وینزویلا کے خلاف ٹرمپ کی پیشگی منصوبہ بند جارحیت پر ردِعمل کیا ہونا چاہیے؟

وینزویلا

?️

وینزویلا کے خلاف ٹرمپ کی پیشگی منصوبہ بند جارحیت پر ردِعمل کیا ہونا چاہیے؟

وینزویلا کے صدر نیکولاس مادورو کے اغوا کا واقعہ اس ملک کی سیاسی بساط اور عالمی طاقت کے توازن کو گہرے طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ فرانسیسی تجزیہ کار برنارڈ کرنو کے مطابق، یہ اقدام بیرونی دباؤ کے خلاف قومی مزاحمت کو مزید مضبوط کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

بین الاقوامی امور کے اس ماہر نے ایرنا کے لیے اپنے تجزیاتی مضمون میں لکھا ہے:تیسری جنوری کی شب کاراکاس پر کیا جانے والا مہلک اور غیرقانونی حملہ، جس کے دوران صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کیا گیا، کم از کم چھ ماہ پہلے منصوبہ بندی کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔ اس کارروائی کا اعلان ایک فوجی سربراہ اور ایک خود پسند امریکی صدر کی جانب سے تکبر آمیز بیانات کے ساتھ کیا گیا۔

تاہم، وینزویلا کا آئین جو نوآبادیاتی نظام کے خلاف بولیوارین انقلاب کے بطن سے جنم لینے والے اس ملک کی اساس ہے نے فوری طور پر ریاستی نظام کے انہدام کو روک لیا۔ نائب صدر ڈیلسے رودریگز کو فوراً تین ماہ کے لیے عبوری طور پر اقتدار سونپ دیا گیا۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ تعمیری مکالمے پر زور برقرار رکھا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ دھمکی آمیز رویے پر قائم رہی۔

کاراکاس کی سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں نے یہ حقیقت اجاگر کی کہ متنازع اور بیرونی مداخلت سے متاثرہ انتخابات میں بھی مادورو نے تقریباً 30 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، جو کئی یورپی رہنماؤں کی ابتدائی انتخابی کامیابیوں سے زیادہ ہیں۔ جیسا کہ ایران، لبنان اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں دیکھا گیا ہے، کسی بیرونی طاقت کی جارحانہ اور مجرمانہ مداخلت اکثر عوام کو اپنی قومی شناخت اور تاریخی شعور کے گرد مزید متحد کر دیتی ہے۔

یورپ میں اگرچہ بیشتر حکمران حلقوں نے ایک ایسے صدر کے زبردستی خاتمے کا خیر مقدم کیا جسے وہ غیر قانونی قرار دیتے تھے، مگر انہوں نے وینزویلا کے پیداواری ڈھانچے کی تباہی، عوامی خدمات کی زبوں حالی، وسیع پیمانے پر غربت اور بڑے پیمانے کی ہجرت کی اصل وجوہات پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اسی طرح، امریکہ، یورپی یونین اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے عائد پابندیوں کے تباہ کن اثرات کو بھی نظر انداز کیا گیا۔

برطانیہ کے بینک میں وینزویلا کا سونا منجمد ہے، یورپی یونین میں اس کے اثاثے ضبط ہیں اور مالی و تجارتی لین دین تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی نمائندے کی ستمبر 2021 کی رپورٹ نے واضح طور پر ان پابندیوں کو عوامی فلاح اور وسائل کے منصفانہ استعمال میں رکاوٹ قرار دیا تھا۔ وینزویلا نے فروری 2020 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت میں ان پابندیوں کو “انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیتے ہوئے باضابطہ شکایت بھی درج کرائی۔

برنارڈ کرنو یاد دلاتے ہیں کہ بین الاقوامی انصاف اکثر سست اور طاقتور ممالک کے اثر میں رہتا ہے۔ انہوں نے فرانس کے سابق وزیر خارجہ کلود شیسان کے 1991 اور 1992 کے بیانات کا حوالہ دیا، جن میں کہا گیا تھا کہ کسی قوم کو محاصرے کے ذریعے گھونٹنا ایک ناقابلِ معافی جرم بن سکتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ وینزویلا، ایران اور عراق ان پانچ ممالک میں شامل تھے جنہوں نے 1960 میں اوپیک کی بنیاد رکھی تاکہ اینگلو سیکسن تیل کمپنیوں کی اجارہ داری کو چیلنج کیا جا سکے۔ وینزویلا کے پاس تقریباً 300 ارب بیرل تیل کے ذخائر ہیں، اگرچہ ان کا استخراج آسان نہیں۔ 1976 میں قومی تیل کمپنی PDVSA کے قیام کے ذریعے قومیانے کا عمل مکمل ہوا، مگر بعد کے برسوں میں انتظامی کمزوریوں اور پابندیوں نے اس شعبے کو شدید نقصان پہنچایا۔

مصنف کے مطابق، کاراکاس میں طاقت کے اس نئے استعمال اور بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی عدالتوں کی کھلی خلاف ورزی نے غیر مغربی ممالک کو مزید قریب لانے کا راستہ ہموار کیا ہے، جیسا کہ برکس، شنگھائی تعاون تنظیم اور عدمِ وابستہ تحریک۔ یہ فورمز کثیر قطبی عالمی نظام، پرامن تنازعات کے حل اور متوازن اقتصادی ترقی کے حامی ہیں۔

برنارڈ کرنو خبردار کرتے ہیں کہ اگر یورپ نے اس جارحیت کے خلاف سنجیدہ قانونی اور سیاسی ردِعمل نہ دکھایا تو نہ صرف عالمی قانون کی ساکھ مجروح ہوگی بلکہ خود یورپ کو بھی جغرافیائی، سیاسی اور اخلاقی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان کے بقول، استثنا ہمیشہ اگلی جنگ کے بیج بوتا ہے۔” لہٰذا یورپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کی کھل کر مذمت کرے، وینزویلا کو عالمی عدالت انصاف میں قانونی چارہ جوئی میں مدد دے، پابندیوں کے خاتمے اور جائز ہرجانے کے حصول کی حمایت کرے، تاکہ دنیا ایک نئے اور خطرناک انتشار سے بچ سکے۔

مشہور خبریں۔

سعودی عرب کا نیا منصوبہ مسجد الحرام کی گنجائش میں مزید 900,000 افراد کو شامل کرنے کا ہے

?️ 16 اکتوبر 2025سچ خبریں: سعودی میڈیا نے مسجد الحرام کے ارد گرد کے علاقے

ہم شام کو اسرائیل پر حملہ کرنے کی جگہ نہیں بننے دیں گے: جولانی

?️ 17 دسمبر 2024سچ خبریں: ابو محمد الجولانی نے برطانوی ٹائمز اور دیگر میڈیا سے گفتگو

فلسطینی قیدیوں کے خلاف سعودی عدلیہ کے فیصلےپر حماس کا رد عمل

?️ 9 اگست 2021سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نےسعودی عرب میں زیر حراست

صہیونی فوج میں کشیدگی؛ غزہ کی جنگ سے لے کر بیرکوں میں خودکشی تک

?️ 14 جولائی 2025سچ خبریں: حکومت کی فوج کی ہلاکتوں کی رپورٹوں میں بتایا گیا

پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول ایگریمنٹ تک پہنچنے میں ناکام‘1اعشاریہ25ارب ڈالر قسط تاخیرکا شکار

?️ 9 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان اسٹاف لیول

قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی بل پاس کروایا

?️ 14 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ میں جاری قومی اسمبلی

ایران جنگ محض دیوانگی: امریکی رکن کانگریس

?️ 25 اپریل 2026سچ خبریں:امریکی رکن کانگریس جیسن کرو نے ایران کے خلاف جنگ کو

مسجد اقصیٰ میں اعتکاف ہر مسلمان کا حق ہے:مسجد اقصی کے خطیب

?️ 29 مئی 2022سچ خبریں:مسجد اقصی کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے فلسطینیوں کو مسجد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے