?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) ادارہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سینسیٹو پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) کے ذریعے پیمائش کی گئی قلیل مدتی مہنگائی 13 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر 44.61 فیصد تک پہنچ گئی۔
ہفتہ وار بنیادوں پرمہنگائی کی شرح میں 0.60 فیصد کمی ہوئی، تاہم رمضان المبارک کے دوران طلب میں اضافے کے پیش نظر اشیائے خورونوش مہنگی ہو رہی ہیں جن میں خاص طور پر پھل، آلو، پیاز، چکن، گوشت، انڈے اور کوکنگ آئل شامل ہیں۔
فروری کے آخر سے سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی 40 فیصد سے اوپر رہی تاہم 22 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے میں 46.7 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد گزشتہ 3 ہفتوں میں اس میں قدرے نرمی آئی۔
حکومت نے ملز مالکان اور پی ڈی ایم حکومت میں شامل سیاستدانوں کے دباؤ کے سبب چینی کی برآمد کی اجازت دے دی جس کے بعد مارکیٹوں میں چینی کی قیمت 130 روپے فی کلو تک پہنچ گئی، اسی دوران مارکیٹ میں 20 کلو آٹے کی قیمت 3400 روپے تک پہنچ گئی، حالیہ ہفتوں میں کھانا کے تیل اور گھی کی قیمتوں میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا۔
خیال رہے کہ ضروری اشیا کی قیمتوں میں چھوٹے وقفوں سے ہونے والی تبدیلی کا اندازہ لگانے کے لیے ہر ہفتے ایس پی آئی کا جائزہ لیا جاتا ہے، انڈیکس 17 شہروں میں 50 مارکیٹوں کے سروے کی بنیاد پر 51 اشیا کی قیمتوں پر نظر رکھتا ہے۔
ان 51 اشیا میں سے 26 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 9 اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی تاہم 16 اشیا کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
زیر جائزہ ہفتے کے دوران جن اشیا کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ اضافہ ہوا ان میں گندم کا آٹا (126.09 فیصد)، گیس (108.38 فیصد)، ڈیزل (102.84 فیصد)، انڈے (99.37 فیصد)، لپٹن چائے (97.63 فیصد)، کیلے (90.18 فیصد)، آلو (87.18 فیصد)، باسمتی چاول (84.46 فیصد)، اری چاول 6/9 (81.31 فیصد)، پیٹرول (81.17 فیصد)، دال مونگ (67.43 فیصد)، دال ماش (58.54 فیصد) اور ڈبل روٹی (55.36 فیصد) شامل ہے۔
ہفتہ وار بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ان میں آلو (8.59 فیصد)، ایل پی جی (4.47 فیصد)، انڈے (2.65 فیصد)، چکن (2.19 فیصد)، واشنگ سوپ (1.83 فیصد)، کیلے (1.64 فیصد)، دال ماش (1.45 فیصد)، گڑ (1.25 فیصد) اور پکا ہوا گائے کا گوشت (1.15 فیصد) شامل ہیں۔
جن مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی ان میں ٹماٹر (22.43 فیصد)، پیاز (15.85 فیصد)، آٹا (2.75 فیصد)، لہسن (1.29 فیصد)، دال چنا (0.82 فیصد)، دال مونگ (0.35 فیصد)، سرسوں کا تیل (0.09فیصد)، بجلی (4.95 فیصد) اور آگ جلانے کے لیے استعمال ہونے والی لکڑی (0.09فیصد) شامل ہے۔
حکومت مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے آمدنی پیدا کرنے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت ایندھن اور بجلی کے نرخوں میں اضافے، سبسڈیز کے خاتمے، مارکیٹ کی بنیاد پر ایکسچینج ریٹ اور زیادہ ٹیکس عائد کرنے جیسے سخت اقدامات اٹھا رہی ہے، جس کے نتیجے میں معاشی ترقی کی رفتار سست اور آنے والے مہینوں میں مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ میں 21 فیصد اضافے، بیش تر اشیا پر سیلز ٹیکس 17 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے اور 800 سے زائد درآمدی خوراک اور نان فوڈ آئٹمز پر سیلز ٹیکس میں 25 فیصد اضافے سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔


مشہور خبریں۔
زیلنسکی کی منجمد روسی اثاثے واپس لینے کی درخواست
?️ 19 دسمبر 2025سچ خبریں: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک مرتبہ پھر روس
دسمبر
فائزر ویکسین کے حوالے سے اسد عمر نے وضاحت کر دی
?️ 3 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کا
جون
بھارتی مظالم پر اقوام متحدہ کی خاموشی کی وجہ سے کشمیریوں کو مشکلات کاسامنا ہے،حریت رہنماء
?️ 3 جنوری 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر
جنوری
میٹا میں تعینات اسرائیلی اعلیٰ افسر کی جانب سے فلسطین کے حق میں پوسٹس ہٹانے کا انکشاف
?️ 27 اکتوبر 2024سچ خبریں: (سچ خبریں) دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس
اکتوبر
ماڈل نمرہ جیکب کا ہراساں کیے جانے کا الزام، حسنین لہری نے الزامات کی تردید کردی
?️ 30 مئی 2023کراچی: (سچ خبریں) پاکستان کے نامور ماڈل حسنین لہری اور نمرہ جیکب
مئی
ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن پابندیاں کم نہیں کریں گے:امریکہ
?️ 27 فروری 2021سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کے ترجمان کاکہناہے کہ ان کا ملک ایران کے
فروری
سعودی عرب کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے بارے میں اہم بیان
?️ 22 فروری 2022سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر حالات
فروری
شام اور ترکی میں زلزلے کے متاثرین کے لیے برطانیہ کی نفرت انگیز امداد
?️ 22 فروری 2023سچ خبریں:حالیہ دنوں میں ترکی اور شام میں زلزلہ متاثرین کو شدید
فروری