خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث برفانی جھیل کے پھٹنے کے خطرات بڑھ گئے، پی ڈی ایم اے

?️

پشاور: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کی پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ صوبے کے برفانی علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث برفانی جھیل کے پھٹنے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

برفانی جھیل کے پھٹنے سے مراد وہ صورت حال ہے جب جھیل اچانک پھٹتی ہے اور اس سے بہنے والا پانی اور مٹی نیچے کی وادیوں میں تباہی پھیلا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں، املاک اور مقامی لوگوں کے روزگار کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں 7 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد اس خطرے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کی جانب سے آج جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ برف کے تیزی سے پگھلنے اور اچانک سیلاب آنے کے امکانات کو بڑھا رہا ہے۔

ہدایت نامے کے مطابق چترال، دیر، سوات اور کوہستان کے رہائشیوں کو ممکنہ برفانی جھیلوں کے پھٹنے کے بارے میں خبردار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، جب کہ ضلعی انتظامیہ کو حساس علاقوں کی نگرانی، بروقت اطلاع رسانی اور انخلا کی مشقوں کو یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب غیر ضروری آمدورفت سے گریز کرنے اور تیز بہتے پانی میں گاڑیاں لے جانے سے منع کیا ہے، سیاحوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں نقل مکانی کے لیے مقامات قائم کر دیے گئے ہیں اور امدادی اداروں کو ہنگامی سازوسامان کے ساتھ تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

محکمہ شاہرات، سرحدی تعمیراتی ادارے اور تعمیرات و مواصلات کے محکمے کو سڑکوں کی بروقت بحالی کے لیے پیشگی اقدامات کرنے اور چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری اقدام کرنے کی ہدایت کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ عوام کو ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے آگاہی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے۔

ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ادارے کا ہنگامی مرکز مکمل طور پر فعال ہے، عوام مزید معلومات کے لیے 1700 پر رابطہ کریں۔

یہ ہدایت نامہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ایک ہفتے کے دوران 64 افراد جاں بحق اور 117 زخمی ہو چکے ہیں۔

سب سے زیادہ جانی نقصان خیبرپختونخوا میں ہوا، جہاں 10 بچوں سمیت 23 افراد جاں بحق ہوئے، گزشتہ ہفتے وادی سوات میں اچانک آنے والے سیلاب میں 14 افراد بہہ گئے تھے۔

ادارے نے پہلے ہی 5 سے 11 جولائی تک جاری موسم برسات کے نئے سلسلے کے باعث اچانک سیلاب، شہری علاقوں میں پانی بھرنے اور پہاڑی تودے گرنے کے خطرے سے متعلق ضلعی انتظامیہ کو خبردار کر دیا تھا۔

محکمہ موسمیات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ خطے کے بیشتر حصوں میں مرطوب ہوائیں داخل ہو رہی ہیں جو آئندہ چند روز میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔

ادارے نے کہا ہے کہ مردان، نوشہرہ، پشاور، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خطرہ ہے، جب کہ چترال، سوات، پنجکوڑہ اور کابل دریا میں دریائی سیلاب کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی نالوں کی نگرانی جاری رکھیں، نکاسی آب کے راستوں کو رکاوٹوں سے پاک رکھیں تاکہ پانی کے بہاؤ میں خلل نہ آئے اور شہری سیلاب کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل میں فوجی بغاوت بڑھتی ہوئی، وجہ؟

?️ 9 اگست 2023سچ خبریں:مقبوضہ فلسطین کے اخبار Ha’aretz نے اپنی ایک رپورٹ میں اس

تل ابیب میں "کریا” بیس پر اسرائیلی رژیم کے ایک فوجی کی خودکشی

?️ 20 مئی 2026سچ خبریں: منگل کی شام تل ابیب میں واقع "کریا” فوجی ہیڈکوارٹر

مغربی کنارے میں ایک اور جنین

?️ 5 اگست 2023سچ خبریں: مغربی کنارے کے شمال میں واقع بلاطہ کیمپ بتدریج مزاحمتی

حزب اللہ کے خوف سے تل ابیب گیس نکالنا بند کردے گا : صہیونی میڈیا

?️ 20 ستمبر 2022سچ خبریں:     اسرائیلی میڈیا نے کل پیر کو اعلان کیا کہ

امریکہ جنوبی لبنان میں اپنی فوج تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے: واشنگٹن پوسٹ

?️ 1 جولائی 2026سچ خبریں:امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ جنوبی لبنان

فلسطینیوں نے اسرائیل کو کہاں لا کھڑا کیا ہے؟صیہونی میڈیا کی زبانی

?️ 1 جنوری 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا کہ تل

ٹرمپ قومی سلامتی اور امریکی فوج کے لیے خطرہ ہیں: امریکی کانگریس کے نمائندے

?️ 10 مئی 2026 سچ خبریں:امریکی کانگریس کے نمائندے سیٹ مولٹن نے ایک ویڈیو پیغام

یوکرین کی روس کو پیرس اولمپکس سے باہر کرنے کی درخواست

?️ 31 جنوری 2023سچ خبریں:یوکرین کے صدر نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کو ایک خط

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے