وی پی این کا استعمال ’غیراسلامی قرار‘ دینے پر اسلامی نظریاتی کونسل کو تنقید کا سامنا

?️

سچ خبریں: ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی شخصیات اور مذہبی اسکالرز نے اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی اینز) کے استعمال کو غیر اسلامی قرار دینے کے حکم نامے پر سوال اٹھایا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعے کو اپنے ایک ایسے بیان میں جس کی مثال نہیں ملتی، اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ غیر اخلاقی یا غیر قانونی مواد تک رسائی کے لیے وی پی این کا استعمال خلاف شریعت ہے، اسلامی نظریاتی کونسل پارلیمنٹ کو اسلامی تعلیمات کے مطابق قانون سازی کا مشورہ دیتی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک رکن نے میڈیا کو بتایا کہ یہ بیان کونسل کا فیصلہ نہیں، ڈاکٹر راغب نعیمی کے ذاتی خیالات تھے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے غیر اخلاقی مواد دیکھنے کو مذہبی مسئلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے بیان کے باوجود تقریباً تمام وفاقی اور صوبائی حکام، محکمے وی پی این کے ذریعے اپنے ایکس اکاؤنٹس چلا رہے ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس اور وزارت مذہبی امور، آئی ٹی اور ٹیلی کام، خارجہ امور اور اطلاعات سمیت وفاقی حکومت کے اہم محکمے معمول کے مطابق ایکس پر پوسٹ کر رہے ہیں۔

ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں ممتاز مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے کہا کہ اگر ’ایڈلٹ‘ مواد یا گستاخانہ مواد دیکھنا کوئی مسئلہ ہے تو پھر وی پی این پر غیر اسلامی ہونے کا لیبل لگانے سے پہلے موبائل فون کو غیر اسلامی قرار دینا چاہیے۔

ٹیلی کام کمپنی نیاٹیل کے سی ای او وہاج سراج نے کہا کہ ٹیکنالوجی ہمیشہ غیر جانبدار رہی ہے اور صرف اس کا صحیح یا غلط استعمال اسے ’حلال یا حرام‘ بناتا ہے۔

حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے کہا کہ یہ حکمنامہ آزادی اظہار کو روکنے کے لیے ریاستی بیانیے کے عزم کو دہرانے کی کوشش کا عکاس ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد نے کہا کہ وی پی این کو بلاک کرنے کی کارروائی آئین میں دیے گئے رازداری کے حقوق سے متصادم ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام صرف سوشل میڈیا صارفین کو نشانہ بنانے کے لیے ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام کی سربراہ سینیٹر پلوشہ خان نے کمیٹی کا اجلاس 18 نومبر کو طلب کرلیا۔

میٹنگ میں ان پابندیوں پر غور کیا جائے گا جنہیں ٹیلی کام ریگولیٹر نے پاکستان میں وی پی این کے غیر قانونی استعمال کا نام دیا ہے۔

پلوشہ خان نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) صارفین کے دیکھے گئے مواد کی نگرانی کرے گی۔

مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سربراہ سینیٹر علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک پر ایک ایسی’نااہل اور کرپٹ اشرافیہ’ کی حکومت ہے جو عوام کی حقیقی نمائندہ بھی نہیں ہے۔

سینیٹر راجا ناصر عباس نے مزید کہا کہ وہ اسی طرح سے قانون بناتے ہیں اور اپنی خواہش کے مطابق حکمنامے استعمال کر رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

چینی کورونا ویکسین کے حوالے سے محققین کیا کہتے ہیں؟

?️ 28 مئی 2021بیجنگ (سچ خبریں)عالمی وبا کورونا وائرس کے خلاف چینی دوا ساز کمپنی

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ کا اسرائیل پر فوری اسلحہ پابندی اور تجارتی بائیکاٹ کا مطالبہ

?️ 25 جولائی 2026سچ خبریں:اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزے نے مغربی کنارے میں

بلوچستان اسمبلی کا مردم شماری کے نتائج آنے تک عام انتخابات مؤخر کرنے پر زور سلیم شاہداپ ڈیٹ 24 فروری 2023 0

?️ 24 فروری 2023بلوچستان:(سچ خبریں) بلوچستان اسمبلی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے کہا ہے

کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ سیاسی ہے؟خواجہ آصف کی زبانی

?️ 13 جولائی 2024سچ خبریں: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو

لبنانی انتخابات  میں41 فیصد شرکت

?️ 16 مئی 2022سچ خبریں: لبنانی پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ کے باضابطہ اختتام کے بعد،

جرمن چانسلر کا غزہ جنگ کے فریقین سے مطالبہ

?️ 14 جون 2024سچ خبریں: جرمن چانسلر نے غزہ جنگ کے فریقین سے امریکی پیش

وزیراعظم کا کرغزستان میں پاکستانی سفیر سے رابطہ، خصوصی طیارے سے متعلق انتظامات کرنے کی ہدایت

?️ 19 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان میں پاکستانی سفیر

استقامت ہمارا اختیار ہے اور ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: حزب اللہ

?️ 31 جولائی 2022سچ خبریں:    لبنانی تحریک حزب اللہ کی انتظامی کونسل کے سربراہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے