واشنگٹن کی پشت پناہی سے تل ابیب کی غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی، ٹرمپ اسرائیل کا واحد حامی

واشنگٹن

?️

واشنگٹن کی پشت پناہی سے تل ابیب کی غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی، ٹرمپ اسرائیل کا واحد حامی
صہیونی امور کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزیاں واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان گہری ہم آہنگی کی عکاس ہیں اور موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے واحد اور مضبوط حامی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
خبر رساں ادارے شہاب کے مطابق عمر جعارہ نے کہا کہ اسرائیل کا جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کا ارادہ بالکل واضح ہے، خصوصاً جنگی طیاروں کے استعمال اور عام شہریوں اور ان کے خیموں پر بمباری کے ذریعے، جو معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اسرائیلی پالیسیوں کی عملی طور پر حمایت کر رہا ہے۔
جعارہ نے کہا کہ بظاہر ٹرمپ انتظامیہ ایسی پالیسیاں اپنانے پر مصر ہے جو 1956 میں امریکی صدر ڈیوڈ آئزن ہاور کے دور سے مشابہت رکھتی ہیں، جب انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریون کو غزہ اور جزیرہ نما سینا سے بلا شرط انخلا کا حکم دیا تھا، تاہم موجودہ حالات میں امریکہ اسرائیل کے حق میں ڈھال بنا ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو غزہ میں بنائی گئی نشانیوں سے ہٹ کر پتھروں کو سیاہ رنگ کر رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے سنجیدہ نہیں۔
اس ماہر کے مطابق ٹرمپ اسرائیل کے لیے امریکہ کی جانب سے مرکزی حفاظتی چھتری کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسرائیلی پالیسیوں پر کسی بھی قسم کی تنقید یا رکاوٹ واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے میامی میں قطر، مصر اور ترکی کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی جس میں غزہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے اگلے مرحلے پر بات چیت کی گئی۔ یہ ملاقات جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکہ میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ثالثی کوششوں میں نمایاں سمجھی جا رہی ہے۔
معاہدے کے مطابق اسرائیل کو رفح کراسنگ دونوں اطراف سے کھولنا، دوسرے مرحلے میں داخل ہونا، فوجی انخلا، بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اور غزہ میں فلسطینی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہوگی۔ اس کے مقابل حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ نئے حکومتی ڈھانچے اور جنگ بندی کے استحکام کے لیے تعاون کے لیے تیار ہے۔
ثالثین اس معاہدے کو تعطل سے نکالنے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں جبکہ حماس مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر قائم ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی اسرائیل کی جانب سے کی جا رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

بینظیر بھٹو نے جمہوریت، عوامی حقوق اور پاکستان کیلئے بے مثال جدوجہد کی۔ وزیراعظم

?️ 27 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ

عین الاسد میں امریکیوں کی مشکوک نقل و حرکت

?️ 26 ستمبر 2024سچ خبریں: عراقی ذرائع ابلاغ نے اس ملک میں امریکی مشکوک نقل

برطانوی وزیراعظم پر پولیس نے جرمانہ لگایا

?️ 21 جنوری 2023سچ خبریں:برطانوی پولیس نے اعلان کیا کہ انہوں نے اس ملک کے

جے یو آئی (ف) کا بلوچستان حکومت میں شمولیت کا حتمی فیصلہ تاخیر کا شکار

?️ 3 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچی خبریں) بلوچستان حکومت میں شمولیت کی دعوت ملنے کے باوجود

پی ٹی آئی کے لیے نقصان دہ لوگوں کے ساتھ کیا کیا گیا؟ حامد خان کی زبانی

?️ 29 جولائی 2024سچ خبریں: پی ٹی آئی کے رہنما حامد خان نے کہا ہے

یہودی آبادکاروں کی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی، اردن نے شدید مذمت کردی

?️ 24 اپریل 2021اردن (سچ خبریں)  یہودی آبادکاروں کی جانب سے اسرائیلی شہریوں پر حملوں

اسماعیل ہنیہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کے فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کردیا

?️ 1 مئی 2021غزہ (سچ خبریں) فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے

شام میں اسرائیل اور دہشت گردوں کے درمیان تعاون کی نئی جہتوں کا انکشاف

?️ 2 دسمبر 2024سچ خبریں: شمالی شام میں دہشت گردانہ حملوں کے آغاز کے بعد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے