لبنان اور شام میں ٹرمپ کا ہر منصوبہ ناکام

لبنان

?️

سچ خبریں: اسرائیلی اخبار "ہاآرتص” کے سینئر تجزیہ کار تسفی بارئیل نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ امریکہ کے ترکی میں سفیر اور شام و لبنان کے لیے خصوصی ایلچی ٹام باراک نے اعتراف کیا ہے کہ لبنان اور شام کے معاملات میں امریکہ کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ 
باراک نے کہا کہ ہم اسرائیل کے خلاف کوئی دباؤ یا خطرہ پیدا نہیں کر رہے، بلکہ صرف اپنی مرضی سے مسائل کے حل کی کوشش کر رہے ہیں۔
باراک نے اپنے اس دورے کو اس ہفتے لبنان میں اختتام تک پہنچایا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کے معاملے پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
78 سالہ باراک ایک کامیاب سرمایہ کار ہیں جن کا سیاسی اور سفارتی کیریئر کافی متنوع ہے۔ وہ امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن کے قریبی سمجھے جاتے ہیں اور ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں سے گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔ اب وہ ترکی، شام اور لبنان کے درمیان سفارتی مشن پر ہیں، لیکن یہ دورہ بظاہر مایوس کن ثابت ہو رہا ہے۔
لبنان میں باراک کی ناکامی:
باراک کے آباؤ اجداد 1900 میں لبنان سے امریکہ ہجرت کر گئے تھے، اور 125 سال بعد ان کا پوتا اپنے آبائی وطن کو "منظم” کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ہفتے باراک نے لبنان کا اپنا تیسرا دورہ کیا، لیکن اس بار ان کی زبان دھمکیوں اور وعدوں سے بھرپور تھی۔ انہوں نے 19 جون کو لبنانی حکام کو ایک فہرست پیش کی جس میں حزب اللہ کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ اقتصادی اصلاحات، حزب اللہ سے وابستہ مالی اداروں کی بندش اور سرحدی گزرگاہوں پر سخت کنٹرول جیسی شرائط بھی رکھی گئیں۔
بدلے میں، امریکہ نے لبنان کو غیر ملکی سرمایہ کاری اور تعمیر نو میں مدد کا وعدہ کیا۔ تاہم، لبنانی صدر میشل عون نے جواباً اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ قرارداد 1701 پر عمل کرے اور لبنان کے پنج مقامات سے اپنی فوجیں واپس بلائے۔ حزب اللہ نے بھی اعلان کیا کہ جب تک اسرائیل لبنانی زمین پر قابض ہے، وہ اپنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
امریکہ کی دوغلی پالیسی:
باراک نے ابتدا میں لبنان کو دو ماہ کی ڈیڈ لائن دی تھی، لیکن بعد میں کہا کہ کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ہے، یہ لبنان کا داخلی معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لبنان ضروری اقدامات نہیں کرتا تو امریکہ اس عمل سے دستبردار ہو جائے گا۔
ہاآرتص کے تجزیہ کار کے مطابق، باراک کے متضاد بیانات سے امریکی پالیسی کی سمت واضح نہیں ہوتی۔ کیا واقعی کوئی ٹائم ٹیبل ہے یا یہ محض لبنان کا داخلی معاملہ ہے؟ کیا امریکہ حل تلاش کرنے میں مدد کر رہا ہے یا صرف دھمکیاں دے رہا ہے؟ کیا اسرائیل لبنان میں کچھ بھی کرنے کے لیے آزاد ہے؟
شام میں بھی امریکہ بے بس:
شام میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، اور امریکہ خود کو انہیں روکنے سے قاصر پا رہا ہے۔ تسفی بارئیل حیران ہیں کہ جو باراک کچھ ہفتے پہلے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ روکنے کا دعویٰ کر رہے تھے، آج وہ لبنان اور شام میں کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟
ان کا نتیجہ یہ ہے کہ شام اور لبنان امریکہ کی علاقائی سفارت کاری کی ناکامی کی واضح مثالیں ہیں۔ دونوں ممالک میں امریکہ کا ہدف ایک مضبوط اور اتحادی حکومت قائم کرنا تھا جو مزاحمتی گروہوں کو کچل کر امریکہ کو براہ راست مداخلت سے بچائے، لیکن یہ منصوبہ ناکام ہو چکا ہے۔

مشہور خبریں۔

کیا امریکہ واقعی نیجریہ پر حملے کی تیاری کر رہا ہے؟

?️ 10 نومبر 2025سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیجریہ پر ممکنہ حملے کی دھمکی

اسرائیلی جنگی کابینہ میں تناؤ؛ سموٹریچ نے بیروت کی بڑے پیمانے پر تباہی کا مطالبہ کر دیا

?️ 25 مئی 2026سچ خبریں: تل ابیب کی حزب اللہ کے ڈرونز کو روکنے میں

ایرانی صدر کی حلف برداری کی تقریب اور عالمی میڈیا

?️ 3 اگست 2021سچ خبریں:دنیا بھر کے مختلف ذرائع ابلاغ نے بڑے پیمانے پر آج

اردن کا ایران سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی راہ حل پر زور

?️ 26 فروری 2026اردن کا ایران سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی راہ

ایران اور پاکستان کے سفارتی تعلقات میں نئی پیش رفت، تعلقات کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم

?️ 13 دسمبر 2025 ایران اور پاکستان کے سفارتی تعلقات میں نئی پیش رفت، تعلقات

افغان صدر کی طالبان کو کھلی دھمکی

?️ 14 جولائی 2021سچ خبریں:افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کو دھمکی دیتے ہوئے

صیہونی اہداف کے خلاف ایران کے دفاعی حملوں کے بارے میں وزارت خارجہ کا بیان

?️ 8 جون 2026سچ خبریں: بیانیہ وزارت خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران جو صیہونی حکومت کے

ایپسٹین کیس کے خوف سے برطانوی شاہی خاندان اور حکومت شدید دباؤ میں

?️ 7 فروری 2026ایپسٹین کیس کے خوف سے برطانوی شاہی خاندان اور حکومت شدید دباؤ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے