لبنان میں جعلی سعودی شہزادے کے اعترافات،بڑے سیاسی و مالی فراڈ کیس کا انکشاف

?️

لبنان میں جعلی سعودی شہزادے کے اعترافات، بڑے سیاسی و مالی فراڈ کیس کا انکشاف

لبنان کے ٹیلی وژن چینل الجدید نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مصطفی حسیان نامی شخص، جو خود کو سعودی شہزادہ ظاہر کرتا تھا، لبنان کے سب سے بڑے سیاسی و مالی فراڈ کیسز میں اپنے کردار کا اعتراف کرتا نظر آ رہا ہے۔ یہ شخص جعلی شناخت اور سعودی شاہی خاندان سے قربت کے دعوے کے ذریعے متعدد بااثر شخصیات کو دھوکہ دینے میں ملوث رہا۔

روسیہ الیوم کے حوالے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ویڈیو میں مصطفی حسیان، جو ابو عمر کے نام سے جانا جاتا تھا، اعتراف کرتا ہے کہ اس نے شیخ خلدون عریمط کی ہدایت پر خود کو سعودی شہزادہ ظاہر کیا۔ چینل الجديد کے مطابق، اس کی شمالی لبنان کے علاقے وادی خالد سے تعلق اور بدوی لہجے پر عبور نے اسے اس کردار کو کامیابی سے نبھانے میں مدد دی۔

یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب انکشاف ہوا کہ جعلی شہزادے نے سعودی عرب میں اثر و رسوخ کا دعویٰ کرتے ہوئے متعدد لبنانی سیاست دانوں کو وزارتوں اور پارلیمانی عہدوں کا لالچ دیا اور اس کے بدلے مالی فوائد حاصل کیے۔

لبنانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، شیخ خلدون عریمط نے لبنان میں سعودی عرب کی محدود سفارتی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور فون کے ذریعے ’’ابو عمر‘‘ کو سعودی شاہی دربار سے قریبی شخصیت کے طور پر متعارف کرایا۔

تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ابو عمر درحقیقت عکار کا رہائشی مصطفی حسیان تھا، جو پیشے کے اعتبار سے گاڑیوں کے لوہے کا کام کرتا تھا اور خلیجی لہجے کی مہارت سے نقل کرتا تھا۔

تازہ پیش رفت میں چینل الجديد نے بتایا ہے کہ شیخ خلدون عریمط کے علاوہ شیخ خالد السبسبی اور دو دیگر افراد کو بھی اس کیس میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید برآں، تفتیش کے لیے طلب کیے گئے افراد کی فہرست طویل ہے، جس میں لبنانی پارلیمنٹ کے رکن محمد سلیمان سرفہرست ہیں۔

ذرائع کے مطابق، سابق وزیر اعظم فواد سنیوره اور دیگر سیاسی شخصیات سے بھی تفتیش متوقع ہے۔ چینل الجديد کا کہنا ہے کہ شیخ عریمط سے ہونے والی تحقیقات دو اہم پہلوؤں  مالی اور سیاسی  پر مرکوز ہیں۔

اس معاملے پر سابق لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کے میڈیا دفتر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے چینل الجديد کی رپورٹ کو جھوٹ اور بہتان قرار دیا ہے۔ بیان میں سعد حریری کی جانب سے ابو عمر نامی شخص سے ابوظہبی یا کسی اور مقام پر کسی بھی قسم کی براہ راست یا بالواسطہ ملاقات یا رابطے کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ میں پیش کیے گئے دعوے بے بنیاد، غیر پیشہ ورانہ اور حقیقت سے عاری ہیں۔ سعد حریری کے میڈیا دفتر نے خبردار کیا کہ اس قسم کی افواہوں اور جھوٹی معلومات کی اشاعت خطرناک نتائج کی حامل ہو سکتی ہے اور اس کی مکمل ذمہ داری چینل الجديد پر عائد ہوتی ہے۔

دفتر نے چینل سے عوامی معافی، فوری اصلاح اور سعد حریری کے نام کو مبینہ کردار کشی کی مہمات سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ان الزامات کے پسِ پردہ افراد کے خلاف تمام قانونی اقدامات کا حق محفوظ رکھا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

مغرب اپنے مقاصد کے لیے اسلام اور عیسائیت کو بدل رہا ہے: میدویدیف

?️ 14 جون 2024سچ خبریں:روسی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ دیمتری میدویدیف نے ایک مضمون

جوڈیشل کمپلیکس پیشی: توہین عدالت کی درخواست پر عمران خان کو نوٹس جاری

?️ 22 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی

نیتن یاہو کے نئے ایڈونچر پر اسرائیل کو کتنا خرچہ آئے گا؟

?️ 21 مارچ 2025سچ خبریں: صیہونی ٹی وی چینل 12 کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل

افغانستان زلزلے پر سروسز چیفس کا اظہار افسوس

?️ 22 جون 2022راولپنڈی (سچ خبریں) آرمی چیف اور سروسز چیفس نے افغانستان میں زلزلے

ہم غزہ میں دشمن قوتوں کے بے صبری سے منتظر ہیں

?️ 25 اکتوبر 2023سچ خبریں:اسلامی جہاد فلسطین کی عسکری شاخ سرایا القدس کے ترجمان ابو

تائیوان چینی لڑاکا دستوں کی چالوں میں گرفتار

?️ 27 اگست 2022سچ خبریں:    تائیوان کی وزارت دفاع نے ہفتہ کے روز تائیوان

سیاستدانوں کے غلط رویوں کی وجہ سے پارلیمنٹ بے معنی ہوگئی، مولانا فضل الرحمٰن

?️ 15 جنوری 2025لاہور: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ

کیا ٹرمپ اب بھی نیتن یاہو کا بہترین دوست ہے؟

?️ 29 دسمبر 2025 کیا ٹرمپ اب بھی نیتن یاہو کا بہترین دوست ہے؟ عبری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے