فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے قانون پر عالمی ردعمل

فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت

?️

سچ خبریں:صیہونی پارلیمنٹ میں فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کی منظوری پر حماس، جہاد اسلامی اور دیگر مزاحمتی گروہوں کا سخت ردعمل، جبکہ یورپی ممالک اور عالمی اداروں نے بھی اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی اسرا کے لیے سزائے موت کے قانون کے مسودے کی منظوری پر مزاحمتی گروہوں کے شدید ردعمل اور یورپی ممالک کی مخالفت سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جہاد اسلامی موومنٹ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ حالیہ منظوری اس بات کا ثبوت ہے کہ صیہونی نظامِ عدل ایک سیاسی انتقامی بازو میں تبدیل ہو چکا ہے۔

جہاد اسلامی نے اس اقدام کو جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کے سنگین نتائج سے خبردار کیا اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قانون کے خاتمے اور اسرا کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسرائیل پر دباؤ بڑھائیں۔

فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کو سزائے موت کا قانون قابضین کے خونریز چہرے اور مجرمانہ فطرت کو بے نقاب کرتا ہے اور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قتل و غارت کی سوچ اس حکومت کے ڈھانچے میں جڑ پکڑ چکی ہے۔

حماس نے مزید کہا کہ عالمی برادری فوری اقدامات کرے تاکہ فلسطینی اسرا کی جانوں کو صہیونی قابضین کی بربریت سے محفوظ بنایا جا سکے۔

فلسطین کی آزادی کے لیے عوامی تحریک نے اس فیصلے کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے اسے ایک مجرمانہ زوال قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام بارود کے ڈھیر کو چنگاری دینے کے مترادف ہے جو خطے میں سیاسی و سیکیورٹی زلزلہ برپا کر سکتا ہے۔

فلسطینی اسرا کے اطلاعاتی دفتر نے بھی صہیونی پارلیمنٹ میں اس قانون کی حتمی منظوری کی مذمت کرتے ہوئے اسے قابض رژیم اور اس کے جیل حکام کی جانب سے فلسطینی اسرا کے خلاف بدترین درندگی قرار دیا۔

اس ادارے نے اس اقدام کے تمام نتائج کی ذمہ داری تل ابیب پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ سزائے موت کا حکم درحقیقت سب سے زیادہ بنیامین نیتن یاہو کا حق ہے، جو انسانیت کے خلاف جرائم کی نمایاں علامت سمجھے جاتے ہیں۔

فلسطینی اسرا کے لیے سزائے موت کے قانون کی منظوری پر عالمی سطح پر بھی شدید مذمت سامنے آئی ہے۔

مصر کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ اس قانون کی منظوری ایک نہایت خطرناک کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔

جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ نے ایک مشترکہ بیان میں اس اقدام کو فلسطینیوں کے خلاف کھلی امتیازی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے قانون کی منظوری تل ابیب کی جمہوری اصولوں سے وابستگی کے دعوے کو مکمل طور پر مشکوک بنا دیتی ہے۔

اسی دوران مقبوضہ علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی اس قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے صہیونی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس امتیازی قانون کو منسوخ کرے۔

اس بین الاقوامی ادارے نے زور دیا کہ یہ قانون نہ صرف ظالمانہ اور توہین آمیز سزاؤں کی ممانعت کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ اس حکومت کی نسلی امتیاز اور نسل کشی پر مبنی پالیسیوں کی بھی توثیق کرتا ہے۔

بین الاقوامی دباؤ کے باوجود صہیونی حکوم کے وزیر داخلہ سیکیورٹی ایتمار بن گویر نے گستاخانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تل ابیب کبھی بھی یورپی یونین کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنے بقول مقبوضہ علاقوں کے باشندوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

مشہور خبریں۔

میں شی جِن پِنگ کو پسند کرتا ہوں، لیکن ان کے ساتھ مذاکرات کرنا مشکل ہے: ٹرمپ

?️ 5 جون 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم

تحریک انصاف ووٹوں سے اقتدارمیں آئی ہے،2023 سے پہلے الیکشن نہیں ہوں گے: گورنر پنجاب

?️ 23 مئی 2021لاہور ( سچ خبریں) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے

دوحہ میں عرب اور اسلامی سربراہی کا ہنگامی اجلاس، تل ابیب کی جارحیت کی مذمت

?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: قطر کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ

بن گویر کا متنازعہ بیان؛ غزہ کو صرف ایک چیز بھیجنی چاہیے — بم!

?️ 29 جولائی 2025سچ خبریں:  اسرائیلی وزیر داخلہ امنیت ایتامر بن گویر نے غزہ پٹی کو

پڑھے لکھے لوگوں نے کس جماعت کو ووٹ دیا؟ سروے نتائج میں تفصیلات سامنے آگئیں

?️ 10 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک میں 8 فروری کو ہوئے عام انتخابات کے حوالے

دو سالہ جنگ کے باوجود حماس کی فوجی طاقت برقرار

?️ 21 اکتوبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی میڈیا کے مطابق، غزہ پٹی پر جنگ شروع ہونے کے

سعودی اتحاد دو ہزار سے زائد قیدیوں کے تبادلے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے:یمن

?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں:یمنی قیدیوں کی نگراں قومی کمیٹی کے سربراہ نے اعلان کیا

انصار اللہ: امارات عرب اقوام کے خلاف ایک امریکی صیہونی آلہ کار ہے

?️ 30 اکتوبر 2025سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ تحریک کے رکن محمد الفرح نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے