حکومت، عمران خان سے منسوب مضمون کے متعلق برطانوی اشاعتی ادارے کو خط لکھے گی

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ حکومت، پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے منسوب مضمون کے سلسلے میں برطانوی اشاعتی ادارے ’دی اکانومسٹ‘ کے ایڈیٹر کو خط لکھے گی۔

عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 5 اگست کو مجرم قرار دیتے ہوئے تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ 28 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کر دی تھی۔ تاہم، ان کے خلاف درج دیگر مقدمات کے باعث وہ جیل میں ہیں۔

جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ میں دعوت پر لکھے گئے مضمون سے عندیہ ملتا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو شدید شکوک و شبہات ہیں کہ آیا آئندہ انتخابات ہوں گے یا نہیں۔

مضمون میں عمران خان نے ان الزامات کو دہرایا ہے کہ کس طرح امریکی حکومت کے دباؤ کے بعد ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد حکومت تبدیل ہوئی، انہوں نے 9 مئی کے فسادات کو ’جھوٹا پروپیگنڈا‘ قرار دیا۔

آرٹیکل کے اختتام پر ایڈیٹر کی جانب سے ایک نوٹ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان اور امریکی محکمہ خارجہ نے امریکی مداخلت کے الزامات کی تردید کی، اور حکومت عمران خان کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چلا رہی ہے۔

اگرچہ پارٹی کے اندر ذرائع اس بات پر تبصرہ کرنے میں ہچکچا رہے ہیں کہ تحریر کو جیل کے اندر سے کس طرح شائع کیا گیا، انہوں نے اصرار کیا کہ یہ الفاظ واقعی عمران خان کے ہیں۔

کچھ مبصرین نے شکوک کا اظہار کیا کہ آیا یہ مضمون واقعی عمران خان کا ہے، لیکن بہت سے لوگوں نے نوٹ کیا کہ مضمون کا لہجہ اور مواد ان کے خیالات سے مطابقت رکھتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر پوسٹ میں نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ’ہم دی اکانومسٹ کے ایڈیٹر کو ایک مضمون کے بارے میں لکھ رہے ہیں جو مبینہ طور پر عمران خان نے لکھا تھا۔‘

سابق صحافی مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ’یہ حیران کن اور پریشان کن ہے کہ اس طرح کے ایک معزز میڈیا آؤٹ لیٹ نے ایک ایسے فرد کے نام سے مضمون شائع کیا جو جیل میں ہے اور اسے سزا سنائی گئی ہے۔‘

انہوں نے لکھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اخلاقی معیارات کو برقرار رکھنا اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جاننا چاہیں گے کہ ادارتی فیصلہ کیسے کیا گیا، اور دی اکانومسٹ کی طرف سے مواد کی قانونی حیثیت اور اعتبار کے حوالے سے کن باتوں کو مدنظر رکھا گیا۔‘

مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ’ہمیں یہ جاننے میں بھی دلچسپی ہو گی کہ کیا دی اکانومسٹ نے کبھی دنیا کے کسی دوسرے حصے سے جیل میں قید سیاستدانوں کے ایسے گھوسٹ مضامین شائع کیے ہیں۔ اگر جیل میں قید مجرم میڈیا کو لکھنے کے لیے آزاد ہوتے، تو وہ اپنی یک طرفہ شکایات کو نشر کرنے کے لیے ہمیشہ موقع کا استعمال کرتے۔‘

مشہور خبریں۔

ٹرمپ کی پابندیوں کی پالیسی کی کامیابی کے بارے میں شکوک و شبہات

?️ 30 جولائی 2025سچ خبریں: جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ روس

ہم بھی خطرے کی زد میں ہیں، صیہونی حملے برداشت نہیں کریں گے:ترکی کے صدر

?️ 10 جون 2026سچ خبریں:ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ اسرائیل

قابض صیہونی منتیں کرنے پر مجبور

?️ 13 مئی 2023سچ خبریں:غزہ کی پٹی پر وحشیانہ حملوں کا آغاز کرنے والی صیہونی

19 مئی کو میر علی میں مبینہ ڈرون حملے میں بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج ملوث نکلے

?️ 21 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس

اسرائیل کو بھیNPT میں شامل ہونا چاہیے:ایران

?️ 7 اپریل 2022سچ خبریںاقوام متحدہ میں ایران کی نائب مندوب نے عالمی برادری سے

معرکہ حق: عالمی میڈیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کا گرویدہ

?️ 1 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) بین الاقوامی میڈیا نے بھی فیلڈ مارشل سید

غزہ کی جنگ میں ہم شکست کھا چکے ہیں: اسرائیلی جنرل کا اعتراف

?️ 20 اکتوبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ جنرل اسحاق بریک نے تسلیم کیا

جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی کوئی پالیسی نہیں، مشیر نیشنل کمانڈ اتھارٹی

?️ 30 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے