?️
نتن یاہو کے دورۂ واشنگٹن کے اصل اہداف کیا ہیں؟
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے متوقع دورۂ واشنگٹن کو خطے کی آئندہ صورتِ حال، بالخصوص غزہ کے مستقبل سے جوڑا جا رہا ہے۔ مصری تحقیقی ادارے الاهرام کے ایک سیاسی تجزیہ کار کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کا پہلا مرحلہ نافذ ہو چکا ہے، مگر اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی بار بار خلاف ورزیاں اور اگلے مراحل میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔
الاهرام سینٹر کے محقق بہاء محمود کا کہنا ہے کہ نتن یاہو کا یہ دورہ بنیادی طور پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان آئندہ مرحلے کی حکمتِ عملی پر ہم آہنگی کے لیے ہوگا، جس میں سب سے اہم موضوع غزہ سے متعلق فیصلے ہیں۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آیا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نتن یاہو پر جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کے لیے دباؤ ڈالیں گے یا پھر انہیں مزید اقدامات کے لیے کھلی اجازت دی جائے گی۔
تجزیہ کار کے مطابق اس ملاقات میں سب سے پہلے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کی ضمانت زیرِ بحث آئے گی، جبکہ اس کے بعد مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی توسیع کا معاملہ اہم ہوگا۔ اس کے علاوہ غزہ کی تازہ صورتحال، ہتھیاروں کے معاہدے اور دیگر سکیورٹی معاملات بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔
بہاء محمود کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل پر کسی حقیقی دباؤ کا امکان نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق غزہ میں بھاری جانی نقصان، فلسطینی عوام کی تباہی اور علاقے کی تعمیر نو نہ تو نتن یاہو کی ترجیح ہے اور نہ ہی امریکی قیادت کی۔ اسرائیل کا بنیادی ہدف زیادہ سے زیادہ سیاسی و جغرافیائی فوائد حاصل کرنا، آبادکاری کو جاری رکھنا اور غزہ کے باسیوں کو بے دخل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی رہنما مروان برغوثی کی ممکنہ رہائی بھی ایک حساس معاملہ ہے، کیونکہ وہ صرف حماس نہیں بلکہ پوری فلسطینی جدوجہد کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی رہائی پورے سیاسی منظرنامے کو بدل سکتی ہے، مگر یہ معاملہ بھی امریکہ کی ترجیحات میں شامل نہیں۔
تجزیے کے مطابق غزہ کی جغرافیائی حیثیت بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع ایک اسٹریٹجک راستہ ہے جو مقبوضہ علاقوں کو عرب دنیا سے جوڑتا ہے۔ اسی لیے اسرائیل جنگ بندی پر عملدرآمد کے بجائے غزہ میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کو زیادہ اہم سمجھتا ہے۔
بین الاقوامی افواج کی تعیناتی کے حوالے سے بہاء محمود کا کہنا ہے کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ غزہ میں اصل کنٹرول اسی کے ہاتھ میں رہے اور عالمی فورسز محض علامتی کردار ادا کریں۔ موجودہ غیر یقینی حالات میں کوئی بھی ملک اپنے فوجیوں کو ایسے علاقے میں بھیجنے پر آمادہ نہیں جہاں جنگ بندی کی ضمانت تک موجود نہ ہو۔
اطلاعات کے مطابق بنیامین نتن یاہو 28 دسمبر کو واشنگٹن کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی ملاقاتیں خطے کے مستقبل پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔


مشہور خبریں۔
بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد کو 10 لاکھ روپے تک کے قرضے دینے کا فیصلہ
?️ 5 فروری 2025لاہور: (سچ خبریں) پرائم منسٹر یوتھ اسکیم کے تحت بیرون ملک روزگار
فروری
قطر: جنگ بندی کے بغیر دو ریاستی حل کانفرنس کی قراردادیں کاغذ کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں
?️ 25 ستمبر 2025سچ خبریں: قطر کی وزارت خارجہ کے وزیر کے مشیر نے کہا:
ستمبر
فیض آباددھرناکیس: کمیشن نے سابق سربراہ آئی ایس آئی فیض حمید کو طلب کرلیا
?️ 29 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) فیض آباد دھرنا کیس میں تحقیقاتی کمیشن نے
دسمبر
اسرائیلی فوج بائیڈن کے منصوبے کے حق میں اور کابینہ مخالف کیوں ہے ؟
?️ 3 جون 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے چینل 14 کی رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ
جون
ہر دس منٹ میں ایک یمنی بچہ مررہا ہے:اقوام متحدہ کے سکریڑی جنرل
?️ 1 مارچ 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے آج یمن کی امداد کرنے
مارچ
سندھ میں ہنگامی صورتحال نہیں، تیاری مکمل ہے، کچے سے لوگوں کو نکال رہے ہیں، شرجیل میمن
?️ 28 اگست 2025کراچی: (سچ خبریں) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا
اگست
شہداء کے لواحقین سے ملاقات کے لئے کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی
?️ 9 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سانحہ
دسمبر
امریکہ کا سب سے بڑا معاشی ہتھیار بیکار
?️ 29 دسمبر 2022سچ خبریں: فارن افیئرز میگزین نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے
دسمبر