غزہ نے تل ابیب کے فوجی و سیاسی مقاصد ناکام بنا کر تاریخی کامیابی حاصل کی

غزہ

?️

غزہ نے تل ابیب کے فوجی و سیاسی مقاصد ناکام بنا کر تاریخی کامیابی حاصل کی
اردن کے معروف عسکری تجزیہ نگار نضال ابوزید نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام اور مزاحمتی قوتوں نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں استقامت دکھا کر ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، جس نے تل ابیب کے فوجی اور سیاسی اہداف کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔
خبر رساں ادارے شہاب کے مطابق، ابوزید نے کہا کہ غزہ نے دو سال سے زائد جاری رہنے والی اس جنگ میں جو کچھ حاصل کیا، وہ فلسطینی تاریخ کا ایک غیر معمولی سنگِ میل ہے۔ سات سو تیس دن سے زائد مزاحمت اور عوامی یکجہتی نے اسرائیلی منصوبوں کو ناکام بنا کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے اپنی تمام عسکری طاقت اور تباہ کن ہتھیاروں کے باوجود اپنے مقاصد حاصل نہیں کیے۔ غزہ کی عوامی استقامت اور مزاحمتی قوتوں نے صہیونی حکومت کے سیاسی و فوجی عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
ابوزید کے مطابق، فلسطینی عوام نے ایک ایسی فوج کا مقابلہ کیا جسے دنیا میں اٹھارویں بڑی فوج سمجھا جاتا ہے اور جو ایٹمی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے گریٹر اسرائیل کے اس منصوبے کو، جو نیتن یاہو کی سوچ کا حصہ تھا، مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔
نضال ابوزید نے کہا کہ غزہ کے اندرونی اتحاد اور مزاحمت کے عوامی پشت پناہ ہونے نے دشمن کو کسی بھی اندرونی کمزوری یا دراڑ کا موقع نہیں دیا۔ ان کے مطابق، مزاحمت کی کامیابی صرف عسکری نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی بھی ہے۔
انہوں نے کہا درختوں کو کاٹا جا سکتا ہے، انسانوں کو شہید کیا جا سکتا ہے، مگر فکر اور نظریہ کبھی نہیں مرتا۔ یہی سوچ غزہ کی مزاحمت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
اس تجزیہ نگار کے مطابق، غزہ جنگ سے نابلد نہیں۔ سن 2008 سے اب تک وہ پانچ بڑی جنگیں لڑ چکا ہے، یعنی اوسطاً ہر تین سال بعد ایک نئی جنگ۔ لہٰذا 7 اکتوبر کی جنگ کوئی غیر متوقع واقعہ نہیں تھی بلکہ غزہ کی مزاحمتی تاریخ کا تسلسل تھی، جس نے ایک نئی فلسطینی تحریکِ مزاحمت کو جنم دیا ہے جو غربِ اردن اور غزہ دونوں میں اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے سرگرم ہے۔
ابوزید نے مزید کہا کہ غزہ کے عوام نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مزاحمت کی اصل طاقت ہیں۔ صرف چند مفاد پرست عناصر دشمن کے ساتھ کھڑے ہوئے، لیکن اسرائیلیوں نے بھی انہیں مسترد کر دیا، کیونکہ غدار کسی کے نہیں ہوتے۔
انہوں نے زور دیا کہ آئندہ مرحلے میں توجہ غزہ کے عوام پر ہونی چاہیے جنہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمت کا قلعہ ہیں۔
دریں اثنا، ایرنا کے مطابق، حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا پہلا مرحلہ جمعہ کو دوپہر ۱۲ بجے (وقتِ قدس) نافذ ہوا۔ اسرائیلی کابینہ نے اس کی منظوری اسی روز صبح دی تھی۔

مشہور خبریں۔

ہم مسجد اقصیٰ میں یہودی خزعبلات کو پھانسی کی اجازت نہیں دیں گے: ہنیہ

?️ 22 مئی 2022سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی استقامتی تحریک حماس نے آج اتوار کو

ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی شکست 

?️ 11 مئی 2026 سچ خبریں:رسالہ اٹلانٹک نے لکھا ہے کہ امریکہ عملاً ایران کے

یورپ سے امریکی فوجی انخلا؛ واشنگٹن کے لیے ایک مشکل چیلنج

?️ 25 جون 2025سچ خبریں: یورونیوز ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی ویب سائٹ نے اپنی

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں اضافہ کردیا۔

?️ 7 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید 125 بیسز پوائنٹس

ایمان مزاری کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف شکایت ہراسمنٹ کمیٹی میں جمع

?️ 15 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر

رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 21 سے 23 فیصد کے درمیان برقرار رہنے کا خدشہ

?️ 31 دسمبر 2022سچی خبریں:(سچ خبریں) ملکی معیشت کو درپیش سنگین صورتحال سے متنبہ کرتے

صوبے سیاسی نہیں، حقوق کی بنیاد پر بننے چاہئیں۔ گورنر خیبرپختونخوا

?️ 24 دسمبر 2025پشاور (سچ خبریں) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے

غیر سنجیدہ مقدمات عدالتوں کے بوجھ میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، سپریم کورٹ

?️ 27 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے بدنیتی، اشتعال انگیزی اور قیاس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے