?️
ٹرمپ اور قطر کے تعلقات کی قیمت کتنی ہے؟
اسرائیلی روزنامہ ہا آرتص (Haaretz) نے ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان نے قطر اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو صرف سیاسی نہیں بلکہ مالی فائدے کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران اور اس کے بعد اپنے ذاتی کاروبار کو غیر معمولی حد تک وسعت دی ہے، اور اب ان کے "اہم شراکت دار” اسرائیل کے بجائے قطر، سعودی عرب، دبئی اور انڈونیشیا بن چکے ہیں۔
ہا آرتص لکھتا ہے کہ ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ جونیئر اور اریک ٹرمپ اپنے والد کی صدارت کے دوران دنیا بھر میں متعدد تجارتی معاہدے کر چکے ہیں، اگرچہ خود ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں ان معاہدوں سے کوئی تعلق نہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اریک ٹرمپ نے جنوری سے اب تک بے شمار نئے معاہدے کیے ہیں، جن میں انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر میں ٹرمپ برانڈ کے تحت ہوٹل، گالف کورسز اور جائیداد کے منصوبے شامل ہیں۔
نیویارکر کے صحافی "ڈیوڈ کرکپیٹرک” کے مطابق، ٹرمپ خاندان نے صرف جنوری سے اگست تک تقریباً 3.4 ارب ڈالر کا منافع کمایا۔
ہا آرتص لکھتا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں قطر کو "دہشت گردی کا حامی” قرار دیا تھا، لیکن آج یہی ملک ان کے اہم ترین کاروباری شراکت داروں میں شامل ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے دوران قطر نے ان کے لیے ایک طلائی رنگ کا بوئنگ طیارہ بطور تحفہ پیش کیا — جو فلوریڈا کے مشہور "مار-اے-لاگو” ریزورٹ میں امیر قطر کے دورے کے دوران دیا گیا۔
اس کے علاوہ، اریک ٹرمپ نے دوحہ میں ایک سرکاری قطری کمپنی کے ساتھ ایک گالف کلب کی تعمیر کے لیے معاہدہ بھی کیا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا:
ہمیں فخر ہے کہ ہم قطر میں ٹرمپ برانڈ کو وسعت دے رہے ہیں۔”رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ آرگنائزیشن اس وقت ریاض، جدہ، دبئی اور دوحہ میں جائیداد کے کئی نئے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔مزید یہ کہ سعودی عرب نے جیرڈ کوشنر (ٹرمپ کے داماد) کے سرمایہ کاری فنڈ میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی حکمرانوں نے سیاسی قربت حاصل کرنے کے لیے ٹرمپ خاندان کو مالی طور پر نوازا۔ قطر نے بھی اسی حکمتِ عملی کے تحت نہ صرف تجارتی معاہدے کیے بلکہ ٹرمپ کے قریبی معاونین کو بھی مالی فوائد پہنچائے۔
مثلاً، پم بونڈی (سابق امریکی اٹارنی جنرل) نے قطر کے لیے بطور مشیر ماہانہ ایک لاکھ ڈالر معاوضہ لیا، جب کہ موجودہ ایف بی آئی سربراہ کَش پٹیل نے بھی قطر میں بطور کنسلٹنٹ خدمات انجام دی تھیں۔
ہا آرتص کے مطابق، ٹرمپ نے اب اسرائیل کو اپنی "خصوصی ترجیح” سے باہر نکال دیا ہے۔ ان کے لیے اب مالی مفادات، طاقت اور ذاتی اثر و رسوخ اہم ہیں، نہ کہ نظریاتی وابستگی یا مشترکہ اقدار۔
رپورٹ میں لکھا گیا ہے:”ٹرمپ کے نزدیک اب دنیا صرف مفاد، پیسے اور طاقت کی بنیاد پر تقسیم ہوتی ہے۔ اسرائیل اس وقت تک اس کا دوست ہے جب تک وہ اس کی اطاعت کرتا رہے۔”
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
پشاور ہائیکورٹ: آئینی ترمیم، پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کیخلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل
?️ 15 اکتوبر 2024پشاور: (سچ خبریں) پشاور ہائیکورٹ نے موجوزہ آئینی ترمیم اور پریکٹس اینڈ
اکتوبر
پاکستان نےمعاشی بحران سے نپٹنے کے لئے امارات کی طرف رجوع کیا
?️ 12 جنوری 2023سچ خبریں:شہباز شریف اعلیٰ سطح کے سیاسی و اقتصادی وفد کی سربراہی
جنوری
سپریم کورٹ نے مندر پر حملہ آوروں کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا
?️ 6 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار
اگست
کورونا وائرس سے مزید 61 مریض انتقال کر گئے
?️ 5 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کورونا وائرس کی وجہ سے ہر دن اموات اور
ستمبر
شہادت اور اسارت کو ورثہ میں پانے والا مجاہد
?️ 1 فروری 2025سچ خبریں:مزاحمت کا استعارہ بننے والے فلسیطنی مجاہد زکریا الزبیدی کی قید
فروری
چینی ہیکرز نے کئی معروف امریکی قانونی فرموں میں دراندازی کی: اف بی آئی کا الزام
?️ 8 اکتوبر 2025سچ خبریں: واشنگٹن میں واقع ایف بی آئی کے دفتر نے متعدد امریکی
اکتوبر
گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ کے نمائندے کے متضاد بیانات
?️ 24 دسمبر 2025گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ کے نمائندے کے متضاد بیانات امریکی
دسمبر
ایرانی جوہری معاملے اور ویانا مذاکرات کے سلسلہ میں سعودی وزیر خارجہ کا بیان
?️ 3 جنوری 2022سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ نے ایران کے جوہری معاملے اور ویانا مذاکرات
جنوری