حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کو حقیقت پسندانہ بنانے پر کام شروع کردیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف کی ہدایات کی روشنی میں حکومت نے باضابطہ طور پر پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کو حقیقت پسندانہ بنانا شروع کر دیا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار فنڈز کی دستیابی کا اہتمام کیا جا سکے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت وزیراعظم کی تشکیل کردہ خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں حکومتی پالیسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ کم سے کم ضروریات پر مبنی منصوبے تیار کیے جائیں گے تاکہ فنڈز کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے، اس کے علاوہ تمام منصوبوں کو موجودہ مالی مشکلات کے پیش نظر مضبوط اقتصادی اور مالی جواز فراہم کرنے اور مالی بوجھ کو کم اور عملی عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام کی تشکیل پر بھی زور دیا گیا۔

گزشتہ ماہ 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف نے جنوری 2025 کے لیے ایک اسٹرکچرل بینچ مارک مقرر کیا تھا، جس کے تحت حکومت پاکستان کو ’منصوبے کے انتخاب کے لیے ’کرائی ٹیریا شائع کرنے کی ضرورت ہے، جس میں پروجیکٹ حجم کی سالانہ حد بھی شامل ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے کمیٹی اراکین پر زور دیا کہ کم سے کم ضروریات پر مبنی منصوبے تیار کریں تاکہ فنڈز کی بروقت تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ڈی پی کے تمام منصوبے، بشمول غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبے، مقررہ مدت کے اندر مکمل ہونے چاہئیں اور ان کی واضح ملکیت ہونی چاہیے تاکہ لاگت اور وقت کے ضیاع سے بچا جاسکے۔

احسن اقبال نے زور دیا کہ غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبوں سے وابستہ اقتصادی اور مالی خطرات کی مؤثر مینجمنٹ کی جائے، کیونکہ شرح تبادلہ میں اتار چڑھائو قرضوں کی واپسی پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور حکومتی مالیات پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔

آئی ایم ایف نے حکومت کو ہدایت کی ہےکہ وہ بجٹ کے نظم و ضبط کو مضبوط بنانے، شفافیت بڑھانے اور پی ایس ڈی پی کی منتظمیت کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اصلاحات کرے۔

عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط کے مطابق بجٹ کے عمل کو بہتر بنانے کے کلیدی اقدامات میں سہ ماہی رپورٹس تیار اور شائع کرنا شامل ہے، جس میں بجٹ کے تخمینوں کا اصل عمل درآمد سے موازنہ کیا جاتا ہے۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ مالی وسائل کی قلت اور ترقیاتی منصوبوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے چیلنجز کو موجودہ مالی سال میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید بتایا گیا کہ مختلف وزارتوں نے 2 ہزار 900 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا مطالبہ کیا تھا جبکہ منظور شدہ ترقیاتی بجٹ گیارہ سو ارب روپے کا ہے، جس میں 220 ارب روپے کا غیر ملکی فنڈز بطور روپے کی سہولت شامل ہے، مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے زیر التوا منصوبوں میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے جس کے ساتھ ساتھ انتظامی اور عملدرآمد کے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔

اجلاس میں سیکریٹری منصوبہ بندی اویس منظور سمرا، سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن، ممبر انفراسٹرکچر وقاص انور اور وزارت منصوبہ بندی کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی جبکہ وفاقی وزیر برائے احد چیمہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

مشہور خبریں۔

بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات جاری ہیں، اویس لغاری

?️ 10 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے

اسرائیل غزہ کی دلدل سے فرار

?️ 11 جون 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت صدام حکومت کے خاتمے کے بعد اس ملک پر

آبنائے ہرمز کے بحران سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟ ایران جنگ کے بعد عالمی توانائی کا نیا نقشہ

?️ 20 مئی 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش اور

ایران کے ساتھ معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ کانگریس نہیں بلکہ اسرائیل ہے: ٹکر کارلسن

?️ 21 جون 2026سچ خبریں:  معروف امریکی ٹیلی ویژن میزبان اور تجزیہ کار ٹکر کارلسن

اقوام متحدہ کی یورپ سے افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری روکنے کی اپیل

?️ 23 مئی 2026سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے یورپی ممالک

صیہونی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ

?️ 6 مارچ 2025 سچ خبریں:فلسطینی قیدیوں کے نگراں کلب کے مطابق، صیہونی حکومت کی

سعودی عرب میں ترک اسکولوں کا دوبارہ آغاز

?️ 4 اگست 2022سچ خبریں:حالیہ مہینوں میں ریاض اور انقرہ کے اعلیٰ حکام کی ملاقاتوں

پاسپورٹ کی روزانہ 50 ہزار درخواستیں اور پروڈکشن 22 ہزار ہونے سے تاخیر کا مسئلہ ہے: وزارت داخلہ

?️ 5 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارت داخلہ کا کہنا ہےکہ بڑی تعداد میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے