?️
سچ خبریں: روسی صدر کے خارجہ امور کے معاون نے کہا ہے کہ امریکہ اور (اسرائیلی حکومت) کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد بھی ایران اور امریکہ کے درمیان اصل معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک مشکل مرحلہ باقی ہے۔
یوری اوشاکوف نے جمعرات کے روز کازان میں روس–آسیان سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ایران اور امریکہ کے مذاکرات میں سب سے اہم اور فیصلہ کن مرحلہ دوسرا ہے، یعنی اصل معاہدے پر بات چیت، جس میں سب سے پیچیدہ اور اہم مسائل زیرِ بحث آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی رائے میں ممکن ہے کہ اس مرحلے میں امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور سابق مشیر و داماد جیرڈ کشنر بھی شریک ہوں۔
اوشاکوف نے ایران اور امریکہ کے صدور کی جانب سے غیر مستقیم اور ڈیجیٹل دستخط کے ذریعے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نے اپنا کام مؤثر اور مناسب طریقے سے انجام دیا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی حمایت
اس سے قبل روسی وزارتِ خارجہ نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ فریقین کو اس کی مکمل پابندی کرنی چاہیے اور خاص طور پر لبنان میں دوبارہ جنگ بھڑکنے سے روکنا ضروری ہے۔
یورپی یونین کی ممکنہ نئی پابندیاں
تاس نے ایک نامعلوم مغربی سفارتی ذریعے کے حوالے سے لکھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ یورپی یونین کی جانب سے روس پر نئی پابندیوں کے امکان کو بڑھا سکتا ہے۔
اس ذریعے کے مطابق، چونکہ اس معاہدے سے عالمی تیل منڈی میں خطرات کم ہوں گے، اس لیے یورپی ممالک روس کے خلاف مزید سخت اقدامات کرنے میں آسانی محسوس کر سکتے ہیں۔
اس نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اب بھی ایک اہم عنصر ہے۔
اس کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں اضطراب کم ہوگا، یورپی ممالک کو توانائی کے استحکام پر زیادہ اعتماد ہوگا اور اس کے نتیجے میں روس پر پابندیاں بڑھ سکتی ہیں۔
اسرائیل معاہدوں میں رکاوٹ ڈالنے والا مرکزی عنصر
روس کے سابق سفیر برائے ایران الیگزینڈر ماریاسوف نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کو سبوتاژ کرنے والا بنیادی فریق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل خاص طور پر لبنان کے مسئلے میں اس معاہدے کی پابندی نہیں کرے گا اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، حتیٰ کہ لبنان پر بمباری بھی ممکن ہے۔
ان کے مطابق، ٹرمپ کی یقین دہانیوں کے باوجود صورتحال میں بنیادی تبدیلی کا امکان کم ہے، اور ممکن ہے کہ انہیں اسرائیلی قیادت پر سخت موقف اپنانا پڑے۔
سابق سفیر نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ فوری طور پر مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکے گا، خاص طور پر جوہری مسئلے پر اختلافات کی وجہ سے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریق جوہری پروگرام، میزائل نظام، علاقائی اتحادی گروہوں کے ساتھ تعلقات، پابندیوں اور اثاثوں کی بحالی جیسے معاملات پر اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہیں گے، اس لیے یہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوگا۔ ممکن ہے کہ اس دوران غیر متوقع واقعات جیسے فوجی حملے یا جوابی کارروائیاں بھی سامنے آ جائیں۔


مشہور خبریں۔
روس نے میزائل حملے میں مغربی ہتھیاروں کے ایک ڈپو کو تباہ کیا
?️ 27 اپریل 2022روس کی وزارت دفاع نے آج بدھ کو اعلان کیا کہ اس
اپریل
مسلمانوں کے قتل عام کے وقت اسرائیل میں اسلامی ممالک کے سفیر کیا کرتے ہیں؟
?️ 2 نومبر 2023سچ خبریں:غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے جرائم میں آٹھ ہزار سے
نومبر
برطانیہ پر اسرائیل کے جنگی جرائم میں حصہ لینے کا الزام
?️ 21 دسمبر 2023سچ خبریں:انسانی حقوق کی تنظیمیں یروشلم پر قابضین کو ہتھیاروں کی مسلسل
دسمبر
حماس کو آج صبح وہ مل گیا جو وہ چاہتا تھا
?️ 27 جنوری 2025سچ خبریں: شمالی غزہ کی پٹی میں فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی
جنوری
حماس نے عالمی برادری سے صیہونی جارحیت کو روکنے کا مطالبہ کیا
?️ 28 جون 2022سچ خبریں: تحریک حماس نے مشرقی یروشلم کے عبوری صیہونی حکومت کے
جون
شام کے واقعات امریکی اور صہیونی سازشوں کا نتیجہ
?️ 11 دسمبر 2024سچ خبریں: ایران کے سپریم لیڈر امام خامنہ ای سے آج 21
دسمبر
شہید یحیی سنوار کا وہ وعدہ جو ان کی شہادت کے بعد پورا ہوا
?️ 21 فروری 2025 سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے اعتراف کیا کہ شہید یحیی سنوار کا
فروری
عمران خان کا صدر مملکت کو خط،آئی ایس پی آر کے کام کے دائرہ کار کا تعین کریں
?️ 7 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے
نومبر