنے والے ہیں؟
?️ 21 جولائی 2023سچ خبریں: کھوئی ہوئی زمینوں کی بازیابی کے لیے یوکرین کے جوابی
جولائی