آئینی ترمیم پر اتفا ق رائے کی کوشش، وزیراعظم شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) مجوزہ26ویں آئینی ترمیم پر اتفاق رائے اور قومی اسمبلی و سینیٹ سے منظور کرانے کی حکمت عملی طے کرنے وزیراعظم شہباز شریف بغیر پروٹوکول مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچ گئے، ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی ان کے ہمراہ تھے۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری پہلے سے ہی مولانا کی رہائشگاہ پر موجود تھے۔

ملاقات میں آئینی ترامیم پر تبادلہ خیال کیا گیا لیکن تاحال آئینی ترمیم پر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے آئینی ترمیم سے متعلق مولانا فضل الرحمان کو بریف کیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے جے یو آئی اراکین اسمبلی کو ہراساں کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

مولانافضل الرحمان نے وزیراعظم اور بلاول بھٹو سے شکوہ کیا کہ ایک جانب آئینی ترمیم پر انہیں راضی کرنے کی کوشش جاری ہے دوسری جانب انہی کے ارکان پارلیمنٹ کو غائب کیا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت بات چیت کی فضا برقرار رکھنے کیلئے اعتماد کی فضا پیدا کرنا ہوگی، حکومت جے یو آئی کی جانب سے دیئے گئے مسودے کو ترجیح دے۔ اپوزیشن جماعتیں آئینی ترامیم کے معاملے پر متفقہ لائحہ عمل اپنانے پر غور کر رہی ہیں۔ حکومت اپوزیشن ارکان کو آفرز دینے اور دباو¿ میں لانے کا عمل ترک کرے۔ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو میڈیا سے بات چیت کئے بغیر مولانا فضل الرحمان کے گھر سے روانہ ہوئے، بلاول بھٹو نے جاتے ہوئے گاڑی سے وکٹری کا نشان بنایا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ مجوزہ آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت کا پہلا مسودہ مسترد کیا تھا اوراسے آج بھی مسترد کرتے ہیں۔ اس معاملے پر تین ہفتوں سے بحث اور مشاورت کا عمل جاری ہے۔ ہمارے اراکین پر دباو¿ ڈالا جارہا ہے اور انہیں خریدنے کی بھی کوشش کی جارہی تھی۔بدمعاشی ہوگی تو ہم بھی اپنا رویہ تبدیل کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ دو دن قبل بلاول بھٹوکیساتھ بیٹھ کر اس پر طویل بحث کی تھی۔ پھر گزشتہ روز چار گھنٹوں تک نواز شریف سے بھی اس پر طویل بات ہوئی تھی جن چیزوں پر اتفاق ہوا اس کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ باقی متنازع چیزوں پر بات چیت جاری تھی۔پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھاکہ مجوزہ آئینی ترمیم کے معاملے پر بحث اور مشاورت کا عمل جاری تھا اس معاملے پر ہم حکومت کے ساتھ مذاکرات کئے اور نمائندوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا تھاکہ تحریک انصاف اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ آئینی ترمیم کے معاملے پر پی ٹی آئی کا رویہ مثبت ہے اور وہ ہر مثبت چیز کو خوش آمدید کہہ رہی ہے اور اس معاملے پر مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا تھاکہ آئینی ترمیم کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بار کونسلز اور پاکستان بار کونسل کی نمائندگی بھی ہونی چاہیے۔

مشہور خبریں۔

پرویز الہٰی کی ڈی نوٹیفائی کرنے کےخلاف درخواست پر بننے والا لارجر بینچ ٹوٹ گیا

?️ 23 دسمبر 2022 لاہور:(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر کی سماعت

ن لیگ کے پاس مریم کی میں میں اور منافق مولانا کے علاوہ کچھ نہیں بچا: شہباز گل

?️ 27 مارچ 2021اسلام آباد( سچ خبریں)وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط

اسرائیلی دہشت گردی پر عالمی ردعمل، بیلجیم کے وزیر نے اسرائیل پر شدید پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کردیا

?️ 12 مئی 2021بیلجیم (سچ خبریں) فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگی

سعودی عرب نے اسرائیل کو بحیرہ احمر تک کی اجازت دی

?️ 13 نومبر 2021سچ خبریں:  بحیرہ احمر امریکی بحریہ اور صیہونی حکومت اور نئے نارملائزرز

روس کا آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف امریکی قرارداد کے خلاف انتباہ 

?️ 19 نومبر 2025سچ خبریں: روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ غزہ پٹی کے حوالے

جہاد اسلامی کے ایک اور کمانڈر شہید

?️ 14 مئی 2023سچ خبریں:صہیونی فوج نے اعلان کیا کہ شاباک فورسز کے ساتھ مشترکہ

سعودی اتحاد کے ذریعہ 252 مرتبہ الحدیدہ جنگ بندی کی خلاف ورزی

?️ 24 اگست 2021سچ خبریں:تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے

تھائی لینڈ ہنی مون پر جاتے وقت بیٹے کو مشورہ دیا کہ بیوی کو کلب لے جانا، اسما عباس

?️ 4 اکتوبر 2025کراچی: (سچ خبریں) سینئر اداکار اسما عباس نے انکشاف کیا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے